شمالی یورپ میں شدید طوفان، برف باری سے سفری نظام درہم برہم، بجلی کی فراہمی معطل
رواں ہفتے یورپ بھر میں موسم سے متعلق حادثات کے باعث 10 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
شدید طوفانی ہواؤں اور طاقتور برفانی طوفانوں نے جمعے کو شمالی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث فضائی اور ریلوے سفر شدید متاثر ہوا جبکہ شدید سردی کے دوران لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔
اے ایف پی کے مطابق لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر تقریباً 50 پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے۔ یورپ بھر میں فضائی آمدورفت متاثر رہی، جو جمہوریہ چیک سے لے کر ماسکو تک پھیلی ہوئی تھی۔
برطانیہ سے جرمنی تک موسمیاتی ماہرین نے عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی، جبکہ شدید موسمی حالات کے حوالے سے انتباہ جاری کیے گئے۔ ان میں برطانیہ کے جنوب مغربی علاقوں، جزائرِ سِلی اور کارن وال کے لیے بلند ترین سطح کا ریڈ وِنڈ الرٹ بھی شامل تھا۔
جمعے کے روز کارن وال میں تمام ٹرین سروسز منسوخ کر دی گئیں۔
برطانیہ کے نیشنل گرڈ کے مطابق، طوفان گوریٹی کے باعث شدید ہواؤں اور بھاری برفباری کے بعد ملک میں تقریباً 57 ہزار گھر تاحال بجلی سے محروم ہیں۔

سکاٹ لینڈ میں 250 سے زائد اسکول بند رہے، جہاں کرسمس کی تعطیلات کے بعد پہلے ہفتے سے ہی خراب موسم کا سامنا ہے۔
فرانس میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے اینیڈِس کے مطابق، طوفان گوریٹی کے باعث تقریباً 3 لاکھ 80 ہزار گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی، جن میں اکثریت شمالی نارمنڈی کے علاقوں کی تھی۔
فرانسیسی حکام کے مطابق، ملک کے شمال مغربی علاقے مانش میں رات کے وقت ہواؤں کی رفتار 216 کلومیٹر فی گھنٹہ (134 میل فی گھنٹہ) تک ریکارڈ کی گئی۔

شدید ہواؤں کے باعث درخت اکھڑ گئے۔ انگلینڈ اور ویلز میں 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی سپیڈ سے ہوائیں چلتی رہیں، جبکہ میٹ آفس نے خبردار کیا کہ انتہائی بلند لہریں ساحلی علاقوں میں خطرناک حالات پیدا کر سکتی ہیں۔
میٹ آفس نے ویلز، وسطی انگلینڈ اور شمالی انگلینڈ کے کچھ حصوں کے لیے ایمبر سنو وارننگ بھی جاری کی، جس میں بعض علاقوں میں 30 سینٹی میٹر (11 انچ) تک برفباری کی پیش گوئی کی گئی۔
رواں ہفتے یورپ بھر میں موسم سے متعلق حادثات کے باعث 10 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تازہ اموات ترکی میں رپورٹ ہوئیں، جہاں ترک میڈیا کے مطابق پانچ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سکول بند
شمالی فرانس کے بعض علاقوں میں سکول بدستور بند رہے، جہاں مزید 30 علاقوں میں موسمی انتباہات جاری کیے گئے ہیں۔

فرانس کے انتہائی شمال مغربی علاقوں میں رات بھر طاقتور لہریں بندرگاہوں کی دیواروں سے ٹکراتی رہیں، جبکہ طوفان کے مشرق کی جانب بڑھنے سے سیلاب آیا اور دیئپے سمیت متعدد سڑکیں اور بندرگاہیں بند کر دی گئیں۔
شمالی جرمنی میں طوفان ایلی کے باعث شدید برفباری اور تیز ہواؤں نے معمولات زندگی مفلوج کر دی۔ ہیمبرگ اور بریمن کے شہروں میں سکول بند کر دیے گئے جبکہ طویل فاصلے کی ریل سروسز منسوخ کر دی گئیں۔

مالدووا میں تقریباً 600 اسکول آئندہ پیر تک بند کر دیے گئے، جبکہ رومانیہ میں لگ بھگ ایک ہزار گھر بجلی سے محروم رہے۔
ادھر بلقان کے بعض علاقوں میں جمعے کے روز سیلابی پانی اترنا شروع ہو گیا، جہاں ہفتے کے آغاز میں شدید برفباری اور موسلا دھار بارشوں کے باعث متعدد ممالک میں سینکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا تھا اور کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
