Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

1962:جب ہندی چینی بھائی بھائی کا نظریہ دم توڑ گیا

وزیراعظم نہرو نے انڈین افواج کو علاقے میں اپنی پوسٹیں قائم کرنے کا حکم دیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
27 مئی 1964 کو جب پنڈت جواہر لال نہرو کا دہلی میں انتقال ہوا تو بھارتی وزارت خارجہ کے ایک افسر نے مجھے بتایا :وہ حقیقت میں دو سال پہلے مر گئے تھے۔ ان کی موت اسی روز ہوگئی تھی جب چین نے ہماری سرحد پار کی تھی۔‘
نامور بھارتی صحافی اور قلم کار فرینک موریس کی کتاب Witness to an Era  کے یہ الفاظ بظاہر پنڈت نہرو کے حوالے سے ہیں مگر حقیقت میں 20 اکتوبر 1962 کی چین انڈیا  جنگ کے اثرات و نتائج پر بلیغ تبصرہ ہیں۔
آج سے ٹھیک 59 برس قبل چین نے انڈیا کے ساتھ دو سرحدی مقامات نیفا (شمال مشرقی سرحدی ایجنسی ) اور لداخ سے انڈیا پر حملہ کیا۔ چین انڈیا سرحد تقریبا 24 سو میل طویل ہے، چینی یلغار اتنی منظم اور مربوط تھی کہ جنگ کے پہلے ہی روز اس نے اکسائی چن میں پانچ بھارتی چوکیوں پر قبضہ جما لیا۔ نیفا میں انڈین بریگیڈ کمانڈر کو گرفتار کرکے چینی فوج آندھی طوفان کی طرح بھارتی سرزمین میں در آئی۔
گذشتہ ایک عشرے سے ’ہندی چینی بھائی بھائی‘  کے پرکشش نعروں پر استوار سفارتی تعلقات کے باوجود جنگ کا چھڑ جانا دنیا کے لیے حیرت کا باعث تھا۔ یہ کھلی جارحیت انڈین وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے چین کے ساتھ لازوال دوستی کے پانچ اصولوں ’پنج شیلا‘ کی ناکامی کا کھلا اعلان بھی تھا۔
یہ سوال اپنی جگہ پر اہمیت کا حامل ہے کہ ایشیا کی دو بڑی طاقتوں میں مسلح تصادم کی نوبت کیوں پیش آئی جس کے اثرات آج بھی وادی گلوان میں چین اور انڈیا کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کی صورت میں سامنے ہیں۔
گذشتہ برس لداخ میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد قیام امن کے لیے ہونے والے مذاکرات کا 13 واں دور بھی ناکام ہوگیا ہے۔ چین کا اصرار ہے کہ مذاکرات اس کی شرائط پر ہوں گے اور وہ زیرقبضہ علاقوں سے بھی دستبردار نہیں ہوگا۔
چین کی موجودہ تزویراتی سوچ اور 1962 جنگ کے محرکات میں بہت ساری مماثلتیں ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے چین انڈیا سرحدی تنازعات کی تاریخ اور تناظر جاننا ضروری ہے۔
دونوں ملکوں کی سرحدی حد بندی تکنیکی، جغرافیائی اور تاریخی اسباب کے باعث 1950 کی دہائی سے متنازع چلی آ رہی ہے۔ انگریز دور میں تبت اور برٹش انڈیا کے درمیان میک موہن لائن، جبکہ تبت اور ریاست کشمیر کے مابین میک ڈونلڈ لائن کو سرحدی علاقے کا درجہ ملا۔
چین نے تقسیم ہند کے بعد پرانے نقشوں کی بنیاد پر تبت سے ملحقہ اروناچل پردیش کے بڑے حصے اور شمال مشرقی لداخ کے غیر واضح سرحدی علاقوں کو اپنا حصہ  قرار دیا۔ انڈیا کے ساتھ نقشوں کے تبادلوں میں کچھ بھارتی نقشے بھی اس کے دعوے کی تائید کرتے تھے۔
نامور انڈین صحافی اور دانشور کلدیپ نائر نے اپنی خود نوشت میں ان سرحدی تنازعات کا ذکر کیا ہے۔ اس دور میں وہ وزارت داخلہ سے بحثیت پریس آفیسر وابستہ تھے۔ ان کے مطابق وزارت داخلہ نے ریاستوں کو خط لکھا کہ ان نقشوں کو جلا دیا جائے جو چینی موقف میں مددگار ہیں۔

سرحدی حد بندی کا یہ تنازع ابھی تک نقشوں کی تشریح اور تفہیم تک محدود تھا۔ (فوٹو: دی پرنٹ)

انڈین حکومت نے برطانوی دور کے قدیم ریکارڈ اور نقشوں کے موازنے اور پڑتال کے لیے ایک سرکاری وفد لندن روانہ کیا۔ برطانوی حکومت پرانے نقشوں تک رسائی دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ اس موقع پر سابق گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن انڈیا کے کام آئے۔ ان کی وساطت سے پرانے نقشوں کی فوٹو کاپیاں انڈیا نے حاصل کر لیں۔
سرحدی حد بندی کا یہ تنازع ابھی تک نقشوں کی تشریح اور تفہیم تک محدود تھا کہ چین نے 1954 میں اکسائی چن میں سڑک کی تعمیر شروع کی جس کا مقصد تبت اور سنکیانگ کے درمیان زمینی ربط اور رسائی تھا۔
ایک انڈین پولیس افسر لکشمن سنگھ کو سڑک تعمیر کرنے والے مزدوروں سے اس کی بھنک مل گئی جس نے یہ اطلاع  دلی تک پہنچا دی۔ انڈیا نے تصدیق کے لیے علاقے میں سپاہیوں کی ایک ٹولی بھجوائی جنہیں سڑک کی نگرانی کرنے والے چینی فوجیوں نے پکڑ کر گھوڑوں کی دموں کے ساتھ باندھ کر سڑک پر گھسیٹا۔ چین انڈیا فوجوں کے درمیان یہ پہلا محدود تصادم تھا جس پر انڈیا نے چین سے شدید احتجاج کیا۔ 
1956میں چینی رہنما چو این لائی کے دورہ انڈیا کے دوران سرحدی تنازعات پر بھی بات ہوئی۔ فرینک موریس کے تجزیہ میں چو این لائی نے میک موہن لائن کو مشروط طور پر تسلیم کرنے کا اشارہ دیا۔ جواب میں انڈیا سےاکسائی چن پر چین کے مستقل کنٹرول کو تسلیم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
جنگ سے گریزاں نہرو نے چین کی اس پیشکش کو سنجیدگی سے لیا۔ پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں انہوں نے لداخ کے علاقے کے بارے میں ایک فقرے میں اپنی سوچ کا اظہار کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 80 کی دہائی میں سیاچن پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کے دوران ضیا الحق نے بھی سیاچن کے بارے میں اسی سے ملتا جلتا فقرہ بولا تھا۔ ’اس علاقے میں تو گھاس کا ایک تنکا بھی نہیں اگتا۔‘ پنڈت نہرو کے اس بیان پر انڈین سیاست اور صحافت میں بڑی لے دے ہوئی۔
سوشلسٹ ڈیموکریٹ نہرو کے انڈیا میں چین کے ساتھ تعلقات کی سیاسی، نظریاتی اور جغرافیائی جہتیں تھیں۔ 50 کی دہائی ہندی چینی بھائی بھائی کے تصور کے تکرار کے ساتھ ختم ہونے والی تھی۔ ایک واقعہ نے زیرزمین کشیدگی کی دبی چنگاریوں کو ہوا دے دی۔

دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان بے اعتمادی کا ماحول بن چکا تھا۔ (فوٹو: انڈیا ٹو ڈے)

یہ واقعہ چین کے خود مختار علاقے تبت سے بدھوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کا انڈیا آنا تھا۔ تبت کے بارے میں ان کے قوم پرستانہ خیالات کمیونسٹ چین کے نظام اور مفادات سے ٹکرا رہے تھے۔ مارچ 1959میں دلائی لامہ کی انڈیا میں سیاسی پناہ نے ایک نئے تناؤ کی بنیاد رکھ دی۔ چین نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا جس کو انڈیا نے کوئی پذیرائی نہ دی۔
دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان بے اعتمادی کا ایسا ماحول بن چکا تھا کہ چو این لائی کا انڈیا کا دوسرا دورہ بھی دو بھائیوں میں سفارتی کھچاؤ اور علاقائی تناؤ میں کمی نہ لا سکا۔ اپنے پہلے دورے کہ برعکس اس بار انہوں نے میک موہن لائن کے بارے میں تاریخ اور نقشوں کو جواز بناتے ہوئے غیر لچکدار رویے کا مظاہرہ کیا۔ 
20 اکتوبر سے 20 نومبر تک جاری رہنے والی باقاعدہ جنگ کی بنیاد 1961 میں سنکیانگ تبت روڈ کے مغربی علاقے میں چینی فوجوں کی پیش قدمی سے پڑی۔ اس کی سپاہ انڈین سرحد میں 70 میل تک اندر گھس آئی اور 12 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ اس کے کنٹرول میں آ گیا۔
گذشتہ برس لداخ کے علاقے گلوان وادی پر چینی افواج کے قبضے اور 20 کے قریب بھارتی اور چار چینی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد یہ علاقہ کشیدگی اور کشمکش کے مرکز میں بدل گیا تھا۔ یہ وہی خطہ ہے جس پر جولائی 1962 میں چین نے سب سے پہلے حملہ کیا تھا۔
انڈین افواج کے اس وقت کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بی ایم کول کو چینی جارحیت سے نمٹنے کے لیے قائم خصوصی کورکا کمانڈر بنایا گیا تھا۔ چھ ہزار فوجیوں پر مشتمل سپیشل کور کو 360 میل طویل محاذ جنگ کو سنبھالنا تھا۔
جنرل کول کی یاداشتوں پر مشتمل کتاب The Untold Story اس جنگ کا تفصیلی احوال بیان کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت کے آرمی چیف جنرل این پی تھاپر، وزیر دفاع کرشنا مینن اور وزیراعظم نہرو کے درمیان چینی خطرے سے نمٹنے کی حکمت عملی اور طریقہ کار پر واضع اختلاف موجود تھا۔ آرمی چیف نے محدود وسائل، جنگی سامان کی کمی اور فوجیوں کی ناکافی تیاری کے باعث کسی بڑی کامیابی کے امکان کی نفی کی تھی۔
لداخ کے بعد 8 ستمبر 1962 کو چین نے انڈیا، بھوٹان اور تبت کے ملحقہ علاقے ڈہولا پر قبضہ کر کے انڈیا کو جنگ کا کھلا چیلنج دے دیا۔ چین کے اس جنگی اقدام سے نم کاچو دریا کے کنارے انڈین پوسٹیں اور جنوبی علاقے تھکلا  براہ راست دشمن کی زد میں آ گئے۔
انڈیا نے جوابی کارروائی کے لیے اپنی افواج علاقے میں بھیج دیں۔ 33 ویں کور کے کمانڈر جنرل امراؤ سنگھ اور ایسٹرن کمانڈ کے جنرل سین کے ذمے نیفا کا دفاع تھا۔ انڈین سپاہی جب دریا کے کنارے پہنچے تو وہاں پہلے سے موجود چینی فوجیوں نے ہندی زبان میں انہیں انتباہ کرتے ہوئے یہ پیغام دیا۔

انڈین عوام میں ڈھولا پر قبضے کے بعد تشویش ابھرنے لگی۔ (فوٹو: انڈین ڈیفینس ریویو)

’تم چلے جاؤ یہ زمین ہماری ہے۔ ہندی چینی بھائی بھائی۔‘
انڈین عوام میں ڈھولا پر قبضے کے بعد تشویش ابھرنے لگی۔ سیاسی رہنما چین کو فوری جواب میں تساہل برتنے پر تنقید کرنے لگے۔ کول نے ایک میٹنگ کا حال بیان کیا ہے جس میں نہروں کے علاوہ فوجی قیادت اور حزب اختلاف کے نمایاں رہنما موجود تھے۔ جن میں سے ایک چین کو جواب دینے میں غیر ضروری تاخیر کے خلاف ان الفاظ میں پھٹ پڑے۔ ’ہندوستانیوں کو دو چیزیں پسند ہیں۔ زمین اور عورت۔ آپ نے چین کو 12 ہزار مربع کلومیٹر زمین تو دے دی۔ اب کیا ہماری عورتیں بھی ان کے حوالے کرنے کا ارادہ ہے۔‘
وزیراعظم نہرو نے انڈین افواج کو علاقے میں اپنی پوسٹیں قائم کرنے کا حکم دیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اتنے بڑے علاقے میں پوسٹیں بنانا اور انہیں برقرار رکھنا بہت مشکل ہے۔ چین کی نسبت انڈیا کے پاس وسائل اور اسلحہ محدود اور کمتر ہے۔ مگر وزیراعظم کے اصرار پر آنے والے دنوں میں انڈیا نے دو ہزار مربع میل کے علاقے میں 54  پوسٹیں قائم کر کے چین کی مزید پیش قدمی کو روکنے کی تدبیر کی۔
سپیشل کور کے کمانڈر جنرل بی این  کول نے اکتوبرکے پہلےہفتے میں نیفا کا دورہ کر کے وزیراعظم اور وزیر دفاع کو رپورٹ دی کہ چینی فوج کے چار ڈویژن اس علاقے میں موجود ہیں۔ اس کے برعکس مقابلے کے لیے انڈیا کا صرف ایک ڈویژن دستیاب ہے۔ کول لکھتے ہیں کہ نہرو نے صورتحال جاننے کے بعد اس رائے کا اظہار کیا کہ دشمن پر حملے کے بجائے خاموشی سے معاملات  کا جائزہ لیا جائے۔ 
13 اکتوبر کو انڈین اخبارات میں وزیراعظم کا بیان شائع ہوا کہ نہرو نے اپنی افواج کو دشمن سے اپنا علاقہ خالی کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ کول کہتے ہیں کہ یہ بیان ان کے لیے حیرت کا باعث تھا۔ شاید اس کی وجہ عوامی جذبات کی تسکین اور نفسیاتی ڈھارس برقرار رکھنا ہوگا۔
20  اکتوبر کو چین کی پیش قدمی کسی سیلاب کی مانند تھی جس میں نیفا اور لداخ کی اکثر انڈین پوسٹیں ایک ایک کر کے بہنا شروع ہوگئیں۔ 19 نومبر کو مڈیلا کا علاقہ بھی چینی قبضے میں چلا گیا۔ شمالی لداخ کی ساری پوسٹیں انڈیا کے ہاتھ سے نکل گئیں۔ ایک ماہ کی جنگ میں انڈین عسکری حکمت عملی کی بوسیدگی اور ناکامی واضع ہوگئی۔
کول اس کا ذمہ دار ناکافی جنگی ساز و سامان اور حکومت کی طرف سے وسائل کی فراہمی میں پس و پیش کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق آرمی چیف جنرل تھاپر کو نہرو کی طرف سے چینی فوج کو باہر نکال دینے کے حکم کی بجا آوری میں بھی تامل تھا۔ اس کا استدلال تھا کہ چھ چینی فوجیوں کے مقابلے میں ایک انڈین سپاہی سے دشمن کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔
محاذ جنگ پر ناکامی کے بعد آرمی چیف وزیراعظم نہرو سے ملنے گئے اور مستعفی ہونے کی پیشکش کی۔ اگلی صبح دوسری ملاقات میں ان سے تحریری استعفیٰ طلب کیا گیا۔ کلدیپ نائر لکھتے ہیں کہ آرمی چیف نے گھر جا کر اپنی بیٹی سے استعفیٰ ٹائپ کروا کے وزیراعظم کو بھیج دیا۔ اگلے روز نہرو نے وہ کاغذ لوک سبھا میں لہرا کر ارکان کے غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
خود پنڈت نہرو کی اپنی بصیرت اور عالمی سفارتکاری میں مہارت بھی اس جنگ میں شکست کھا گئی۔ کلدیپ نائر اور جنرل کول دونوں نہرو کے اس بے بنیاد یقین کو حرف تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جس کے مطابق چین کبھی بھی انڈیا کے ساتھ کھلی لڑائی کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ نہرو کے معتمد خاص اور وزیر دفاع کرشنا مینن کو اس ناکامی پر سب سے زیادہ تنقید سہنا پڑی۔ ان کی وزارت کو دفاع سے دفاعی پیداوار کے ساتھ بدل دیا گیا۔
چین کے مقابلے میں ناکام عسکری حکمت عملی کا خمیازہ جنرل کول کو بھی بھگتنا پڑا۔ یہاں تک کے انہوں نے فوج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ میں عافیت جانی۔

20  نومبر کی صبح اچانک جنگ بندی کا فیصلہ حیران کن تھا۔ (فوٹو: انڈیا ٹوڈے)

انڈین حکومت نے آسٹریلوی نژاد افسر لیفٹیننٹ جنرل ہینڈرسن کی سربراہی میں ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا مگر اس کی رپورٹ کبھی بھی عوام کے سامنے نہ آ سکی۔ کلدیپ نائر نے 1995 میں بحثیت رکن راجیہ سبھا اس رپورٹ کی فراہمی کا مطالبہ کیا تو حکومت کا جواب تھا کہ ایسا کرنا عوامی مفاد کے خلاف ہوگا۔
چینی افواج نے میدان جنگ میں بہتر حکمت عملی کے پہلو بہ پہلو کی نفسیاتی جنگ کے میدان میں بھی انڈیا پر اپنی برتری کی دھاک بٹھا دی۔
20  نومبر کی صبح اچانک جنگ بندی کا فیصلہ حیران کن تھا۔ یہ اتنا غیرمتوقع تھا کہ وزیراعظم نہرو نے جب یہ خبر سنی تو ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا ’کیا سچ میں یہ ہوگیا؟‘
لداخ میں چینی افواج کے مقابلے میں انڈین فوج کی گورکھا رجمنٹ تعینات تھی۔ چینیوں نے ان کے نیپالی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اونچی آواز میں یہ اعلانات کروانے شروع کر دیے کہ انڈیا نیپال کا دشمن اور چین اس کا دوست ہے۔ اپنے سپاہیوں کے حوصلوں کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے انڈیا کو اس علاقے میں گورکھا کے بجائے جاٹ سپاہیوں کو تعینات کرنا پڑا۔ اس طرح چین نے جنگی مہارت اور بہادری کے حامل گورکھا سپاہیوں کو محض پراپیگنڈے کے زور پر میدان جنگ سے دور رکھا۔
چینی میڈیا نے انڈین کمانڈر جنرل کول کے میدان جنگ سے فرار کی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں۔ عین جنگ کے دوران وہ بیماری کی وجہ سے اپنے فرائض سے دور گھر پر آرام کر رہے تھے۔
انڈین منصوبہ سازوں نے جنگ کے دوران پاکستانی سرحدوں سے اپنی افواج کو ممکنہ خطرے کی وجہ سے محاذ جنگ پر منتقل نہیں کیا۔ کلدیپ نائر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے وزیر داخلہ شاستری کے پاس شاہ ایران کی طرف سے ایوب خان کو لکھے گئے خط کی کاپی دیکھی جو انہوں نے  نہرو کو بھجوائی تھی۔ اس خط میں صدر ایوب کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنی فوجوں کو چین کے خلاف لڑنے کے لیے انڈیا بھیجیں۔
پاکستان میں عموما یہ کہا جاتا ہے کہ چین نے صدر ایوب کو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیر پر قبضہ کرنے کی پیشکش کی تھی۔ یہ واقعہ اس وقت کے صدر پاکستان کے سیکرٹری اور معروف ادیب قدرت اللہ شہاب نے اپنی تصنیف شہاب نامہ میں بیان کیا ہے۔ 

چین نے اس جنگ کے ذریعے بہت سارے عسکری اور سفارتی فوائد سمیٹے۔ (فوٹو: اے پی)

وہ لکھتے ہیں کہ  جنگ کے دوران چین کی طرف سے غیر سفارتی انداز میں انہیں ایوب خان کو رات کے آخری پہر ایک پیغام پہنچانے کا گیا جس میں پاکستان کو جنگ سے فائدہ اٹھانے کی تجویز دی گئی تھی۔ شہاب کے مطابق ایوب خان نے اس پیشکش میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔
اس کے برعکس ایوب دور کے سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر اپنی کتاب ’ایوب خان پاکستان فرسٹ ملٹری رولر‘ میں اس جنگ کے بارے میں صدر ایوب کے تصور اور سوچ کو ایک اور انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ جنگ کے بعد چینی سفیر کی صدر ایوب سے ملاقات کا احوال بیان کرتے ہیں۔ 
الطاف گوہر کے مطابق صدر ایوب نے سفیر کو بتایا کہ قبل از وقت جنگ بندی نے پاکستان کے لیے فوجی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ صدر ایوب کے الفاظ میں ’اگر چین ہندوستان سے صرف ایک ہفتہ مزید جنگ جاری رکھتا تو مجھےکوئی شک نہیں کہ نہرو اپنے عہدے پر نہ ہوتا اور ہمارا مسئلہ اطمینان بخش طریقے سے حل ہو جاتا۔‘ 
وہ مزید لکھتے ہیں کہ صدر پاکستان نے سفیر کو یہ بھی بتایا کہ انڈیا چین کے ساتھ محاذ آرائی کی قیمت روس اور مغربی ممالک سے فوجی سازوسامان کی صورت میں وصول کرے گا۔ اسے پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا نہ کہ چین کے۔
اس جنگ میں سینکڑوں انڈین فوجیوں کی جانوں کے ساتھ ساتھ انڈیا کا چین کے بارے میں یہ سہ نکاتی مفروضہ بھی اپنی موت آپ مر گیا جس کے مطابق بیجنگ کبھی انڈیا پر حملہ نہیں کرے گا اور دفاع  کے لیے وہ مغربی امداد کا محتاج نہیں اور سوویت یونین چین کے خلاف اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ 
دوسری طرف چین نے اس جنگ کے ذریعے بہت سارے عسکری اور سفارتی فوائد سمیٹے۔ اس نے امریکہ اور روس کو ایشیا میں اپنی اہمیت جتا دی۔ ایشیائی ممالک کو اپنی علاقائی طاقت ہونے کا پیغام بھی پہنچا دیا۔ 
انڈیا کے غیر وابستہ ممالک کے قائد ہونے کے تصور کو بھی دھندلا دیا۔ اپنے سب سے بڑے اندرونی چیلنج تبت کو بھی انڈیا پر انحصار سے بچنے کا درس دے دیا۔
  1962 میں یہ جنگ ایک ماہ میں ختم ہوگئی تھی مگر جنگ کی مکمل وجوہات سامنے آنا ابھی تک باقی ہیں جس کا عکس ہمیں لداخ میں چین اور انڈیا کے درمیان موجودہ کشمکش اور تصادم میں نظر آتا ہے۔

شیئر: