Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سکولوں میں مذہبی لباس کے بجائے یونیفارم کے حق میں ہوں، انڈین وزیر داخلہ

انڈین ریاست کرناٹک میں سکولوں میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
انڈیا کے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ وہ طالب علموں کے سکول میں مذہبی لباس کے بجائے یونیفارم پہننے کے حق میں ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈین وفاقی وزیر داخلہ امِت شاہ نے کہا کہ ان کا حجاب پہننے سے متعلق مؤقف عدالت کے فیصلے کے بعد تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں انڈیا کی ریاست کرناٹک میں طالبات کے سکولوں میں حجاب پہننے کی پابندی کے ردعمل میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کے بعد حکومت کو سکول بند کرنا پڑے۔
وقافی وزیر نے انڈین میڈیا گروپ ’نیٹ ورک 18‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ حجاب کے معاملے پر عدالتی فیصلہ قبول کریں گے۔
’یہ میرا ذاتی نظریہ ہے کہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو سکول کے ضابطہ لباس کو قبول کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’بالآخر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کو آئین کے مطابق چلانا ہے یا خواہشات کے۔ میری ذاتی رائے صرف تب تک ہی قائم رہ سکتی ہے جب تک کہ عدالت کا فیصلہ نہیں آ جاتا۔ اور ایک مرتبہ جب عدالت فیصلہ سنا دے گی تو پھر مجھے اسے قبول کرنا چاہیے اور سب کو قبول کرنا چاہیے۔‘
حجاب پر عائد پابندی کے حوالے سے کیس کرناٹک ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ پیر کو ایڈوکیٹ جنرل پابندی کے حق میں اپنے دلائل پیش کریں گے۔ 
انڈیا کی ایک ارب 35 کروڑ کی آبادی 13 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے جنہوں نے حجاب پہننے پر پابندی کے حکم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔
کرناٹک میں ہونے والے مظاہروں کے بعد دیگر ریاستوں میں بھی احتجاج کا سلسلہ  شروع ہو گیا ہے جبکہ امریکہ اور او آئی سی نے بھی انڈین حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔
اتوار کو کرناٹک میں حجاب پر عائد پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والی 10 طالبات کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔
انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق کرناٹک کے شہر تمکرو میں لڑکیوں کے کالج کے سامنے احتجاج کرنے پر طالبات کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
احتجاجی مظاہروں کے باعث پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کی غرض سے مختلف اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی جس کے تحت احتجاج کرنے پر پابندی عائد ہے۔

شیئر: