Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں بارشوں اور برفباری کا امکان، آئندہ ہفتے لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

دھند کا امکان بارش کے دوران وسطی/جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ میں کم ہو جائے گا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے محکمہ موسمیات نے پہاڑی علاقوں میں شدید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کرتے ہوئے آئندہ ہفتے ملک کے شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے امکان سے خبردار کیا ہے۔
اتوار کو محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مغربی ہوا کا سلسلہ 29 دسمبر سے پاکستان کے مغربی علاقوں میں داخل ہوگا اور 30 دسمبر سے مزید مضبوط ہوگا۔ یہ سلسلہ 31 دسمبر کو ملک کے بالائی اور وسطی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور 2 جنوری تک بالائی علاقوں میں برقرار رہے گا۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا امکان ہے، سیاح انتہائی احتیاط برتیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا کہ پنجاب کے مری اور گلیات میں 30 دسمبر سے 2 جنوری تک بارش، ہوا کے جھکڑ، گرج چمک اور برفباری کا امکان ہے۔ اسی دوران گلگت بلتستان اور کشمیر کے شمالی علاقوں میں بھی بارش، ہوا کے جھکڑ اور معتدل برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے شمالی علاقوں میں 30 دسمبر سے یکم جنوری تک بارش، ہوا کے جھکڑ، گرج چمک اور معتدل سے شدید برفباری کا امکان ہے۔
سندھ اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں 29 سے 31 دسمبر تک بارش، ہوا کے جھکڑ، گرج چمک اور برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ برفباری کے باعث ناران، کاغان، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، اسکردو، مری، گلیات اور نیلم ویلی میں سڑکیں بند یا پھسلن کا شکار ہو سکتی ہیں۔
دھند کا امکان بارش کے دوران وسطی/جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ میں کم ہو جائے گا۔
ماضی میں حکام نے لوگوں کو شمالی علاقوں میں جانے سے گریز یا سفر کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے رہے ہیں جب موسم سرما میں حالات خراب ہونے کا امکان ہو۔
جنوری 2022 میں مری میں شدید برفباری کے باعث سڑکیں بند ہونے پر کم از کم 21 افراد، جن میں 9 بچے شامل تھے، گاڑیوں میں پھنس کر سردی سے ہلاک ہو گئے تھے۔

 

شیئر: