Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ویڈیوز نشر کرنے کا الزام، یو اے ای میں 10 ملزمان گرفتار

اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ یہ ویڈیو نشر کرنا قانون کے تحت جرم ہے (فوٹو:وام)
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 10 ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق ملزمان کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’گمراہ کُن اور بے بنیاد‘ مواد پر مبنی ویڈیو کلپس نشر کرنے کے الزام میں فوری ٹرائل کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
یہ اقدام خطے میں ہونے والے حالات کے پیش نظر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی کے بعد کیا گیا ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزمان نے ایسی ویڈیوز نشر کی ہیں جن میں فضائی دفاعی نظاموں کی کارروائی دکھائی گئی تھی جو حملوں کو ناکام بنا رہے تھے۔
کچھ کلپس میں زمین پر ملبہ گرتے یا لوگوں کی بڑی تعداد کو واقعے کا مشاہدہ کرتے دکھایا گیا۔
ملزمان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ’جھوٹی‘ ویڈیوز تیار کیں جن میں  دھماکے، اہم مقامات پر حملے یا مختلف علاقوں میں بڑی آگ اور دھواں اُٹھتے ہوئے دکھایا گیا تھا تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔
ان واقعات میں بچوں کے جذبات کا بھی استعمال کیا گیا اور ان ویڈیوز میں جھوٹا تاثر دیا گیا کہ سکیورٹی خطرات ہیں۔
کچھ ویڈیوز میں فوجی تنصیبات کے نقصان یا بیرونی واقعات کو یو اے ای کے مقامات سے جوڑ کر دکھایا گیا جس کا مقصد خوف پھیلانا تھا۔
چاہے ویڈیوز حقیقت پر مبنی ہوں یا جھوٹ پر، ان کے نشر ہونے سے عوامی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے اور لوگوں میں بےچینی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ مواد دشمن میڈیا کے لیے ایسے حقائق پیش کر سکتا ہے جو عوام کے اعتماد کو کمزور کریں یا ملک کی دفاعی صلاحیتیں ظاہر کریں۔
پبلک پراسیکیوشن نے ملزمان سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے اور ان کی حراست کا حکم دیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ یہ عمل قانون کے تحت جرم ہے اور ان کے لیے کم از کم ایک سال قید اور کم از کم ایک لاکھ درہم جرمانہ مقرر ہے۔
اس کی وجہ گمراہ کن معلومات پھیلانا، عوامی سلامتی کو خطرہ، افراد میں خوف پیدا کرنا اور معاشرتی استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوامی پراسیکیوشن کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرے گی جس میں سائبر سپیس یا جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایسی گمراہ کن معلومات یا جھوٹا مواد پھیلایا جائے جو ریاست کی سلامتی یا عوامی نظم و نسق کو متاثر کرے۔
اس میں ایسے کلپس بھی شامل ہیں جو ملک کے دفاعی نظام کے حملوں کی روک تھام یا اس کے نتائج دکھاتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ جو بھی اس میں ملوث پایا جائے گا، اسے فوری قانونی سزا دی جائے گی۔ متعلقہ حکام ایسے اقدامات کی نگرانی جاری رکھیں گے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔

 

شیئر: