Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا

عمران خان اور بشریٰ بی بی پر 12 دسمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشری بی بی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ دونوں کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت سات، سات سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔
سنیچر کو سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی۔
سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17 سال کی سزا سنائی گئی جبکہ ایک کروڑ روپے 60 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 13 جولائی 2024 کو عدت نکاح کیس میں بریت کے بعد نیب نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کے ایک اور ریفرنس میں گرفتار کر لیا تھا۔
نیب نے انکوائری رپورٹ میں کہا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی پر ’ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام‘ ہے۔
نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ’یہ کیس 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔ گراف واچ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں۔‘
’تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لیے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔ گراف واچ کا قیمتی سیٹ بھی ’ریٹین‘ کیے بغیر ہی بیچ دیا گیا۔ پرائیویٹ تخمینہ ساز کی ملی بھگت سے گراف واچ کے خریدار کو فائدہ پہنچایا گیا۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر تحفے کو پہلے رپورٹ کرنا اور توشہ خانہ میں جمع کروانا لازمی ہے۔ صرف 30 ہزار روپے تک کی مالیت کے تحائف مفت اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی پر 12 دسمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

حکام کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی پر ’سات گھڑیاں خلافِ قانون لینے اور بیچنے کا الزام‘ ہے (فوٹو:کابینہ ڈویژن)

توشہ خانہ کیس ہے کیا؟

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس 5 ستمبر 2022 کو دائر کیا گیا تھا۔
توشہ خانہ ریفرنس میں کہا گیا کہ وزرات عظمیٰ کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مختلف سربراہان مملکت کی طرف سے 108 تحائف ملے جن میں سے ملزمان نے 58 قیمتی تحائف خود رکھ لیے۔
ریفرنس میں مزید بتایا گیا کہ ’108 تحائف میں سے بشریٰ بی بی نے 14 کروڑ روپے مالیت کے 58 تحائف اپنے پاس رکھے جبکہ عمران خان نے جیولری سیٹ انتہائی کم رقم کے عوض رکھا۔‘
عدالت کو بتایا گیا تھا کہ توشہ خانہ قوانین کے مطابق تمام تحائف توشہ خانہ میں رپورٹ کرنے لازم ہیں۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ جیولری سیٹ ملٹری سیکریٹری کے ذریعے توشہ خانہ میں رپورٹ تو ہوا لیکن جمع نہیں کرایا گیا۔
’بشریٰ بی بی اور عمران خان نے توشہ خانہ قوانین کی خلاف ورزی کی۔‘
ریفرنس کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تحائف کی من پسند قیمت لگوائی۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے جیولری سیٹ کی 90 لاکھ روپے ادائیگی کی۔
تحقیقات کے مطابق قیمت پرائیویٹ فرد سے لگوائی گئی جو اصل قیمت سے انتہائی کم  تھی۔ جیولری سیٹ کی قیمت لگانے کے لیے دبئی کے ماہر سے بھی رابطہ کیا گیا۔
ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے قومی خزانے کو 1573 ملین روپے کا نقصان پہنچایا۔

 

شیئر: