Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’لوگ راستہ بدل لیتے تھے‘، جھلسے ہوئے جسم کے ساتھ فائر فائٹر بننے تک کا سفر

دنیا کے حقارت بھرے رویوں سے تنگ آکر ٹیری نے فیصلہ کیا کہ وہ اب خود کو ’مظلوم ‘کے طور پر پیش نہیں کریں گے (فائل فوٹو: ٹیری)
یہ ایک ایسی کہانی ہے جو ہمت، حوصلے اور ماضی کے خوف پر قابو پانے کی ایک بہترین مثال ہے۔ ایک ایسا بچہ جو آگ کے شعلوں میں جھلس گیا جس کا جسم 73 فیصد جل چکا تھا، اس نے اسی آگ سے لڑنے کو اپنا پیشہ بنانے کا فیصلہ کیا جس نے اس کی زندگی بدل دی تھی۔
یہ کہانی ٹیری میک کارٹی کی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے دردناک ترین حادثے کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنا لیا۔
دیہ گارڈیئن کی رپورٹ کے مطابق یہ 1992 کی بات ہے جب ٹیری کی عمر محض چھ برس تھی۔ نیواڈا کے ایک چھوٹے سے قصبے ہا تھورن میں ایک شام، ٹیری اپنے بھائیوں کو کھانے کے لیے بلانے باہر نکلے۔
انہوں نے دیکھا کہ ان کے بڑے بھائی مٹی کے تیل اور لائٹر کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ جیسے ہی لائٹر جلایا گیا، تیل کے پیالے نے آگ پکڑ لی۔
گھبراہٹ میں ان کے بھائی نے آگ بجھانے کے لیے پیالے کو لات ماری، لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ننھا ٹیری بالکل قریب کھڑا ہے۔
چند ہی لمحوں میں ٹیری کا پورا جسم آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’درد ناقابلِ برداشت تھا۔ ایک پڑوسی، جسے میں پہلے کبھی نہیں ملا تھا، وہ فرشتے کی طرح آیا اور اس نے مجھ پر سوئیپنگ بیگ ڈال کر آگ بجھائی۔ وہ منظر آج بھی مجھے ڈراتا ہے کہ اس شخص نے ایک چھ سالہ بچے کو آگ میں جلتے ہوئے دیکھ کر کیا محسوس کیا ہوگا۔‘
ٹیری کے جسم کا 73 فیصد حصہ تیسرے اور چوتھے درجے تک جھلس چکا تھا۔ اگلے کئی سال ہسپتالوں کے چکروں، سرجریوں اور ناقابلِ بیان تکلیف میں گزرے۔ پٹیاں بدلنے میں پانچ پانچ گھنٹے لگتے تھے اور جلد اتنی پتلی ہو چکی تھی کہ ذرا سا جھکنے پر بھی زخم کھل جاتے۔ 17 سال کی عمر میں ان کے والد کا کینسر سے انتقال ہوگیا جس نے انہیں ذہنی طور پر توڑ کر رکھ دیا۔
جب ٹیری جوان ہوئے تو معاشرے کا رویہ ان کے لیے ایک اور آزمائش ثابت ہوا۔ ان کے چہرے اور جسم پر موجود نشانات کی وجہ سے انہیں نوکری ملنے میں دشواری ہوتی تھی۔ 
ایک بار جب انہوں نے میکینک کی ملازمت کے لیے درخواست دی تو مینیجر نے صاف کہہ دیا ’میں تمہیں کام پر نہیں رکھ سکتا۔‘
دنیا کے حقارت بھرے رویوں سے تنگ آکر ٹیری نے فیصلہ کیا کہ وہ اب خود کو ’مظلوم ‘کے طور پر پیش نہیں کریں گے۔ 25 سال کی عمر میں انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سب کو حیران کر دیا؛ انہوں نے فائر فائٹنگ اکیڈمی میں داخلہ لے لیا۔

جب ٹیری جوان ہوئے تو معاشرے کا رویہ ان کے لیے ایک اور آزمائش ثابت ہوا (فائل فوٹو: دی گارڈیئن)

تربیت کے دوسرے ہفتے ہی ان کا سامنا اپنے سب سے بڑے خوف سے ہوا۔ انہیں ایک ایسے کمرے میں بھیجا گیا جہاں چاروں طرف آگ تھی۔ دھوئیں کے بادلوں اور شعلوں کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر ٹیری ایک لمحے کے لیے سن ہو گئے، ان کی آنکھوں کے سامنے بچپن کا وہ حادثہ گھوم گیا۔ لیکن جب آگ ان کے سر سے محض ایک فٹ کے فاصلے پر رہ گئی تو انہیں احساس ہوا کہ آج وہ بے بس نہیں ہیں۔ انہوں نے پانی کا پائپ کھولا اور آگ پر قابو پا لیا۔
ٹیری نے کئی سال بطور رضاکار فائر فائٹر کام کیا، گاڑیوں اور جنگلات کی آگ بجھائی اور سکولوں میں جا کر بچوں کو آگ سے بچاؤ کی تربیت دی۔
آج وہ ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی ایک پارٹنر اور بچہ ہے اور وہ اب ایسے افراد کی مدد کرتے ہیں جو ذہنی مسائل یا کسی حادثے کے بعد بحالی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
ٹیری کا کہنا ہے کہ ’میں نے غصے اور ضد میں آکر فائر فائٹنگ شروع کی تھی، لیکن اس نے مجھے میری اپنی طاقت کا احساس دلایا۔‘
 وہ آج بھی اس گمنام پڑوسی کی تلاش میں ہیں جس نے اس دن ان کی جان بچائی تھی، تاکہ وہ اس کا شکریہ ادا کر سکیں۔

شیئر: