Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

موسم سرما کے پودے: عسیر ریجن میں ماحولیات کی خوبصورت میراث

عسیر ریجن مملکت میں حیاتیاتی تنوع سے بھرپور منظر ناموں میں سے ایک ہے۔ عسیر کی جادوئی دلکشی، موسمِ سرما میں اور بھی حسین ہو جاتی ہے جب یہاں کے بلند وبالا پہاڑ اور میدانی علاقے اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ایک تاباں ماحولیاتی منظر میں تبدیل جاتے ہیں۔
اس زمانے میں عسیر کا ریجن کہیں عام پودوں تو کہیں جنگلی درختوں سے بھرنا شروع ہوجاتا ہے۔
اس سیزن میں عسیر کے بلند علاقوں میں بادام، آڑو اور آلوچے خوب پھل پھول رہے ہوتے ہیں جبکہ تھامہ کے علاقے میں بہار کے آتے ہی، زمین سبزہ زار بن جاتی ہے۔
اس علاقے کی بلندی اور پستی پر مبنی بناوٹ اور اس کا ماحول، جس میں پہاڑوں کی چوٹیوں سے نیچے اترتی ہوئی وادیاں اور وادیوں سے آگے ساحلی علاقے شامل ہیں، خاص مقامی پودوں اور درختوں کے لیے انتہائی موزوں اور زرخیز زمین کا کام دیتے ہیں۔
 ان میں اکیشیا، تمرسک، صحرائی جھاڑیاں اور جنگلی پودے اگنا شروع ہو جاتے  جن کے پھولوں سے لد جانے سے شہد کی مکھیوں کے لیے سازگار حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔

سردیوں میں تھامہ میں استوائی درختوں پر پھول لگنے لگتے ہیں اور اس طرح یہ موسم بہت اہم حیثیت اختیار کر لیتا ہے کیونکہ اسی میں سبزہ اگنا شروع ہوتا ہے۔ یہی وہ زمانہ ہوتا ہے جب علاقے میں ماحولیاتی توازن از سرِ نو جنم لیتا ہے۔
ماحولیات کے ماہر سعید السھیمی نے سعودی پریس ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا’ عسیر ریجن کی اس قدرتی دولت کو اب آہستہ آہستہ سر اٹھانے والے کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک اہم مسئلہ بارش اور دُھند میں کمی کی وجہ سے پیش آتا ہے۔ پودوں کو پرورش اور نشو و نما کے لیے ان دونوں قدرتی عناصر کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔‘
’خاص طور پر بارش اور دھند کی کمی، پہاڑی علاقے میں اُگنے والے پودوں اور درختوں کی پائیداری کے لیے لازمی ہیں۔ ان عوامل نے پودوں اور درختوں کی کئی مقامی اقسام کو منفی انداز میں متاثر کیا ہے۔ ان حالات کی وجہ سے خاص طور پر ارغوانی رنگ کے مخروطی بیروں والے سدا بہار درخت بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ’ حد سے زیادہ جنگلوں کی کٹائی، مٹی میں کمی، زمین میں شگاف اور ماحولیات میں عمومی تنزل کی وجہ سے ان علاقوں کا ایکو سسٹم متاثر ہوا ہے۔‘
سعید السھیمی کے مطابق ’شہروں کا پھیلاؤ اور زمینوں کی بازیابی سے بھی سبزے میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ خود رو پودوں میں اضافہ بھی پودوں کی مقامی اقسام میں خرابی کا باعث بنا ہے کیونکہ خود رو پودے مقامی پودوں سے ایک طرح کا ’جارحانہ‘ سلوک کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’بار بار کے قحط سے سبزے پر برا اثر پڑا ہے اور اس کے باوجود کہ پہاڑی علاقوں میں قدرتی چراگاہیں موجود ہیں پھر بھی ان میں خرابی کے بعد تندرسی کی صلاحیت بہت کم ہوگئی ہے، جس سے لائیو سٹاک اور ماحولیات میں ان کا کردار بری طرح متاثر ہوا ہے۔‘

 السھیمی نے زور دے کرکہا کہ’ اس تصور کے برعکس کے عسیر کے جنگلات میں (خرابی روکنے کے لیے) مداخلت کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی، علاقے کو طویل مدتی تحفظ اور بحالی کے پروگرام درکار ہیں۔‘
اگرچہ موجودہ کوششیں صرف ابتدائی صورت میں موجود ہیں لیکن ماحولیات کی اس خوبصورت میراث کے تحفظ اور مستقبل کی نسلوں کے لیے اس کی پائیداری کی خاطر یہ کوششیں بہر حال اہم ہیں۔

 

شیئر: