’رواں سال افغانستان میں 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار‘
ورلڈ فوڈ پروگرام آئندہ چھ ماہ میں 60 لاکھ افغانوں کو خوراک فراہم کرنے کے لیے 390 ملین ڈالر کی اپیل کر رہا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
24 سالہ نجیبہ اپنے ننھے بچے عرطیہ پر ہر وقت نظر رکھتی ہے، جو افغانستان میں رواں سال غذائی قلت کے باعث موت کے خطرے سے دوچار تقریباً چالیس لاکھ بچوں میں سے ایک ہے۔
تین ماہ کی عمر میں نمونیا ہونے کے بعد عرطیہ کی حالت بگڑ گئی، جس پر اس کے والدین مدد کی تلاش میں ان کو لے کر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال کا چکر لگاتے رہے۔
نجیبہ نے مغربی افغانستان کے ہرات ریجنل ہسپتال میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’مجھے نہ مناسب آرام ملا اور نہ ہی اچھی غذا۔‘
انہوں نے کہا کہ ان دنوں میرے پاس اپنے بچے کو پلانے کے لیے مناسب مقدار دودھ نہیں ہے۔
نجیبہ، جنہوں نے رازداری کی خاطر اپنا خاندانی نام بتانے سے گریز کیا، نے بتایا کہ خاندان کا گزر بسر ان کے شوہر کی الیکٹرک سامان کی دکان سے ہوتا ہے۔
نجیبہ اور ان کے شوہر نے عرطیہ کے علاج کے لیے اپنی معمولی جمع پونجی خرچ کر دی، بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ بچے کو پیدائشی دل کی بیماری ہے۔

انہوں نے کہا ’کوئی بھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ میں کس کرب سے گزر رہی ہوں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں ہر روز اپنے بچے کو اس حالت میں دیکھ کر کیسا محسوس کرتی ہوں۔‘
نجیبہ کا کہنا ہے کہ ‘میرے پاس اب صرف دعا ہی باقی ہے کہ میرا بچہ صحت یاب ہو جائے۔‘
ورلڈ فوڈ پروگرام کے افغانستان میں ڈائریکٹر جان آئیلیف نے کہا کہ خواتین اپنی صحت اور غذائیت قربان کر کے اپنے بچوں کو کھلا رہی ہیں۔
ہرات ہسپتال کے غذائیت مرکز میں کئی ہفتے گزارنے کے بعد عرطیہ کا وزن بڑھا ہے، جہاں دیواروں پر غباروں اور پھولوں کی رنگین تصویریں بنی ہوئی ہیں۔

نجیبہ جیسی ماؤں کو، جو اپنے بچوں کو خوراک نہ دے پا رہلی ہیں، نفسیاتی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔
اسی دوران، نجیبہ کے مطابق عرطیہ کے والد ’ہر دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں تاکہ کچھ رقم ادھار مل سکے، جو دوسرے وارڈ میں ہونے والے مہنگے دل کے آپریشن کے لیے درکار ہے۔
’حیران کن‘ پیمانہ
اوسطاً ہر ماہ 315 سے 320 غذائی قلت کے شکار بچوں کو اس مرکز میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہ مرکز فلاحی ادارے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (MSF) کے تعاون سے چل رہا ہے۔
ایم ایس ایف کے ہرات میں ڈپٹی کوآرڈینیٹر، ہمایوں ہمت کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد، کم آمدنی والے خاندانوں کو بین الاقوامی امداد میں کمی، خشک سالی، اور ایران و پاکستان سے تقریباً 50 لاکھ افغانوں کی واپسی کے معاشی اثرات نے شدید متاثر کیا ہے۔
جان آئیلیف نے کابل میں اے ایف پی کو بتایا کہ ’2025 میں ہم نے افغانستان میں اکیسویں صدی کے آغاز کے بعد بچوں میں غذائی قلت کی سب سے بڑی لہر دیکھی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس سال بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ ’اس ملک میں حیران کن طور پر 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہوں گے اور انہیں علاج کی ضرورت ہوگی۔
’اگر ان بچوں کا علاج نہ کیا گیا تو وہ مر جائیں گے‘
ورلڈ فوڈ پروگرام آئندہ چھ ماہ میں 60 لاکھ افغانوں کو خوراک فراہم کرنے کے لیے 390 ملین ڈالر کی اپیل کر رہا ہے، تاہم آئیلیف کے مطابق اس رقم کے ملنے کے امکانات ’انتہائی مایوس کن‘ ہیں۔
ڈبلیو ایف پی کے ڈائریکٹر کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے اسلامی قانون کی سخت تشریح نافذ کیے جانے کے بعد دنیا بھر سے آنے والے امداد کے وعدے افغان خواتین کے لیے بہت کم مددگار ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اب وہ اپنی گود میں اپنے بچوں کو بھوک سے مرتا ہوا دیکھ رہی ہیں۔‘
چالیس ملین سے زائد آبادی والے اس ملک میں غذائی قلت کے علاج کے لیے طبی مراکز کی تعداد نہایت محدود ہے۔

کئی خاندان اپنے صوبوں میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر کے ہرات ہسپتال پہنچتے ہیں۔
نرس ٹیم کی سپروائزر ورنگا نیامتی نے بتایا کہ اکثر مریض ’آخری مرحلے‘ میں لائے جاتے ہیں، جہاں ان کی زندگی کی کوئی امید نہیں ہوتی۔
اس کے باوجود، وہ کہتی ہیں کہ وہ ان بچوں کو بچانے پر فخر محسوس کرتی ہیں جنہیں بھوک سے بچایا جا سکتا ہے۔
بچوں کے علاج کے ساتھ ساتھ نرسنگ ٹیم خواتین کو دودھ پلانے کے بارے میں بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے، جو غذائی قلت سے نمٹنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

نرس فوزیہ عزیزی کے مطابق، اکیلی مائیں جو صفائی یا زراعت کے شعبے میں کام کرتی ہیں، اکثر پانی کی کمی کے باعث اتنا دودھ پیدا نہیں کر پاتیں۔
یہ کلینک 25 سالہ جمیلہ کے لیے زندگی بچانے کا ذریعہ ثابت ہوا، جنہوں نے بھی رازداری کی وجہ سے اپنا خاندانی نام ظاہر نہیں کیا۔
جمیلہ کی آٹھ ماہ کی بیٹی ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا ہے اور ساتھ ہی غذائی قلت کا شکار بھی ہے، حالانکہ ان کے شوہر ایران میں کام کر کے پیسے بھیجتے ہیں۔
پھول دار دوپٹہ اوڑھے جمیلہ نے مستقبل کے بارے میں خوف کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’اگر میرے شوہر کو ایران سے نکال دیا گیا تو ہم بھوک سے مر جائیں گے۔‘
