Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عامر خان: ’ہر کردار میں نیا تجربہ‘ کرنے والے بالی وڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ‘

بالی وڈ کے ’مسٹر پرفیکشنسٹ‘ آج اپنی 61ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ بالی وڈ میں جب بھی کمالِ فن، سنجیدگی اور تجربہ پسندی کا ذکر ہوتا ہے تو عامر خان کا نام نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔
ان کی زندگی اور کیریئر میں کئی ایسے پہلو بھی موجود ہیں جو عموماً خبروں کی سرخی نہیں بنتے۔ آج ہم انہی کم معروف واقعات اور دلچسپ یادوں کا ذکر کر رہے ہیں۔
فلموں میں عامر خان کو اکثر تیز رفتاری سے مکالمے بولنے والے اداکار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن پردے کے پیچھے وہ ایک خاموش، گہرا مشاہدہ کرنے والے فنکار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
انہوں نے اپنی پہلی بڑی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ (1988) سے اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔ یہ فلم اپنے وقت کی سپر ہٹ ثابت ہوئی اور بعد میں کلٹ کلاسک کے طور پر پہچانی گئی۔
فلمی گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے عامر خان اس سے پہلے 1974 میں میں بطور چائلڈ آرٹسٹ فلم ’یادوں کی بارات‘ میں بھی نظر آ چکے تھے۔ اس کے علاوہ، وہ 1984 کی فلم ’ہولی‘ میں بھی جلوہ گر ہوئے۔
اگرچہ فلم ’راکھ‘ کی شوٹنگ ’قیامت سے قیامت تک‘ سے پہلے شروع ہوئی تھی، لیکن یہ ایک سال بعد ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں ان کی اداکاری کو ناقدین نے خاص طور پر سراہا، اور انہوں نے سوپریہ پاٹھک اور پنکج کپور جیسے منجھے ہوئے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔
بعد ازاں، عامر خان نے جوہی چاولہ اور مادھری دیکشت کے ساتھ کئی ہٹ فلمیں دیں، جبکہ ’رنگیلا‘ اور ’راجہ ہندوستانی‘ جیسی فلموں نے ان کی متنوع اداکاری کی صلاحیت کو نمایاں طور پر اجاگر کیا۔
سنہ 1999 میں عامر خان نے اپنا پروڈکشن ہاؤس قائم کیا اور اس کی پہلی فلم ’لگان‘ تھی، جو 2001 میں ریلیز ہوئی اور بالی وڈ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
فلم ’لگان‘ کی شوٹنگ کے دوران ایک دلچسپ منظر دیکھنے میں آیا۔ سیٹ پر سب لوگ مصروف ہوتے اور عامر خان کسی کونے میں بیٹھ کر خاموشی سے سب کو غور سے دیکھ رہے ہوتے—کبھی کسانوں کے چلنے کا انداز، کبھی ان کے ہاتھوں کی حرکت، اور کبھی ان کی گفتگو کا لہجہ۔
عامر خان کا کہنا تھا کہ اگر وہ گاؤں والوں کی اصل زندگی کو نہ سمجھیں تو ’بھوون‘ کا کردار صرف اداکاری لگے گا، حقیقت نہیں۔
ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ فلم گجرات کے ایسے علاقے میں فلمائی گئی جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ سیٹ پر سایہ کرنے کے لیے چھتریاں لگانے کی تجویز دی گئی، مگر عامر خان نے اسے رد کر دیا۔
میگزین فلم فیئر کے مطابق، انہوں نے کہا کہ اگر کردار قحط زدہ گاؤں کے لوگ ہیں تو انہیں بھی اسی شدت کی دھوپ میں نظر آنا چاہیے۔ چنانچہ پوری ٹیم نے سخت گرمی میں کام کیا تاکہ فلم زیادہ حقیقی محسوس ہو۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ٹیم نے یہ جان لیا کہ عامر خان صرف ایک اداکار نہیں، بلکہ اپنے وژن کے لیے خطرہ مول لینے والے فنکار بھی ہیں۔
فلم ’تارے زمین پر‘ کی شوٹنگ کے دوران بھی کمالِ فن کے لیے قربانی دیکھی گئی۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق فلم ’تارے زمین پر‘ کی شوٹنگ کے دوران  ایک درانتی سے عامر خان کے ہاتھ پر گہرا زخم آ گیا اور خون بہنے لگا، جس پر سیٹ پر موجود لوگ گھبرا گئے۔
لیکن عامر خان نے شوٹنگ روکنے سے انکار کر دیا اور کام جاری رکھا۔ اس واقعے نے پوری ٹیم کو حیران کر دیا کیونکہ وہ درد کے باوجود اپنے کردار میں مصروف رہے۔ یہ لمحہ ان کے اس عزم کی واضح مثال تھا کہ کہانی اور کردار کبھی کبھی ذاتی تکلیف سے بھی بڑے ہو جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود، عامر خان کبھی کبھار کیمرے کے سامنے آنے سے گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں۔
فلم ’منگل پانڈے: دی رائزنگ‘ کی شوٹنگ کے دوران انہوں نے اپنی ساتھی اداکارہ سے کہا کہ چار سال بعد کیمرے کے سامنے آتے ہوئے انہیں گھبراہٹ ہو رہی ہے، کیونکہ ان سے توقعات بہت زیادہ وابستہ کی گئی ہیں۔ یہ اعتراف اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ بڑے سے بڑے فنکار بھی انسانی کمزوریوں سے خالی نہیں ہوتے۔
عامر خان کی زندگی کے دلچسپ قصوں میں ہلکے پھلکے واقعات بھی شامل ہیں۔ ان کے بھانجے عمران خان نے بتایا کہ ایک مرتبہ عامر خان کو ان کی جینز اتنی پسند آئی کہ وہ فوراً پہن کر لے گئے تاکہ اسے فلم میں استعمال کر سکیں۔
’رنگ دے بسنتی‘، ’تھری ایڈیٹس‘، ’پی کے‘ اور ’دنگل‘ جیسی فلمیں جہاں عامر خان کی کامیابی کی کہانی سناتی ہیں، وہیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ ان کی اصل زندگی کی کہانی شاید ایک مسلسل جستجو ہے، ایک ایسی سچائی کی تلاش جو ہر کردار میں نظر آتی ہے اور ناظرین کے دل تک پہنچتی ہے۔
شاید یہی تلاش ان کی نجی زندگی میں ان کے تعلقات اور خواتین کے انتخاب میں بھی جھلکتی ہے۔ عامر خان اب تیسری بار ایک رشتے ہیں۔
ہالی وڈ فلم ’فارریسٹ گمپ‘ پر مبنی ان کی فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ بھی ان کے اندر کی اسی جستجو کو پیش کرتی ہے، جبکہ پریتی زنٹا کے ساتھ ان کی فلم ’دل چاہتا ہے‘ میں وہ ایک ایسے عشق کی تلاش میں ہیں جس کے آگے انہیں کچھ اور نظر نہیں آتا۔
عامر خان افغانستان کے پختون قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ والدہ کی جانب سے ان کا سر رشتہ خطہ عرب سے جڑتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی والدہ مولانا ابوالکلام آزاد کی بھتیجی ہیں، جو آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم اور ایک معروف سیاستدان تھے۔
رواں سال عامر خان ایک تاریخی فلم ’لاہور 1947‘ لے کر آ رہے ہیں، جس میں ان کے ساتھ سنی دیول اور پریتی زنٹا بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے بیٹے جنید خان کے لیے ایک فلم پروڈیوس کر رہے ہیں، جس کا نام ’ایک دن‘ ہے۔
لاہور 1947‘ اسی سال اگست میں ریلیز ہونے والی ہے، اور مداحوں سمیت فلمی شائقین کو بے صبری سے انتظار ہے کہ عامر خان تقسیم کے وقت لاہور کا کون سا روپ دکھائیں گے۔

 

شیئر: