Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یمن میں تجدد پذیر توانائی منصوبہ مکمل، 62 ہزار کو فائدہ ہوگا 

منصوبے سے زرعی پیداوارمیں اضافہ ہوگا اور شہریوں کی مشکلات کم ہوں گی( فوٹو: ایس پی اے)
یمن میں معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے تجدد پذیر توانائی منصوبہ مکمل کرلیا گیا۔ حض موت، بین، لحج، تعز اور الحدیدہ کمشنریوں کے 62 ہزار افراد کو فائدہ ہوگا۔ 
 خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق تجدد پذیر توانائی منصوبہ مکمل ہونے پر خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تجدد پذیر توانائی کا منصوبہ یمن کی تعمیر و ترقی، خلیج عربی کے ترقیاتی پروگرام ’اے جی فنڈ‘ اور صلہ ترقیاتی فنڈ کی معاونت سے مکمل کیا گیا ہے۔ 
 وزیر سماجی امور و محنت ڈاکٹرمحمد الدعوری نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ’ شمسی توانائی کے منصوبے سے آبپاشی اور مکانات کے مکینوں کو پانی کی سہولت حاصل ہوگی‘۔ 
’اس منصوبے سے زرعی پیداوارمیں اضافہ ہوگا۔ پانی کے استعمال کا معیار بہتر ہوگا۔ شہریوں کی مشکلات کم ہوں گی‘۔ 
عدن میں یمن کی تعمیر و ترقی کے سعودی پروگرام کے دفتر کے ڈ’ائریکٹرنے کہا کہ ’سعودی عرب نے  سعودی عرب  یمن کی ترقی اور وہاں کے انسانی وسا۔ئل کے فروغ کے حوالے قائدانہ کردار ادا کررہا ہے‘۔
خلیجی ترقیاتی پروگرم اورصلہ ترقیاتی فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون کا سلسلہ کئی عشروں سے جاری ہے۔ 
صلہ ترقیاری فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹرعلی باشماخ کا کہنا تھا ’اس منصوبے سے صحت اداروں اورسکولوں کو فائدہ ہوگا۔ یہ 1.2 میگا واٹ بجلی فراہم کرے گا۔ یہ یمن کی پانچ  کمشنریوں میں 2149 سولر پینلز مہیا کرے گا‘۔ 

شیئر: