Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور میں بسنت کی تیاریاں اور لانگ ویک اینڈ، ’مال کم جبکہ طلب زیادہ ہے‘

وزیراعلیٰ مریم نواز نے ایک پوسٹ لوگوں کو بسنت کے موقع کو انجوائے کرنے کا پیغام دیا ہے (فوٹو: پنجاب حکومت)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بسنت کی تیاریاں اپنے عروج پر ہیں۔ وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اگلے ہفتے کو لانگ ویک اینڈ قرار دیتے ہوئے شہریوں کو چھٹیاں انجوائے کرنے کا پیغام بھی دیا ہے۔
یعنی کہ بسنت کی چھٹیوں کے ساتھ پانچ فروری کی یوم کشمیر کی چھٹی بھی شامل کر دی گئی ہے۔
اب صوبے میں جمعرات پانچ فروری سے آٹھ فروری تک چھٹیاں ہوں گی جبکہ بسنت چھ، سات اور آٹھ فروری کو منائی جا رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے لاہور کو بسنت کے رنگوں میں رنگنا شروع کر دیا ہے۔
اس بسنت کی سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ سرکاری سطح پر منائی جانے والا یہ تہوار دو دہائیوں کے بعد ایسے وقت میں دوبارہ واپس آیا جس کو سوشل میڈیا کا دور کہا جاتا ہے۔
یہ اس دور میں آنے والی ملک کی پہلی بسنت ہے۔ اتوار یکم فروری سے قانون کے مطابق پتنگیں، گُڈے اور ڈور بیچی اور خریدی جا سکتی ہیں۔ تاہم صرف وہی لوگ پتنگ بازی کا سامان بیچنے کے اہل ہیں جن کو سرکار نے لائسنس جاری کر رکھے ہیں۔

شہر بھر میں ہر طرف بسنت کے رنگ نظر آ رہے ہیں (فوٹو: پاکستان کنیکٹ)

غیر معمولی ریٹس

یکم فروری کو قانونی طور پر پتنگ کا سامان بیچنے کا آغاز ہو گیا ہے تاہم مارکیٹ میں ریٹس نے تہوار کا مزہ کافی حد تک کرکرا کر دیا ہے۔
پتنگوں کی فروخت کے لیے جگہ جگہ پوائنٹس کھل چکے ہیں۔ باغبان پورہ سمیت اندرون شہر کی مارکیٹوں میں رنگ برنگ پتنگیں سج گئی ہیں۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ مال کم ہے اور ڈیمانڈ زیادہ ہے اس وجہ سے ریٹ زیادہ ہیں۔ شہر میں پتنگ 400 روپے سے 700 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔
محمد علی جو کہ سرکاری لائسنس یافتہ ٹریڈر ہیں انہوں ںے بتایا کہ ’حکومت نے جس کو کنٹرولڈ بسنت کہا تھا اب یہ کنٹرولڈ نہیں رہی ہے۔ ہر شخص بسنت منانا چاہتا ہے لیکن مارکیٹ میں مال اتنا کم ہے کہ لائسنس صرف لاہور کی حدود میں جاری کیے گئے اور جتنا کم وقت میسر آیا اس میں لاہور کی آبادی کے مطابق پتنگ بازی کا سامان بنانا ناممکن ہے اس لیے ریٹس غیر معمولی ہیں۔‘

شہر بھر میں بسنت کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

شہر کی سجاوٹ

فروری کا آغاز ہوتے ہی ضلعی انتظامیہ نے شہر کی مختلف سڑکوں کو بسنت کے رنگوں میں رنگنا شروع کر دیا ہے۔ برقی قمقوں، بسنتی رنگوں سے شہر کو سجایا جا رہا ہے۔ لبرٹی چوک میں دیوقامت گُڈے کا ماڈل نصب کر دیا گیا ہے۔ جبکہ شہر کی صفائی ستھرائی کا کام بھی جاری ہے۔ بسنت کے تینوں دن تمام پبلک ٹرانسپورٹ مفت ہو گی۔ میٹرو اور اورنج لائن، سپیڈو اور الیکٹرو سروسز کے ساتھ ساتھ سینکڑوں بسوں اور ہزاروں رکشے شہریوں کو مفت سفر کے لیے دستیاب ہوں گے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں بسنت کے تینوں دن مفت سفر کی سروس اس لیے شروع کی گئی ہے تاکہ لوگ موٹر سائیکلوں پر کم سے کم سفر کریں اور کسی بھی طرح کے حادثے سے محفوظ رہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت کم از کم 30 کروڑ روپے بسنت فسیٹیول پر خرچ کر رہی ہے (فوٹو: ایکس)

سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت کم از کم 30 کروڑ روپے بسنت فسیٹیول پر خرچ کر رہی ہے تاہم ضلعی حکومت کا کہنا ہے کہ ان اخراجات کا بیشتر حصہ نجی شعبے کے تعاون سے پورا کیا جا رہا ہے۔ یعنی زیادہ تر سجاوٹ مختلف کمپنیاں سپانسر کر رہی ہے۔
اسی طرح اندرون لاہور میں گھروں کی چھتیں کرائے پر دینے کے معاملے پر بھی حکومت نے نئے رولز متعارف کروائے ہیں۔ کسی بھی جگہ یا چھت پر 30 سے زائد افراد کے اکٹھ کے لیے ضلعی حکومت سے پرمٹ لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
چھتوں کے استعمال کے لیے 12 نکاتی کوڈ آف کنڈکٹ لاگو کیا گیا ہے جبکہ انتظامیہ ڈرون کیمروں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے پورے ایونٹ کی نگرانی بھی کرے گی۔

شیئر: