Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایسا لگتا ہے‘ کہ حماس اپنے ہتھیار ڈال دے گی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے‘ کہ حماس اپنے ہتھیار ڈال دے گی۔ 
عرب نیوز کے مطابق یہ فلسطین کے عسکریت پسند گروہ اور اسرائیل کے درمیان ’نازک‘ جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی ایک بنیادی شرط ہے۔
جمعرات کو صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے اُنہیں مذاکرات پر مختصر بریفنگ دی جس کے بعد صدر نے اس حوالے سے کابینہ کو آگاہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’بہت سے افراد کا یہ کہنا تھا کہ حماس والے کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے جا رہے ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تمام یرغمالیوں کی واپسی ’طاقت کے ذریعے امن‘ کی پالیسی کے تحت ممکن ہوئی، اور اس عمل میں حماس نے بھی کردار ادا کیا۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ایک امریکی عہدے دار نے یہ کہا تھا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ غزہ میں حماس کے جنگجوؤں کا غیرمسلح ہونا کسی نہ کسی قسم کی عام معافی (ایمنسٹی) کے ساتھ ہوگا۔‘
امریکہ کے اس عہدے دار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رپورٹرز سے پیر کو گفتگو کی۔ انہوں ںے یہ بات چیت حماس کی جانب سے اسرائیل کے آخری یرغمالی کی باقیات واپس کرنے کے موقعے پر کی۔ 
امریکی عہدے دار نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’امریکی حکام کو یقین ہے کہ فلسطین کی عسکریت پسند تنظیم ’حماس‘ اپنے ہتھیار ڈال دے گی۔‘
عہدے دار کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سُن رہے ہیں کہ حماس کے بہت سے کارکن اور ساتھی غیرمسلح ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ وہ ایسا کرنے جا رہے ہیں۔‘
’اگر انہوں نے ہتھیار نہ ڈالے تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ ہمارا خیال ہے کہ وہ کسی نہ کسی قسم کی معافی کی ضمانت کے بدلے غیرمسلح ہوں گے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمارا خیال ہے کہ ہمارے پاس حماس کو غیرمسلح کرنے کے لیے ایک بہت، بہت اچھا پروگرام موجود ہے۔‘

شیئر: