پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سیاسی اکابر خاص طور پر شریف خاندان کے باقی ماندہ مقدمات پر گذشتہ کچھ ہفتوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے جمع کروائی گئی سات کروڑ روپے کی زرِ ضمانت کی واپسی کی درخواست پر سماعتیں اب باقاعدگی سے جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران اور داماد علی عمران یوسف کی گرفتاری کے احکامات معطل کر کے انہیں عدالت میں پیش ہونے کی مہلت دی گئی ہے، وہ گذشتہ کئی برس تک عدالت سے مفرور رہے۔
ان دونوں مقدمات میں ہونے والی حالیہ قانونی پیش رفت نے ملکی سیاسی اور عدالتی حلقوں کی توجہ ایک بار پھر شریف خاندان کے مقدمات کی جانب مبذول کروا دی ہے۔
مزید پڑھیں
-
نیٹ فلکس شریف خاندان کی ’کرپشن‘ پر ڈاکیومینٹری بنا رہا ہے؟Node ID: 710046
-
مسلم لیگ ن کے پارٹی انتخابات، تمام اہم عہدے شریف خاندان کے پاسNode ID: 773256
مریم نواز نے 7 کروڑ روپے کیوں جمع کروائے؟
اس کہانی کا آغاز اکتوبر 2018 سے ہوتا ہے، جب نیب نے چوہدری شوگر ملز میں مبینہ مشکوک لین دین، غیر قانونی طریقے سے رقوم کی منتقلی اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات کے تحت تفتیش شروع کی۔
اُس وقت ملک میں تحریک انصاف کی حکومت تھی اور عمران خان وزیراعظم تھے۔ نیب کے مقدمے کے مطابق مریم نواز اس مل میں ایک بڑی شراکت دار تھیں۔
اسی مقدمے میں انہیں آٹھ اگست 2019 کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے لیے گئی تھیں۔

بعد ازاں نومبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کی، جس کے لیے انہیں اپنا پاسپورٹ عدالت کے حوالے کرنے اور سات کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی کڑی شرائط کا سامنا کرنا پڑا، تاہم رواں سال یعنی مارچ 2026 میں احتساب عدالت نے شواہد کی عدم دستیابی کی بنیاد پر چوہدری شوگر ملز انکوائری بند کرنے کی حتمی منظوری دے دی، جس کے بعد اس رقم کی واپسی کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کی گئی۔
لیکن عدالتی ریلیف مرحلہ وار ہے۔ 2022 میں جب پی ڈی ایم کی حکومت برسرِاقتدار آئی اور شہباز شریف وزیراعظم بنے تو اسی سال نومبر میں ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے پاسپورٹ واپس لیا گیا۔ اس وقت نیب نے عدالت میں جواب داخل کروایا تھا کہ انہیں پاسپورٹ واپسی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اب قریبا اڑھائی سال بعد 7 کروڑ روپے زرضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ اس کیس کی پہلی سماعت 23 اپریل کو ہوئی جس میں بینچ کی سربراہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے نیب سے اصل مقدمے اور مقدمہ واپس لینے سے متعلق تمام دستاویزات طلب کر رکھی ہیں۔
چار مئی کو اس کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تاہم نیب نے ابھی تک سرکاری ریکارڈ عدالت میں جمع نہیں کروایا اور دوبارہ مہلت لی ہے۔
وزیراعظم کی بیٹی اور داماد کے وارنٹ کی معطلی اور عدالتی ریلیف
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران اور ان کے شوہر علی عمران یوسف کو بھی عدالت کی جانب سے بڑا ریلیف ملا ہے۔ ان دونوں پر کرپشن الزامات پر دو مقدمات تھے۔ ایک مقدمہ پنجاب پاور کمپنی اور دوسرا پنجاب صاف پانی کمپنی کا تھا جن میں مبینہ طور پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ان دونوں مقدمات میں وہ طویل عرصے سے عدالتوں سے مفرور تھے، جس کے باعث ان کے خلاف دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری کیے گئے تھے اور ان کی جائیدادیں بھی ضبط کر لی گئی تھیں۔ یہ جوڑا سال 2022 میں برطانیہ روانہ ہو گیا تھا، تاہم اپریل 2026 میں عدالت نے ان کے وارنٹِ گرفتاری معطل کرتے ہوئے انہیں قانون کا سامنا کرنے کی مہلت فراہم کی۔
عدالت کی جانب سے مہلت ملنے کے بعد دونوں نے پیش ہو کر عبوری ضمانت حاصل کر لی۔
اینٹی کرپشن کورٹ کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں انہیں تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دے دیا گیا ہے کیونکہ محکمے کے مطابق ان کے خلاف بدعنوانی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا۔
عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف سمیت اس مقدمے کے دیگر نامزد افراد پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ مقدمہ 2017 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب شہباز شریف کے دورِ حکومت میں قائم کی گئی 56 کمپنیوں کے حوالے سے تفتیش کا آغاز کیا گیا تھا اور بعد ازاں صاف پانی کمپنی کا یہ معاملہ محکمہ انسدادِ رشوت ستانی کو منتقل کر دیا گیا تھا جب کہ دوسرا مقدمہ سنٹرل جج ایف آئی اے کے پاس زیرِسماعت ہے اور دونوں کی ضمانت کنفرم کرنے کے لیے دلائل جاری ہیں۔
اپریل 2022 کے بعد شریف خاندان کے ختم ہونے والے اہم مقدمات
اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور مسلم لیگ ن کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک شریف خاندان کے خلاف قائم کیے گئے متعدد مقدمات اختتام پذیر ہو چکے ہیں۔ احتساب عدالتوں اور ہائی کورٹس نے کئی اہم مقدمات میں شواہد کی کمی اور نیب قوانین میں ہونے والی ترامیم کی روشنی میں انکوائریاں بند کیں یا بریت کے فیصلے سنائے۔ اس سلسلے میں سب سے نمایاں کیس ایون فیلڈ ریفرنس تھا، جس میں مریم نواز کو سنائی گئی 2018 کی سزا کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔ اسی طرح، مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو بھی وطن واپسی کے بعد ایون فیلڈ اور العزیزیہ سمیت دیگر مقدمات میں عدالتوں سے کلین چِٹ مل گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو بھی منی لانڈرنگ، رمضان شوگر ملز اور آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم جیسے سنگین مقدمات میں بریت مل چکی ہے۔ نیب نے نواز شریف کے خلاف شریف ٹرسٹ اور دیگر زیر التوا انکوائریاں بھی باقاعدہ طور پر بند کر دی ہیں۔
سیاسی ناقدین ان مقدمات کے خاتمے کو اقتدار کی تبدیلی اور سیاسی نوعیت کا ریلیف قرار دیتے ہیں، جبکہ شریف خاندان اور ان کی جماعت کا دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے تھے اور اب عدالتوں سے انہیں ’حقیقی‘ انصاف مل رہا ہے۔












