Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’غزہ کی لائف لائن‘: رفح کراسنگ کا کُھلنا کس قدر اہم ہے؟

غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کو پیدل پار کرنے کا سلسلہ آج سے شروع ہو رہا ہے، اس کو فلسطینی سائیڈ پر اسرائیل کے قبضے کے بعد بند کر دیا گیا تھا اور دو سال بند رہا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بارڈر کو کھولنے کا مطالبہ اقوام متحدہ اور دوسرے امدادی گروپوں کی جانب سے کیا گیا تھا اور یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطین کے لیے بنائے گئے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا اہم نکتہ بھی ہے۔
خبر رساں ادارے نے اس کراسنگ کے حوالے سے اہم چیزوں کو اجاگر کیا ہے۔
رسائی کے لیے اہم پوائنٹ
فلسطین کے شہری امور کے لیے بنائی گئی اسرائیلی وزارت دفاع کی کابینہ سی او جی اے ٹی کا کہنا ہے کہ ’اس کو صرف دونوں جانب رہنے والے مقامی افراد کے لیے کھولا جا رہا ہے۔‘
اے ایف پی کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مصر کی سائیڈ پر ایمبولینسز کھڑی ہیں اور ان مریضوں کو لے کر ہسپتالوں کی جانب روانہ ہوں گی جو اس پہلے گروپ میں شامل ہوں گے جن کو اجازت ملے گی۔
مصر کی طرف جانے والی رفح واحد گزر گاہ ہے جو اسرائیل سے ہو کر نہیں گرزتی اور اس کو ’غزہ کی لائف لائن‘ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ اب اس علاقے میں آتی ہے جو اسرائیل کے زیرِ قبضہ ہے اور امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی شرائط کے تحت اس کی فوج اپنی نام نہاد ’ییلو لائن‘ سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔
ایک طویل عرصے تک یہ گرزگاہ غزہ سے آنے والے فلسطینیوں کے لیے نکلنے کا اہم مقام تھا اور 2007 سے اسرائیل کی ناکہ بندی کے بعد ان کو صرف اسی تنگ راستے سے گزرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
 2005 سے 2007 تک یہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ کنٹرول پہلا فلسطینی سرحدی ٹرمینل تھا تاہم بعدازاں عسکریت پسند گروپ کے قبضے کے بعد یہ غزہ کی پٹی پر حماس کے کنٹرول کی علامت بن گیا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے بندش
سات مئی 2024 کو اسرائیلی فوج نے فلسطینی سائیڈ کا کنٹرول حاصل کیا اور یہ دعویٰ کرتے ہوئے اسے بند کیا گیا کہ اس کو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
اس کے بعد سے رسائی کے دیگر زیادہ تر مقامات کو بھی بند کیا گیا اور ان میں اقوام متحدہ کے زیر استعمال آنے والے مقامات بھی شامل تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کے اندر اور وہاں سے باہر جانے والے افراد کو اجازت ’سکیورٹی کلیئرنس‘ کے بعد ملے گی (فوٹو: روئٹرز)

پچھلے برس جنوری میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مختصر جنگ بندی کے دوران اس کراسنگ کو طبی انخلا کے لیے مختصر وقت کے لیے کھولا گیا تھا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کے اندر اور وہاں سے باہر جانے والے افراد کو اجازت ’سکیورٹی کلیئرنس‘ کے بعد ملے گی۔
دوسری جانب غزہ کی انتظامیہ کی قومی کمیٹی بھی اسرائیل کی منظوری کے بعد علاقے میں داخل ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔
سورسز کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی تعداد کے بارے میں ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ مصر ان تمام فلسطینیوں کو آنے دینا چاہتا ہے جن کو اسرائیل جانے کی اجازت دے۔
قاہرہ میں فلسطین کے سفارت خانے کا کہنا ہے کہ غزہ واپس جانے کے خواہش مندوں کو محدود سامان اور کم مقدار میں ادویات اشیا لے جانے کی اجازت ہو گی تاہم دھاتی یا الیکٹرونک اشیا لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
سی او جی اے ٹی کے مطابق ’ابتدائی پائلٹ مرحلہ‘ مصر، یورپی یونین مشن اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی معاونت میں اتوار کے روز شروع ہوا۔

رفح بارڈر کا کھلنا صدر ٹرمپ کے غزہ مںصوبے کی شرائط میں شامل ہے (فوٹو: اے ایف پی)

مزید بتایا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلہ مکمل ہونے پر دونوں سمتوں سے رہائشیوں کا آنا جانا شروع ہو جائے گا۔
یورپی یونین نے 2005 میں کراسنگ کی نگرانی میں مدد دینے کے لیے ایک سویلین مشن قائم کیا گھا تاہم دو سال عسکریت پسندوں کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد اس کو معطل کر دیا گیا تھا۔
امدادی سامان کا داخلہ
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے معاہدے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے اور روزانہ اس کے راستے چھ سو امدادی ٹرکوں کے داخلے کی شرائط بھی شامل ہیں۔ تاہم امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے ادویات کی امداد ناکافی ہے۔

شیئر: