Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹی20 ورلڈ کپ: انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ، پاکستان کو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟

پاکستان حکومت نے ٹی20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستانی حکومت کے اعلان کے بعد اگر پاکستان کرکٹ ٹیم آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں انڈیا کے خلاف شیڈول میچ کا بائیکاٹ کرتی ہے تو قومی ٹیم کو اس میچ کے دو پوائنٹس سے محروم ہونا پڑے گا جبکہ اس فیصلے کا پاکستان کے نیٹ رن ریٹ پر بھی منفی اثر پڑے گا۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق آئی سی سی کے پلیئنگ کنڈیشنز میں واضح طور پر درج ہے کہ کسی بھی میچ کے فورفیٹ ہونے کی صورت میں قصوروار ٹیم کا نیٹ رن ریٹ متاثر ہوگا، جبکہ مخالف ٹیم کا نیٹ رن ریٹ متاثر نہیں ہوتا۔
آئی سی سی کے قوانین کی شق 16.10.7 کے تحت اگر کوئی ٹیم میچ فورفیٹ کرتی ہے تو اس ٹیم کی اننگز کے پورے 20 اوورز کو نیٹ رن ریٹ کے حساب میں شامل کیا جاتا ہے، چاہے ٹیم میدان میں اتری ہی نہ ہو۔ اس صورت میں فورفیٹ کرنے والی ٹیم کے اوسط رنز فی اوور پر منفی اثر پڑتا ہے، جبکہ مخالف ٹیم کو مکمل پوائنٹس مل جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان گروپ مرحلے کا یہ میچ 15 فروری کو شیڈول ہے، جسے ٹورنامنٹ کا سب سے زیادہ تجارتی اہمیت کا حامل میچ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل اتوار کو حکومتِ پاکستان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کرے گی، تاہم انڈیا کے خلاف شیڈول میچ نہیں کھیلے گی۔
پاکستان حکومت کے اس اعلان کے بعد آئی سی سی نے چند گھنٹوں بعد ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تاحال پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے باضابطہ ابلاغ کی منتظر ہے۔

پاکستان اور انڈیا کا ٹی20 ورلڈ کپ میچ 15 فروری کو سری لنکا میں شیڈول ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

آئی سی سی کے مطابق کسی عالمی ایونٹ میں منتخب یا محدود شرکت عالمی کھیلوں کے بنیادی اصولوں، کھیلوں کی دیانت داری اور برابری کی بنیاد پر مقابلے کے تصور سے ہم آہنگ نہیں۔
آئی سی سی نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے کے پاکستان میں کرکٹ کے مستقبل اور عالمی کرکٹ نظام پر طویل المدتی اثرات ہو سکتے ہیں۔
آئی سی سی نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی20 ورلڈ کپ کا کامیاب انعقاد تمام رکن ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس نے پی سی بی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام فریقین کے مفادات کے تحفظ کے لیے باہمی طور پر قابلِ قبول حل تلاش کرے۔
Image
اس سے قبل چیئرمین پی سی بی اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات بھی ہوئی تھی جس میں پاکستان نے بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت کی تھی۔ (فوٹو: محسن نقوی)

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر انڈیا جا کر میچ کھیلنے سے انکار کیا، جس کے بعد آئی سی سی نے انہیں ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا تھا۔ پاکستان نے اس فیصلے کی حمایت کی تھی اور بعد ازاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے آئی سی سی پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے میں شامل ہے، جہاں اسے انڈیا، نیدرلینڈز، نمیبیا اور امریکہ کے خلاف میچز کھیلنے ہیں۔ پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا جو ٹورنامنٹ کا شریک میزبان ہے۔

شیئر: