توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا: عمران خان کی احتجاج کی کال، ’سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں‘
توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا: عمران خان کی احتجاج کی کال، ’سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں‘
اتوار 21 دسمبر 2025 6:52
سنیچر کو اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد عمران خان اور اہلیہ کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے بعد احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔‘
سنیچر کو توشہ خانہ کیس ٹو میں سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر شائع کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ گذشتہ تین برسوں کے ’بے بنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ ٹو کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اڈیالہ جیل کے باہر خواتین کے ساتھ جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔‘
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے اور انہوں نے وکلا کی ٹیم کو فیصلوں کے خلاف اپیل کی ہدایت کی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں۔‘
یاد رہے کہ اسلام آباد کی عدالت نے گذشتہ روز سنیچر کو توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشری بی بی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی۔
دونوں کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت سات، سات سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17 سال کی سزا سنائی گئی جبکہ ایک کروڑ روپے 60 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
فیصلے میں عمران خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی پر ایک کروڑ روپے 60 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
عدت نکاح کیس میں بریت کے بعد 13 جولائی 2024 کو نیب نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کے ایک اور ریفرنس میں گرفتار کر لیا تھا۔
نیب نے انکوائری رپورٹ میں کہا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی پر ’ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام‘ ہے۔
نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ’یہ کیس 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔ گراف واچ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں۔‘
’تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لیے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔ گراف واچ کا قیمتی سیٹ بھی ’ریٹین‘ کیے بغیر ہی بیچ دیا گیا۔ پرائیویٹ تخمینہ ساز کی ملی بھگت سے گراف واچ کے خریدار کو فائدہ پہنچایا گیا۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر تحفے کو پہلے رپورٹ کرنا اور توشہ خانہ میں جمع کروانا لازمی ہے۔ صرف 30 ہزار روپے تک کی مالیت کے تحائف مفت اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی پر 12 دسمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔