Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغانستان کا میڈیا طالبان کی حکمرانی میں کیسے کام کرے گا؟

طلوع ٹی وی کے سی ای او سعد محسنی نے کہا کہ ’میں سوچ رہا ہوں کہ انتظار کیا جائے اور دیکھا جائے (فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان کے مقبول ترین نجی ٹی وی چینل نے طالبان کے قبضے کے بعد رضاکارانہ طور پر ترکی کے ڈراموں اور موسیقی کے پروگرامز کے جگہ روایتی پروگرامز نشر کرنا شروع کر دیے ہیں۔
طالبان نے مبہم ہدایات جاری کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کو ایسے پروگرام نہیں پیش کرنے چاہیں جو اسلامی اقدار اور قومی مفاد کے خلاف ہوں۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پھر بھی کچھ آزاد نیوز چینل خواتین کو کام کا موقع دے رہے ہیں اور طالبان کی جانب سے دیے گئے آزادی کے حدود کو ٹیسٹ کر رہے ہیں۔
طالبان نے ماضی میں صحافیوں کو قتل کیا ہے، لیکن اگست میں افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ایک کھلے اور شراکت داری پر مبنی نظام کا وعدہ کیا ہے۔
دنیا دیکھ رہی ہے کہ طالبان افغانستان پر کس طریقے سے حکومت کریں گے اور ایسے میں ان کا میڈیا اور خواتین کے ساتھ سلوک خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اپنے گذشتہ دور حکومت میں طالبان نے لڑکیوں کے سکول جانے اور خواتین کے کام کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔
اب طالبان اس حوالے سے اپنا نرم موقف پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگست میں افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے دو روز بعد طالبان کے ایک عہدیداد  طلوع نیوز کے دفتر گئے۔ انہوں نے خاتون اینکر بہشتہ ارغند کو انٹرویو بھی دیا۔
نیوز اینکر نے اے پی کو بتایا کہ وہ طالبان رہنما کو سٹوڈیو میں دیکھ کر نروس ہو گئی تھیں، لیکن ان کے رویے اور سوالوں کے جوابات سے انہوں نے کچھ آسانی محسوس کی۔
’میں نے خود سے کہا کہ دنیا کو یہ دکھانے کا اچھا موقع ہے کہ خواتین پیچھے نہیں جانا چاہتیں بلکہ آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔‘
بہشتہ ارغند نے اس کے بعد ملک چھوڑ دیا اور طالبان کے وعدوں پر اعتبار نہیں کیا۔ وہ اس وقت قطر میں افغان پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں ہیں۔
 وہ افغانستان کے ان سینکڑوں صحافیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنا ملک چھوڑا۔ تاہم طالبان حکام کے انٹرویو سے ایک اچھا تاثر ابھرا۔

سعد محسنی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ طالبان میڈیا کو برداشت کر رہے ہیں (فوٹو: سکرین گریب)

اس مرتبہ طالبان نے سکول جاتی لڑکیوں کے ویڈیوز شیئر کی۔ انہوں نے کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پریس کانفرنس بھی کی اور مقامی و غیرملکی میڈیا کے سوالات کے جوابات دیے۔
 طلوع نیوز کے سی ای او سعد محسنی کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ طالبان میڈیا کو برداشت کر رہے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ انہوں نے دل اور دماغ جیتنے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے لیے میڈیا اہم ہے، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ آنے والے ایک دو مہینوں میں وہ میڈیا کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں۔‘
ایشیا کے لیے ’پروٹیکٹ  ٹو جرنلسٹس‘ کمیٹی کے کوارڈینیٹر سٹیون بٹلر کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں ایک پائیدار جمہوریت قائم کرنے میں ناکام رہے، لیکن وہ فروغ پذیر میڈیا قائم کرنے میں کامیاب رہے۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جمہوریت کے فروغ کے لیے میڈیا پر بڑی رقم خرچ کی۔
امریکہ کی ابتدائی امداد سے طلوع لانچ کیا گیا جس نے 2003 میں ریڈیو سٹیشن قائم کیا اور پھر بہت جلد ٹی وی چینل بنایا۔ پشتو اور دری زبان میں نشر ہونے والے چینل میں پانچ سو ملازمین ہیں اور یہ افغانستان کا مقبول ترین چینل ہے۔
نیوز اور انٹرٹینمنٹ پروگراموں کی وجہ سے  مشہور چینل نے اپنے طور پر میوزک شوز اور ڈرامے بند کر دیے کیونکہ سعد محسنی کا کہنا ہے کہ ’ہم نہیں سمجھتے کہ طالبان کو یہ قبول ہوگا۔‘

افغانستان کے سرکاری چینل آر ٹی اے نے خاتون میزبانوں کو ہٹا دیا ہے (فوٹو اے پی)

رومانٹک ڈراموں کی جگہ خلافت عثمانیہ دور کے ترکی سیریلز نے لے لی ہے۔
افغانستان کے سرکاری چینل آر ٹی اے نے خاتون میزبانوں کو ہٹا دیا ہے، جبکہ خواتین کے چینل زن ٹی وی نے نئے پروگرامز دکھانے بند کر دیے ہیں۔
تاہم نجی ٹی وی آریانا نیوز نے خاتون اینکرز کو کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ طلوع نیوز نے بھی بریک فاسٹ پروگرام کی میزبان اور ایک نیوز اینکر سمیت متعدد خاتون رپورٹرز کو کام جاری رکھنے کا کہا ہے۔
ملک کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان کی صحافیوں کو دھمکیاں دینے اور مارنے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ جرمن ٹی وی ڈوئچ ویلے نے کہا کہ طالبان نے ان کے صحافیوں کی تلاش میں گھر گھر جا کر تلاشی لی اور ایک صحافی کے فیملی ممبر کو ہلاک کیا اور دوسرا شدید زخمی ہوا۔
افغانستان کے ایک سینیئر صحافی بلال سروری نے ملک چھوڑ دیا ہے اور انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ افغانستان میں صحافت زندہ رہے کیونکہ لوگوں کو اس کی ضرورت ہے۔‘
ان کہنا تھا کہ ’اگر ہم واپس نہیں جا سکتے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ہار مان جائیں گے۔ ہم جہاں بھی ہوں گے افغانستان کے لیے کام کرتے رہیں گے۔‘

جولائی میں روئٹرز کے فوٹو گرافر افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں مارے گئے (فوٹو اے پی)

طالبان صحافیوں کو پاکستان کے راستے ملک میں داخل ہونے اور کام کرنے کی اجازت دے رہے ہیں، لیکن وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نیوز رپورٹس اسلامی شعار اور قومی مفاد کے خلاف نہیں ہونی چاہیں۔ 
افغانستان کافی عرصے سے صحافیوں کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ سی جے پی نے کہا ہے کہ 2001 سے اب تک افغانستان میں 53 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں اور 2018 سے اب تک 33 صحافی ہلاک ہوئے۔
جولائی میں پلٹزر پرائز جیتنے والے روئٹرز کے فوٹو گرافر افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران  مارے گئے۔ 2014 میں اے ایف پی کے صحافی، ان کی بیوی اور دو بچوں سمیت نو افراد کو طالبان نے قتل کیا۔
2016 میں طالبان کے خودکش حملے میں طلوع نیوز کے سات ملازمین ہلاک اور 25  زخمی ہوئے تھے۔ طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ طلوع نیوز مغربی طاقتوں کا آلہ کار ہے۔
طلوع ٹی وی کے سی ای او سعد محسنی نے کہا کہ ’میں سوچ رہا ہوں کہ انتظار کیا جائے اور دیکھا جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک سختی کرتے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ وہ پابندیاں لگائیں گے، لیکن کس حد تک لگائیں گے یہ دیکھنا باقی ہے۔‘

شیئر: