Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پناہ گزینوں کا عالمی دن: گزشتہ دہائی میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد دُگنی

پاکستان میں یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق 14 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ برس کورونا وائرس کی وبا کے باوجود جنگوں اور تنازعات کے باعث اپنا گھر چھوڑنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور دنیا میں پناہ گزینوں کی تعداد آٹھ کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں جنگوں، تنازعات اور جبر کے باعث بے گھر ہونے اور عارضی کیمپوں میں پناہ لینے والے افراد کی تعداد دگنی ہوئی ہے۔
ادارے کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2020 میں 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق شام، افغانستان، صومالیہ اور یمن میں جاری تنازعات نے شہریوں کو اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور کیا جبکہ ایتھوپیا اور موزمبیق میں بھی بحران کے باعث مقامی آبادی بے گھر ہوئی۔
یو این ایچ سی آر کے سربراہ فیلیپو گرانڈی نے اے ایف پی کو بتایا کہ عالمی وبا کورونا کے باعث معیشت سمیت ہر شے رُک گئی تھی لیکن جنگوں، تنازعات، تشدد، ظلم و ستم اور امتیازی سلوک ایسے عوامل تھے جن کے باعث لوگوں کی ہجرت جاری رہی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق سنہ 2020 کے اختتام پر دنیا میں آٹھ کروڑ 24 لاکھ افراد پناہ گزینوں کے طور پر زندگی گزار رہے تھے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو سیاسی پناہ کے متلاشی یا اپنے ہی ملکوں میں دربدر ہیں۔
سنہ 2011 میں عالمی پناہ گزینوں کی تعداد چار کروڑ تھی اس طرح گزشتہ دس برسوں میں بے گھر ہو جانے والے افراد کی تعداد دوگنا ہو گئی ہے۔

ترکی اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ 37 لاکھ پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جن میں بڑی تعداد پڑوسی ملک شام کی جنگ سے متاثرہ ہے۔
پاکستان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق 14 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔
یوگنڈا نے 14 لاکھ جبکہ جرمنی نے 12 لاکھ پناہ گزینوں کو رہائش دے رکھی ہے۔

شیئر: