افطار دسترخوانوں کا تبادلہ: عسیر کے دیہات جو پرانی روایات کو زندہ کر رہے ہیں
عسیر ریجن میں تاریخی اور ثقافتی دیہات رمضان کی روایات کو ایک مرتبہ پھر زندہ کر رہے ہیں جو سادگی اور سماجی ہم آہنگی کی عکاس ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہاں سادہ طرزِ زندگی، باہمی تعلقات کی گرمجوشی اور باہمی تعاون کی اقدار نمایاں طور پر نظر آتی ہیں جو پرانے وقتوں کے رمضان کے اُس سادہ اور روحانیت سے بھرپور دور کی عکاسی کرتی ہیں۔
ماضی کی روایات اور رسم و رواج آج بھی یہاں کے لوگوں کی یادوں اور روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہیں۔
ظھران الجنوب ثقافتی سوسائٹی کے سربراہ سعید عوض الوادعی نے ایس پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں لوگ رمضان کی آمد کی تیاری بہت پہلے سے شروع کر دیتے تھے۔ ہمارے آبا و اجداد مقامی زرعی اجناس کا ذخیرہ کرتے تاکہ افطار و سحری کے لیے ضروری سامان مہیا ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں افطار اور سحری کے دسترخوان بہت سادہ ہوتے تھے۔ عموماً کھجور، دودھ، پانی اور عربی قہوہ بنیادی اشیا ہوتی تھیں جبکہ مقامی روایتی پکوانوں میں عریکہ، گھی اور دودھ شامل ہوتے تھے۔
اس کے علاوہ تندور میں پکی ہوئی روٹی جو مکئی، گندم اور جو سے تیار کی جاتی تھی، بھی پیش کی جاتی تھی۔ اگر گوشت دستیاب ہوتا تو اس سے عصیدہ تیار کیا جاتا اور شوربے کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا۔
ان کے مطابق پورا گھرانہ ایک ہی دسترخوان پر اکٹھا ہوتا تھا اور خاندان کا بزرگ سربراہ ہوتا تھا جو خاندانی اتحاد اور باہمی شرکت کی خوبصورت مثال پیش کرتا تھا۔
سعید عوض الوادعی بات جاری کرتے ہوئے کہا کہ دیہات میں رمضان کا ایک نمایاں پہلو سماجی یکجہتی اور باہمی تعاون کا فروغ تھا۔
’لوگ اجتماعی اقدامات کے تحت ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے اور پڑوسیوں اور خاندان کے مابین تعلقات کو مستحکم بناتے تھے۔ اس کے لیے روایتی بیٹھکوں کا بھی اہتمام کیا جاتا جو ثقافتی اور سماجی پلیٹ فارم کا کردار ادا کرتی تھیں، جہاں بزرگ اپنے تجربات بیان کرتے۔‘

الوادعی کے مطابق افطار سے قبل پڑوسیوں کے درمیان افطار دسترخوانوں کا تبادلہ بھی رمضان کی اہم روایت تھی۔ اسی طرح مساجد میں مسافروں اور راہ گیروں کے لیے افطار کا لازمی اہتمام کیا جاتا تھا، جبکہ بعض معززین زکوٰۃ اور صدقات مستحق خاندانوں میں تقسیم کرتے تھے۔ یہ سب معاشرتی یکجہتی اور باہمی تعاون کی روایات کی عکاسی کرتے تھے جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ رمضان کا چاند دیکھنے کی خبر بھی ایک سماجی موقع ہوتی تھی۔ لوگ شہروں سے آنے والوں یا موصول ہونے والی اطلاع کے ذریعے چاند دکھائی دینے کی خبر سنتے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے جس سے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے درمیان ملاقاتوں کا آغاز ہو جاتا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دیہاتوں میں رمضان کی راتیں مختلف روایتی کھیلوں سے بھی آباد رہتی تھیں جو اس وقت سماجی زندگی کا اہم حصہ سمجھے جاتے تھے۔ ان میں ’المساراہ‘ نامی کھیل خاص طور پر مشہور تھا جس میں خوشی اور مسابقت کا ماحول ہوتا تھا۔

اس کے علاوہ ’المناصعہ‘، ’المقطار‘، ’المرجیحہ‘ اور ’المقیصا‘ جیسے کھیل بھی کھیلے جاتے تھے، جن میں گاؤں کے بچے اور نوجوان مل کر خوشگوار رمضان کی راتیں گزارتے تھے۔
عسیر ریجن کے روایتی گاؤں میں رمضان کی یہ یادیں آج بھی معاشرتی اقدار اور باہمی تعاون کی مضبوط روایت کی گواہ ہیں۔ یہ روایات اور رسم و رواج آج بھی اس علاقے کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں اور جدید زندگی کے باوجود آبا و اجداد کے ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔