Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

واپس پہنچے والے 50 لاکھ افغانوں کو اپنے ملک میں کیا چیلنجز درپیش ہیں؟

افغانستان واپس پہنچنے والوں کو ٹرانسپورٹ، ایک سم کارڈ اور کچھ نقد رقم امداد کی مد میں ملتی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
دہائیوں تک بحرانوں سے بھاگ کر آنے والے افغانوں کی میزبانی کرنے کے بعد پاکستان اور ایران نے اِن کی ملک بدری کو تیز کر دیا ہے اور لاکھوں لوگوں کو سرحد پار ایک ایسے دیس میں واپس بھیج دیا ہے جو اُن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اپنے ملک واپس پہنچنے والے افغان چاہے خاندان کے ہمراہ ہوں یا اکیلے، اُن کو غربت اور ماحولیاتی پریشانیوں سے گھرے ملک میں ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا ہے۔
اس فیچر رپورٹ میں اے ایف پی نے افغانستان پہنچنے والے لوگوں اور ان کو درپیش چیلنجوں پر ایک نظر ڈالی ہے۔

50 لاکھ افغانوں کی واپسی

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک ایران اور پاکستان سے 50 لاکھ سے زیادہ افغان وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔
افغانستان میں ایجنسی کے نائب سربراہ مطیہ ازورا مسکن کے مطابق یہ تعداد ملک کی 10 فیصد آبادی کے برابر ہے۔
صرف پچھلے سال 30 لاکھ افغان واپس اپنے ملک پہنچے جن میں سے کچھ نے کئی دہائیاں بیرون ملک گزاری ہیں۔
مسکن نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں آنے والوں کے لیے انتظامات کرنا کسی بھی ملک کے لیے مشکل ہوگا۔

ناکافی رہائشی سہولیات

ستمبر 2023 سے دسمبر 2024 کے درمیان واپس آنے والے 80 فیصد لوگوں کے پاس ایک سال بعد بھی کوئی مستقل گھر نہیں تھا۔ یہ معلومات مائیگریشن تنظیم کے ایک سروے میں سامنے آئیں جس میں ایک ہزار 339 افراد نے حصہ لیا۔
واپس آنے والے افغانوں کی بڑی تعداد کو مٹی یا گارے سے بنائے گئے عارضی مکانات میں رہنا پڑ رہا ہے۔
حال ہی میں اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (یو این ایچ سی آر) نے گزشتہ سال جنوری اور اگست کے درمیان واپس آنے والے افغانوں سے اُن کی رہائش کے انتظامات کے بارے میں بات کی۔
واپس آنے والے 1,658 افراد سے کیے گئے سروے کے مطابق تین چوتھائی کرایہ داروں نے کہا کہ وہ اپنے گھروں کا کرایہ ادا نہیں کر سکتے جبکہ زیادہ تر خاندانوں کے چار افراد ایک کمرے میں رہنے پر مجبور ہیں۔

ملازمت، کام کے متلاشی

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے سروے میں بتایا گیا کہ پاکستان اور ایران سے واپس جانے والے بالغوں میں سے صرف 11 فیصد کُل وقتی ملازمت کر رہے تھے۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق گزشتہ سال کے ابتدائی چند ماہ میں واپس آنے والوں کی ماہانہ اوسط آمدنی 22 سے 147 کے درمیان تھی۔

افغان حکام کے مطابق واپس آنے والوں میں تین ہزار پلاٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

پانی، بجلی کی قلت

عالمی مائیگریشن تنظیم کے مطابق واپس آنے والے آدھے سے زیادہ گھرانوں میں بجلی کی فراہمی مستقل طور پر نہیں ہو رہی۔
ایجنسی نے کہا کہ ایسے گھرانے جن کی سربراہ خواتین ہیں اُن کو زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے خاندانوں میں سے تقریباً نصف پینے کے صاف پانی تک رسائی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

واپس آنے والوں کو پلاٹس

افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے جنوری کے وسط میں کہا تھا کہ ملک بھر میں 3,000 سے زائد پلاٹ واپس آنے والوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل کو ’تیز کردیا گیا ہے۔‘
افغانستان پہنچنے پر واپس آنے والوں کو عام طور پر ٹرانسپورٹ، ایک سم کارڈ اور کچھ نقد رقم امداد کی مد میں ملتی ہے۔

 

شیئر: