پرانے مکانات کی بیٹھکیں، دیہی ثقافت کا زندہ ورثہ
کچی مٹی سے بنے مکان آج بھی ملاقاتوں کے اہم مقام بنے ہوئے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
عہد رفتہ کے دیہات میں کچی مٹی سے بنے مکانات میں بیٹھکوں کا عام رواج تھا جہاں انسانی اقدار و تعلقات پروان چڑھتے اور تعارف و شناخت قائم ہوتی تھی۔
کچی مٹی کے ان مکانات کے درو دیوار کی انمٹ یادیں مکینوں کے ذہنوں میں نقش ہیں۔

مملکت کے حدود الشمالیہ کے متعدد تاریخی گاؤں جن میں لینہ، ولوقہ، والدوید اور ام رضمۃ شامل ہیں، آج بھی علاقے کے لوگوں کے لیے ایک دھڑکتے دل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
کچی مٹی سے بنے وہ سادہ مکان اہل علاقہ کے لیے آج بھی اہم مقام ہیں جہاں بنی بیٹھکیں مہمانوں کی آمدورفت اور اجداد کی قصوں سے پُر رونق رہتی ہیں۔

سادہ اور تنگ سی بیٹھک محدود وسائل کے باوجود سب سے لیے کشادہ ثابت ہوتی ہیں۔ ہر ایک ان میں بخوبی سما جاتا ہے جیسے کہ وہ ان سب کے لیے بنی ہو۔
ان مکانات کی کچی مٹی سے بنی ہوئی دیواریں جن پر زمانے کی دراڑیں نمایاں ہیں، دارصل ماضی کے ماہ و سال کی زندہ علامات ہیں جو یہاں گزرے واقعات کے امین ہیں۔

یہ بیٹھکیں مروجہ معیار اور پرتعیش سامان سے خالی اور سادگی کی علامت ہیں، ان کی تعمیر میں علاقے میں پایا جانے والا تعمیراتی مواد استعمال کیا گیا۔
اس میں سادگی اور متانت کا عنصر نمایاں ہے جو معاشرتی سچائی اور مستند اقدار و یکجہتی کا حقیقی آئینہ ہیں۔
