Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کو پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تشویش کیوں ہے؟

پاکستان کے دفترِ خارجہ یا حکومت کی جانب سے گبارڈ کے حالیہ بیان یا جائزہ رپورٹ پر اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کی ڈائریکٹر برائے قومی انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے رواں ہفتے کہا کہ پاکستان ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کر سکتا ہے جو امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کو اُن ممالک میں شامل کیا جن میں ایران، شمالی کوریا، چین اور روس شامل ہیں اور جو واشنگٹن کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔
گبارڈ کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب انہوں نے بدھ کو امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے 2026 کی سالانہ خطرات کے جائزے کی رپورٹ کے نتائج پیش کیے۔
اس رپورٹ میں بنیادی طور پر آئندہ ایک سال کے دوران امریکہ کو درپیش براہِ راست اور سنگین نوعیت کے خطرات پر توجہ دی گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اس رپورٹ کی ایک کاپی میں کہا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نے اندازہ لگایا ہے کہ 2035 تک ان میزائلوں کی تعداد تین ہزار سے بڑھ کر 16 ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے جو امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان ایسے نئے، جدید یا روایتی میزائل سسٹمز کی تحقیق اور تیاری میں مصروف ہیں، جو جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے ساتھ امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
گبارڈ نے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ ‘پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام میں ممکنہ طور پر ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بھی شامل ہو سکتے ہیں جن کی رینج ممکنہ طور پر امریکی سرزمین تک ہو سکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس کمیونٹی کے مطابق چین اور روس ایسے جدید نظام تیار کر رہے ہیں جو امریکی میزائل دفاعی نظام کو عبور کرنے یا اسے چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی عہدیدار نے یہ بھی نشاندہی کی کہ شمالی کوریا کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پہلے ہی امریکی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے مطابق یہ ملک اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ یا حکومت کی جانب سے گبارڈ کے حالیہ بیان یا جائزہ رپورٹ پر اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکہ ماضی میں بھی پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ گزشتہ سال امریکی محکمۂ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی نے ایک درجن سے زائد پاکستانی کمپنیوں کو اپنی ’اینٹیٹی لسٹ‘ میں شامل کیا تھا، جن پر ’غیر محفوظ‘ جوہری سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا، جبکہ سات دیگر کمپنیوں کو پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت پر اس فہرست میں شامل کیا گیا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے کیوں کہ اس کا حریف اور پڑوسی ملک بھارت بھی جوہری صلاحیت رکھتا ہے۔

شیئر: