شمالی کوریا کا ’امریکہ تک مار کرنے والے‘ میزائل انجن کا تجربہ
اتوار 29 مارچ 2026 12:19
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
حالیہ برسوں میں شمالی کوریا مختلف اقسام کے آئی سی بی ایم کا تجربہ کر چکا ہے (فائل فوٹو: بریٹینا)
شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن نے ہتھیاروں کے لیے ایک ہائی تھرسٹ، سالڈ فیول انجن کے تجربے کا مشاہدہ کیا اور اسے ملک کی سٹریٹجک عسکری صلاحیت بڑھانے کی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کم جونگ اُن ایسے میزائلوں کے ذخیرے کو بڑھانے اور جدید بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو امریکہ کے مرکزی حصے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
کوریئن سنٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کی رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل کم جونگ اُن نے شمالی کوریا کی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اپنے ملک کی جوہری طاقت کی حیثیت کو ناقابل واپسی بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
انہوں نے امریکہ پر عالمی سطح پر ’ریاستی دہشت گردی اور جارحیت‘ کرنے کا الزام عائد کیا، جس کا اشارہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی طرف تھا۔
کے سی این اے کے مطابق کم جونگ اُن نے نئے اپ گریڈ شدہ انجن کے گراؤنڈ جیٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ کیا، جس میں کمپوزٹ کاربن فائبر مواد استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق انجن کی زیادہ سے زیادہ تھرسٹ دو ہزار 500 کلو ٹن ہے، جو ستمبر میں ہونے والے اسی نوعیت کے سالڈ فیول انجن کے تجربے میں رپورٹ کیے گئے تقریباً ایک ہزار 971 کلو ٹن سے زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق انجن کی طاقت میں اضافہ ممکنہ طور پر ایک ہی میزائل پر متعدد وار ہیڈز نصب کرنے کی کوششوں سے منسلک ہے تاکہ امریکی دفاعی نظام کو شکست دینے کے امکانات بڑھائے جا سکیں۔
کے سی این اے نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تجربہ کب اور کہاں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ تجربہ ملک کے پانچ سالہ عسکری توسیعی منصوبے کے تحت کیا گیا ہے جس کے مقاصد میں ’سٹریٹجک سٹرائیک مینز‘ کو اپ گریڈ کرنا شامل ہے۔
اس حوالے سے سمجھا جاتا ہے کہ اس سے مراد جوہری صلاحیت کے حامل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) ہیں جو امریکہ کے مرکزی حصے کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔
کم جونگ اُن نے کہا کہ ’حالیہ انجن کا تجربہ ملک کی سٹریٹجک عسکری طاقت کو بلند ترین سطح پر لے جانے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔‘
حالیہ برسوں میں شمالی کوریا مختلف اقسام کے آئی سی بی ایم کا تجربہ کر چکا ہے، جن میں ایسے میزائل بھی شامل ہیں جو امریکہ تک پہنچنے کی ممکنہ حد رکھتے ہیں۔
ان میزائلوں میں سالڈ فیول میزائل جو لانچ سے قبل شناخت کو مشکل بنا دیتے ہیں، شامل ہیں۔ اس کے برعکس پرانے لیکویڈ فیول میزائلوں کو لانچ سے پہلے ایندھن بھرنا پڑتا ہے اور وہ زیادہ دیر تک تیار حالت میں نہیں رہ سکتے۔
کچھ غیر ملکی ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کو اب بھی مکمل طور پر فعال آئی سی بی ایم تیار کرنے کے لیے تکنیکی مسائل کا سامنا ہے، جیسے کہ وار ہیڈز کو فضا میں دوبارہ داخلے کے سخت حالات سے محفوظ رکھنا۔ تاہم دیگر ماہرین اس رائے سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملک نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام پر کئی برسوں سے کام کیا ہے۔
شمالی کوریا نے سنہ2019 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارت کاری کی ناکامی کے بعد اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو تیزی سے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔
فروری میں ورکرز پارٹی کے اجلاس میں کم جونگ اُن نے ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا تھا تاہم واشنگٹن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی شرط ختم کرے۔
