خیبر پختونخوا میں تین نئی موٹرویز سے سیاحت کو کیا فائدہ ہو گا؟
خیبر پختونخوا میں تین نئی موٹرویز سے سیاحت کو کیا فائدہ ہو گا؟
بدھ 7 جنوری 2026 14:29
فیاض احمد، اردو نیوز۔ پشاور
حکومت کے مطابق نئی موٹروے سے مالاکنڈ سے جنوبی اضلاع تک سفر آسان ہو گا: فوٹو ویکی پیڈیا
خیبر پختونخوا میں برسوں سے دشوار گزار راستوں اور طویل سفری مشکلات کا سامنا کرنے والے علاقوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سوات، دیر اور جنوبی اضلاع کو آپس میں اور ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے کے لیے تین نئی موٹرویز کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
ان منصوبوں کو نہ صرف سفری سہولت میں انقلاب قرار دیا جا رہا ہے بلکہ ماہرین کے مطابق یہ شاہراہیں سیاحت، سرمایہ کاری اور مقامی معیشت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔
ان نئی موٹرویز سے کن علاقوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا اور یہ منصوبے زمینی حقائق کو کس حد تک بدل سکیں گے؟
ان منصوبوں میں ایک تو سوات موٹروے فیز II ہے جو چکدرہ انٹر چینج سے فتح پور تک ہوگی، جس میں 9 انٹر چینجز اور7 پل شامل ہوں گے۔
موٹروے کا دوسرا منصوبہ چکدرہ سے دیر رباط کے علاقے تک ہے جب کہ تیسرا بڑا منصوبہ پشاور سے ڈی آئی خان تک موٹر وے کی تعمیر ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے موٹروے کے تینوں منصوبوں کو شروع کرکے جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔
موٹروے کے تینوں منصوبوں پر کتنی لاگت آئے گی
پشاور سے ڈی آئی خان تک موٹروے ایک میگا منصوبہ ہے جس پر 250 ارب روپے کی لاگت آئے گی: فوٹو پکسابے
مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق معاون خصوصی ڈاکٹر شفقت ایاز نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’سوات موٹروے فیز ٹو چکدرہ سے شروع ہوگی جو سوات بریکوٹ، مٹہ اور پھر فتح پور تک جائے گی جس کی کل لمبائی 80 کلومیٹر ہے اور اس پر آنے والی مجموعی لاگت کا تخمینہ 58 ارب روپے لگایا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سوات موٹروے پر 9 انٹرچینجز اور دریائے سوات پر 7 مختلف مقامات پر پل بھی بنائے جائیں گے۔‘
ڈاکٹر شفقت ایاز کے مطابق چکدرہ سے دیر رباط تک موٹروے کی کل لمبائی 29 کلومیٹر ہے جبکہ اس پر تقریبا 39 ارب روپے خرچ ہوں گے اس موٹروے کے لیے دو ٹنل بھی بنائے جائیں گے۔
سابق معاون خصوصی ڈاکٹر شفقت ایاز کا کہنا تھا کہ ’پشاور سے ڈی آئی خان تک موٹروے ایک میگا منصوبہ ہے جس پر 250 ارب روپے کی لاگت آئے گی جس کی مجموعی لمبائی 365 کلومیٹر ہے اور اس موٹر وے پر 19 انٹرچینجز اور دو ٹنل بھی شامل ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’دیر موٹروے منصوبہ صوبائی بجٹ سے مکمل کیا جائے گا تاہم سوات موٹروے فیز ٹو اور ڈی آئی خان موٹروے پبلک پرائیویٹ پاٹنرشپ کے تحت مکمل کی جائیں گی۔‘
محکمہ مواصلات کے ذرائع کے مطابق چکدرہ سے رباط موٹروے کے لیے مقامات کا تعین کرکے فیزیبلٹی رپورٹ تیارکرلی گئی ہے جس پر جلد کام شروع کیا جائے گا -
نئی موٹروے سے سیاحت کو کیا فائدہ ہوگا؟
نئی موٹر ویز سیاحت، سرمایہ کاری اور مقامی معیشت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گی: فوٹو اے ایف پی
پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر شفقت ایاز کا کہنا ہے کہ ’دیر اور سوات سیاحتی علاقے ہیں۔ موٹروے کے بننے سے سیاحت کے شعبے کو مزید فروغ ملے گا۔
سوات کے علاقے پنجاب کے ساتھ لنک ہوجائیں گے جس کی وجہ سے سوات کے سیاحتی مقامات تک رسائی میں آسانی ہوگی، اسی طرح دیر کے پہاڑی علاقوں کا مشکل سفر بھی کم ہو جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’گھنٹوں کا سفر اب منٹوں میں ہوگا جس کے باعث سیاحوں کی تعداد میں اضافہ نظر آئے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’موٹروے بننے کے بعد اَپر دیر اور چترال کا سفر بھی جلد طے کیا جا سکے گا جو کہ اس علاقے میں سیاحت کے لیے نئی راہیں ہموار کرے گا اسی طرح ٹنل اور پلوں کی تعمیر سے ان علاقوں میں سفر کے دوران لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خدشات بھی کم ہو جائیں گے۔‘
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کہتے ہیں کہ ’صوبائی حکومت اپنے محدود وسائل کے باوجود ترقیاتی کاموں میں تیزی لارہی ہے بالخصوص دور افتادہ اضلاع میں سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے تاکہ ان علاقوں میں عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہوسکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’نئی موٹروے کی تعمیر سے مالاکنڈ سے جنوبی اضلاع تک سفری مشکلات میں کمی آئے گی جب کہ سیاحت اور سرمایہ کاری کے لیے بھی نئی راہیں کھلیں گی۔‘