Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرب آرٹسٹس کی آسکر ایواڑدز میں شرکت کے یادگار لمحات

عرب فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے اداکار، ہدایتکار اور پروڈیوسرز کو ہالی وڈ کے سب سے معتبر آسکر ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ بھی عرب فلمیں عالمی ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ 
حال ہی میں بین الاقوامی ویڈیو سٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس نے بھی چھ سعودی ایوارڈ یافتہ فلمیں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عرب آرٹسٹس یا ان کی فلموں کو چھ مرتبہ آسکر کے لیے نامزد کیا گیا یا پھر انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ یادگار لمحات دیکھیے عرب نیوز کی ان تصاویر میں۔ 

سنہ 2017 میں الجیریا کی اداکارہ صوفیا بوتیلا کی فلم ’سٹار ٹریک: بیونڈ‘ آسکر کے لیے نامزد ہوئی تھی۔ 89 ویں اکیڈمی ایوارڈ کے موقع پر صوفیا بوتیلا نے فرانسیسی ڈیزائنر شینل کا لباس پہنے ریڈ کارپٹ پر شرکت کی تھی۔

مصری نژاد امریکی اداکار رامی ملک کو آسکر ایوارڈز 2019 میں فلم ’بوہیمین ریپسوڈی‘ میں اداکاری پر بہترین ایکٹر ٹرافی کا ایوارڈ ملا تھا۔ رامی ملک یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے اداکار ہیں۔

2017 کے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والی فلم ’وطنی: میرا وطن‘ شام کے مہاجرین کی تکلیف اور غیر مستحکم مستقبل پر بنائی گئی ہے۔ شامی خاتون حالا کامل جن کے کردار پر فلم بنائی گئی تھی انہوں نے بھی ریپ کارپٹ پر شرکت کی۔

شام سے تعلق رکھنے والے ہدایتکار فیراس فاید کی دستاویزی فلم ’دا کیوو‘ 2018 کے آسکرز کے لیے نامزد ہوئی تھی۔

مصر کی سپر سٹار یصریٰ نے آسکڑ ایوارڈ میں شرکت کے لیے لبنان کے ڈیزائنر زہیر مراد کا لباس ملبوس کیا تھا۔ اس لباس کو مکمل کرنے میں ڈیزائنر کو 600 گھنٹے لگے تھے۔

لبنانی ہدایتکارہ اور ادکارہ ندینی لباکی کی فلم ’کاپر نایم‘ کو سنہ 2019 میں آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

شیئر: