’تعلقات میں بہتری‘، نئی دہلی میں طالبان کا پہلا ایلچی تعینات
’تعلقات میں بہتری‘، نئی دہلی میں طالبان کا پہلا ایلچی تعینات
منگل 13 جنوری 2026 7:40
اکتوبر 2025 میں افغان وزیر خارجہ امیر خان منتقی نے انڈیا کا دورہ کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان کی طالبان حکومت نے انڈیا کے لیے اپنا پہلا باقاعدہ ایلچی مقرر کر دیا ہے جو دہلی میں سفارت خانے میں خدمات انجام دیں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد انڈیا میں ہونے والی یہ پہلی اہم سفارتی تعیناتی ہے۔
انڈیا نے سرکاری طور پر ابھی تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے تاہم اس اقدام سے دونوں کے تعلقات میں بہتری کا اشارہ ملتا ہے اور ایسا تاثر بھی کہ نئی دہلی اسلام آباد اور کابل کے درمیان دوری کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
افغان سفارت خانے کا کہنا ہے کہ مذکورہ نمائندے کا نام نور احمد نور ہے اور وہ وزارت خارجہ سے منسلک ہیں، وہ پہلے ہی کئی انڈین حکام کے ساتھ ملاقاتیں کر چکے ہیں۔
سفارت خانے نے پیر کو ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’دونوں اطراف نے افغانستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں بہتری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔‘
انڈیا کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے تاہم افغان سفارت خانے نے نور احمد نور کی ایک ایسی تصویر بھی پوسٹ کی ہے جس میں وہ انڈین وزارت خارجہ کے سینیئر عہدیدار آنند پرکاش کے ساتھ گرمجوشی سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔
طالبان کی اسلامی قوانین کی سخت تشریح کے حوالے سے خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست کے ساتھ زیادہ میل نہ کھائے مگر انڈیا اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے۔
مئی 2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مختصر مگر مہلک لڑائی ہوئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
جوہری طاقتیں رکھنے والے پڑوسی ملک انڈیا اور پاکستان کے درمیان پچھلے برس مئی میں ایک مختصر مگر مہلک لڑائی ہوئی تھی جو پچھلی کئی دہائیوں کا بدترین تصادم تھا۔
نور احمد نور کی تعیناتی طالبان کے لیے بہت اہم ہے جو بین الاقوامی سطح پر افغانستان کی سفارتی حیثیت کی بحالی اور بیرون ملک سفارتی مشنز کے لیے کوشش کر رہا ہے۔
اکتوبر میں انڈیا کی حکومت نے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں اپنے مشن کو اپ گریڈ کرے گا اور اسے مکمل سفارت خانے کا درجہ دیا جائے گا۔
روس دنیا کا واحد ملک ہے جس نے سرکاری طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے۔
خیال رہے امریکہ اور نیٹو کی افواج تقریباً 20 برس تک افغانستان میں موجود رہیں اور 2001 میں طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا تاہم اگست 2021 میں افواج نکلنے کے بعد طالبان نے دوبارہ ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور اس کے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ ہیں اور وہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔