Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: ’کسانوں پر تشدد سے جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے‘

کانگریس نے کسانوں کے حوالے سے قوانین کی شدید مخالفت کی ہے (فوٹو: بزنس انسائڈر)
انڈیا کی کئی ریاستوں میں کسان مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کر رہے ہیں کیونکہ حال ہی میں پارلیمان کے مون سون اجلاس میں بی جے پی حکومت نے ملک میں زراعت کے متعلق کئی بلوں کو منظور کیا ہے۔
حزب اختلاف، خاص طور پر کانگریس نے ان قوانین کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے کسان مخالف بتایا ہے۔ ان کی مخالفت کے بعد حکومت نے فصلوں کی کم سے کم امدادی قیمت یعنی ایم ایس پی میں اضافے کا فیصلہ کیا۔
اس کے لیے گذشتہ روز کابینہ کی اقتصادی معاملات کی کمیٹی نے اس کے متعلق منظوری دی ہے اور وزیر زراعت نے ربیع کی چھ فصلوں کے لیے نئے ایم ایس پی کا اعلان کیا ہے۔

 

حکومت کا کہنا ہے کہ آزادی کے بعد سے زراعت کے شعبے میں کی جانے والی یہ سب سے بڑی اصلاح ہے لیکن حزب اختلاف کے ساتھ بی جے پی کی اتحادی پارٹی اکالی دل نے بھی اس کی مخالفت کی ہے اور ان کی ایک وزیر اور اکالی رہنما  ہرسمرت کور بادل نے تو اس معاملے پر گزشتہ دنوں اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے لیے پہلے کسانوں کے مفادات ہیں اور پھر ان کا اتحاد آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت میں ہر سطح پر انھوں نے کسانوں کے خدشات پیش کیے لیکن زبانی یقین دہانی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔
گذشتہ ہفتے بی جے پی حکومت نے ضروری اشیا (ترمیم) بل 2020 کو منظور کیا جبکہ جمعرات کو حکومت نے مزید دو بلوں 'کسانوں کی پیداوار اور تجارت (فروغ اور سہولیات) بل 2020 اور کسان (بااختیار اور تحفظ) قیمتوں کی یقین دہانی کے معاہدے اور زرعی سروسز بل 2020 کو منظور کیا۔
ان تینوں بلوں کی شدید مخالفت کے دوران گذشتہ روز وزیراعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کیا کہ 'بڑھی ہوئی ایم ایس پی کسانوں کو مضبوط کرے گی۔ ان کی آمدنی کو دگنا کرنے میں مدد کرے گی۔ پارلیمان میں منظور زراعتی اصلاحات کے قوانین کے ساتھ ایم ایس پی میں اضافہ کسانوں کے وقار اور خوشحالی میں اضافے کی یقین دہانی کرائے گا۔ جے کسان۔'
حکومت کی بار بار یقین دہانی کے باوجود پنجاب اور ہریانہ میں کسان پریشان ہیں اور اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ گذشتہ روز اس احتجاج کا دائرہ بڑھا ہوا نظر آیا اور یہ بی جے پی کی حکومت والی اہم ریاست مدھیہ پردیش میں بھی نظر آیا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں پارلیمان سے زراعت کے شعبے میں تین اصلاحات منظور کی گئی ہیں جس کے خلاف کسان عالمی وبائی مرض کورونا کے دوران بھی سڑکوں پر مظاہرے کے لیے مجبور ہوئے۔
اس سے قبل کسان یونین نے ہریانہ میں بی جے پی کی حکومت سے مظاہرے کی اجازت طلب کی تھی لیکن حکومت نے کورونا وبائی مرض کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی اجازت سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے باوجود ایک سو سے زیادہ کسان ٹریکٹروں پر مظاہرے کے لیے نکل پڑے تھے اور انھوں نے 'کسان بچاؤ، منڈی بچاؤ' کا نعرہ دیا تھا۔
انڈیا میں کسان اور منڈی کا تعلق چولی دامن کا ہے۔ آزادی سے قبل منڈیوں پر ساہوکاروں کا قبضہ ہوتا تھا جس میں اصلاح کی گئی اور کسان منڈیوں میں اپنی فصل لا کر بیچنے لگے اور وہاں حکومت کا ایک قسم کا کنٹرول ہوا۔ اب کسانوں کو یہ خوف ہے کہ اگر منڈیاں حکومت کے ہاتھ سے نکل کر نجی شعبے میں چلی جاتی ہیں تو انھیں پرانی دقتوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ اس بل کی وجہ سے کسانوں کی اراضی کارپوریٹ کمپنیوں کے قبضہ میں چلی جائے گی (فوٹو: اے ایف پی)

کسان (امپاورمنٹ اینڈ پروٹیکشن) پرائس انشورنس اور زرعی خدمات کے متعلق معاہدے کے سنہ 2020 کے بل کے تحت زراعت کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس بل کے تحت کاشتکار مخصوص فصل اگانے کے لیے کسی کمپنی سے پانچ سال کا معاہدہ کر سکتے ہیں۔
جبکہ حزب اختلاف کا دعوی ہے کہ اس بل کی وجہ سے کسانوں کی اراضی کارپوریٹ کمپنیوں کے قبضہ میں چلی جائے گی۔
انڈین میڈیا کے مطابق کسانوں کی سب سے بڑی کہی جانے والی تنظیم بھارتیہ کسان یونین نے زراعت کے شعبے میں ترمیمی قانون کے خلاف 25 ستمبر کو ملک گیر پیمانے پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب کانگریس نے انڈیا کے روح رواں مہاتما گاندھی اور کسانوں اور فوج  کے لیے 'جے جوان، جے کسان' کا نعرہ دینے والے وزیر اعظم لال بہادر شاشتری کے دو اکتوبر کو یوم پیدائش کے موقعے سے لے کر 31 اکتوبر تک ملک گیر سطح پر لوگوں کو اس کے متعلق بیدار کرنے کی مہم کا اعلان کیا ہے۔
کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ 'جیسا کہ اے کے انتھونی جی، احمد پٹیل جی اور کے سی وینو گوپال جی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر پارلیمانی جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے اور گلیوں میں کسانوں کو لاٹھیوں سے پیٹ کر جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔ کھیتوں اور کھلیانوں، گلیوں اور بازاروں میں مزدوروں اور کسانوں کا روزگار چھینا جارہا ہے اور پارلیمنٹ کے اندر ان کے نمائندوں کی آواز دبائی جارہی ہے۔ نریندر مودی کی حکومت ایک اسیر حکومت بن چکی ہے۔ پہلے نوٹ بندی کی، پھر جی ایس ٹی لا کر تجارت کو بند کیا، پھر لاک ڈاؤن لگا کر ملک کو بند کیا، اور اب کھیت اور کھلیان کو بند کرنے کی تیاری ہے۔ لیکن کانگریس پارٹی نے محترمہ سونیا گاندھی اور مسٹر راہل گاندھی کی ہدایت پر ایک جامع عوامی تحریک تیار کی ہے۔'
معروف وکیل اور کانگریس کے ترجمان شیر گل نے 'آؤٹ لک' میں شائع اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ 'کسانوں کے متعلق اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے بی جے پی حکومت انڈیا کو زمینداری دور میں لے جا رہی ہے۔ یہ قوانین نہ تو معاشی طور پر اور نہ ہی سیاسی طور پر قابل عمل ہیں۔'

شیئر: