یورپ میں سردی کی شدید لہر سے حادثات میں 6 افراد ہلاک، سینکڑوں پروازیں منسوخ
یورپ میں سردی کی شدید لہر سے حادثات میں 6 افراد ہلاک، سینکڑوں پروازیں منسوخ
منگل 6 جنوری 2026 21:43
ایمسٹرڈیم کے ایئرپورٹ پر منگل کو سرد موسم کی وجہ سے کم سے کم 600 پروازیں منسوخ ہو گئیں (فوٹو: اے ایف پی)
یورپ کے وسیع علاقوں میں منگل کو شدید سردی کے باعث سفر میں دوسرے روز بھی خلل جاری رہا۔موسم سرما سے ہونے والے حادثات اور اب تک کی سب سے سخت سرد لہر کے کے نتیجے میں پورے براعظم میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پیر کو درجہ حرارت گِرنے کے بعد فرانس میں پانچ ہلاکتیں ہوئیں، جب کہ بوسنیا میں ایک خاتون جان سے چلی گئی۔
بدھ کو پیرس کے اورلی اور چارلس ڈیگال ایئرپورٹس پر متعدد پروازیں منسوخ کی گئیں تاکہ زمینی عملہ رن وے اور طیاروں سے برف ہٹا سکے۔
شدید سرد موسم میں چارلس ڈیگال ایئرپورٹ پر 40 جبکہ اورلی ایئرپورٹ پر 25 فیصد فیصد پروازیں منسوخ کی گئیں۔
مشرقی انگلینڈ کی کاؤنٹی نورفولک میں پیر اور منگل کی رات درجہ حرارت منفی 12.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گِر گیا، جبکہ نیدرلینڈز میں منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت کی وجہ سے منگل کی صبح ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی۔
برطانیہ کے محکمہ موسمیات کے مطابق ’پیر کو موسم سرما کی اب تک کی سب سے سرد رات تھی۔‘ اس صورتِ حال میں قریباً سارا برطانیہ برف باری کی وجہ سے الرٹ ہے اور مزید برف باری کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔
شدید سردی کی وجہ سے سڑکوں پر سفر کرنا بھی خطرناک ہو گیا ہے، پیر کی صبح جنوب مغربی فرانس میں برف کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
برطانیہ کے محکمہ موسمیات کے مطابق ’پیر کو موسم سرما کی اب تک کی سب سے سرد رات تھی‘ (فوٹو: گیٹی امیجز)
حکام کے مطابق شدید سردی کے باعث سڑکوں پر سفر کرنا خطرناک ہو گیا ہے اور پیر کی صبح جنوب مغربی فرانس میں برف باری سے ہونے والے حادثات میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
حکام نے بتایا کہ پیر کی رات ہی پیرس کے علاقے دریائے مارنے میں گاڑی گِرنے سے زخمی ہونے والا ٹیکسی ڈرائیور ہسپتال میں چل بسا۔
پولیس ذرائع کے مطابق گاڑی میں سوار مسافر کا ہسپتال میں علاج جاری ہے۔ پیر کو پیرس کے مشرق میں ایک اور ڈرائیور بھی گاڑی سے تصادم کے بعد ہلاک ہو گیا۔
نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم کےسکپہول ایئرپورٹ پر منگل کو سرد موسم کی وجہ سے کم سے کم 600 پروازوں کو منسوخ کرنا پڑا، اور مسافروں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔