Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مٹی اور گارے سے بنے مکان جو گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں

سعودی عرب کے حدود الشمالیہ ریجن کے مختلف علاقوں میں مٹی اور گارے سے بنے کچے مکان آج بھی اپنے عظیم الشان ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔
چکنی مٹی کی اینٹوں سے بنائے گئے مکانوں کی سادگی کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ یہ کچے مکان برسوں ماحولیاتی تبدیلیوں کا بخوبی مقابلہ کر رہے ہیں۔

یہ گھر مکینوں کو سردیوں میں ٹھنڈ اور موسم گرما میں گرمی سے محفوظ رکھتے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق برسوں سے قائم یہ کچے مکان محض چکنی مٹی کی دیواریں ہی نہیں بلکہ عہدِ رفتہ کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ہیں جو ایک کھلی کتاب کی مانند ہیں۔

کھجور کے سوکھے تنوں، چکنی مٹی کی اینٹوں اور گارے کے لیپ سے بنی تعمیرات کے یہ شاہکار اس دور کے معماروں کی مہارت کی منہ بولتی حقیقت ہے جو برسوں سے آج بھی اپنی جگہ اسی طرح قائم ہیں۔
ان مکانات کی بناوٹ ایک دوسرے سے جدا ہونے کے باوجود ان میں کئی اقدار مشترک ہیں جیسا کہ ہر مکان میں مردانہ حصہ اور بیٹھک بنائی جاتی جبکہ گھر کے اندرون جدا ہوتا ہے۔ مہمانوں کے استقبال کا مقام الگ اور اہل خانہ کے مقامات مختلف سمت میں ہیں۔

ان ہی مکانات میں سب سے اہم شاہ عبدالعزیز کا محل ہے جو رفحا کمشنری کے جنوب میں واقع لینہ کے تاریخی قصبے میں آج بھی موجود ہے۔
یہ محل 90 برس کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی اسی شان و شوکت سے قائم ہے، جیسا روز اول تعمیر کیا گیا تھا۔

 

شیئر: