Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاک افغان تجارتی مذاکرات التوا کا شکار، تاجروں کی مشکلات میں اضافہ

سیکریٹری تجارت کے مطابق تاجروں کو سامان کی کلیئرنس اور بینکنگ چینلز کے مسائل کا سامنا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان اور افغانستان کے وزرائے تجارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات التوا کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کرنے والے تاجروں کی مشکلات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے باہمی تجارت کا حجم مسلسل کم ہو رہا ہے۔
اردو نیوز سے گفتگو میں مشیر تجارت رزاق داؤد نے بتایا کہ انھوں نے اپنے افغان ہم منصب کے ساتھ مذاکرات کے لیے سوموار کے روز طورخم جانا تھا۔ اس ملاقات میں پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شریک ہونا تھا۔
رزاق داؤد کے مطابق ’ان مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا پاک افغان بارڈر پر تاجروں کو درپیش مشکلات، باہمی تجارت کے فروغ اور روزانہ آنے جانے والے پیدل افراد کے مسائل سے متعلق تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم ان مذاکرات اور تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے مکمل تیار تھے کہ مجھے بتایا گیا کہ افغان وزارت تجارت کی جانب سے درخواست آئی ہے کہ ان مذاکرات کو کچھ روز کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔
اس حوالے سے سیکریٹری تجارت نے بتایا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے تاجروں کو جن چند بڑے مسائل کا سامنا ہے ان میں متعدد ایجنسیوں کی جانب سے سامان کی کلیئرنس، افغانستان میں بینکنگ چینلز کی عدم موجودگی سمیت افغانستان میں سکیورٹی کے مسائل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’ان مسائل کے حل کے لیے دونوں ممالک نے تمام سرحدی امور بالخصوص تجارت کے مسائل کو مل کر حل کرنے کے لیے نیشنل لیول کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ کمیٹیاں مل کر فیصلے کریں جس سے دونوں ممالک کے تاجروں کے مسائل حل اور باہمی تجارت کا فروغ ممکن ہے۔‘
سیکریٹری تجارت نے کہا کہ ’پاکستان نے اس حوالے سے وزارت تجارت، ایف بی آر، وزارت ریلویز، وزارت مواصلات، وزارت بحری امور، وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور پاک افغان جوائنٹ چیمبرز کے حکام پر مبنی کمیٹی گزشہ ماہ تشکیل دے دی تھی۔ تاہم افغان حکومت کی طرف سے ابھی تک کمیٹی کی تشکیل ہونا باقی ہے۔‘

حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے بھی تجارت متاثر ہوئی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انھوں نے بتایا کہ ’ان کمیٹیوں کے ٹی او آرز میں دونوں ممالک کے درمیان کراسنگ پوائنٹس کے حوالے سے فیصلہ سازی، ٹرکوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت، کراسنگ پوائنٹ کے اوقات کار، کسٹمز اور دیگر تکنیکی سٹاف کی دستیابی یقینی بنانا، ڈرائیورز، ہیلپرز اور دیگر کے ویزہ مسائل کا حل، بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کے قواعد پر عمل در آمد اور مزید کراسنگ پوائنٹس کے کھولنے سے متعلق امور شامل ہیں۔‘
پاکستان کی جانب سے قومی سطح کی کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے افغان حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وقتی طور پر دونوں ممالک نے تاجروں کی مشکلات اور باہمی تجارت کا سلسلہ جاری رکھنے کے حوالے سے کچھ اقدامات کیے ہیں جن میں بینکنگ چینل کی عدم موجودگی کی وجہ سے باہمی تجارت میں مسلسل کمی کو دیکھتے ہوئے بارٹر ٹریڈ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔
’اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اور زاہدان چیمبر آف کامرس کے درمیان ہونے والے معاہدے کا مسودہ افغان حکومت کو بھیجا ہے جنھوں نے جواب میں اس پر بھی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی ہے۔ جلد ہی نجی شعبے سے مشاورت کے بعد کمیٹی تشکیل دے کر افغان حکومت کو آگاہ کر دیا جائے گا۔’
اس کے علاوہ پاکستان اور افغانستان نے فیصلہ کیا ہے کہ بینکنگ چینلز کی بندش کی وجہ سے باہمی تجارت کو ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں کیا جائے۔ اس کے لیے ابتدائی طور پر چاول، مچھلی، پولٹری، چینی، فروٹ، میوہ جات، سبزیوں، نمک، سیمنٹ، فارماسوٹیکل، ماچس، ٹیکسٹائل، عمارتی پتھر اور سرجیکل آلات کی تجارت پاکستانی روپے میں کی جائے گی۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس حوالے ایس آر او جاری کیا جا چکا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں کمی واقع ہوئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب پاک افغان مشترکہ چیمبر آف کامرس نے ان اقدمات کو عارضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ان کی مدت بہت کم ہے جبکہ مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اردو نیوز کے ساتھ گفتگو میں جوائنٹ چیمبر کے ترجمان نے کہا کہ ’اس وقت کسٹم کے علاوہ این ایل سی کراسنگ پوائنٹس پر تعینات ہے۔ جو کلیئرنس کی مد میں ہزاروں روپے فیس بھی وصول کرتی ہے۔ ان کے کلیئرنس کے عمل سے گزرنے باوجود دیگر ادارے اپنی الگ سے کلیئرنس کرتے ہیں جس سے وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ سامان کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ فی الوقت دونوں ممالک کی وزارت تجارت کو جلد از جلد تجارتی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دے کر تاجروں کی مشکلات کو حل کرنا ہوگا۔
’مشیر قومی سلامتی کے دورہ کے دوران روپے میں تجارت کا جو فیصلہ ہوا اس کی مدت ختم ہونے والی ہے۔ جلد از جلد نیا معاہدہ کرنا ہوگا تاکہ تاجروں کا کاروبار متاثر نہ ہو۔ کیونکہ جب کسی ایک جگہ سے مارکیٹ ہاتھ سے نکل جائے تو وہاں دوبارہ جگہ بنانا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق افغانستان واحد ملک ہے جہاں پاکستان کی برآمدات سرپلس میں ہیں۔ لیکن گزشتہ کئی ماہ سے تجارت بتدریج کم ہو رہی ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن ان کو حل کرنا حکومتوں کا ہی کام ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تجارتی خسارے میں مزید اضافہ ہونے کے ساتھ افغان مارکیٹ بھی ہاتھ سے نکلنے کا امکان ہے۔ 

شیئر: