Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مری میں 14 سالہ معیز کا قتل پولیس کے لیے ایک مشکل کیس کیسے بنا؟

پاکستان کے معروف سیاحتی مقام مری کے نواحی گاؤں ’لوئر دیول‘ میں 14سالہ عبدالمعیز11 کے قتل کا کیس تین ماہ سے زائد عرصے کی تفتیش کے بعد حل ہو گیا ہے۔ 
پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے آٹھویں جماعت کا طالب علم عبدالمعیز11 فروری کو لاپتہ ہوئے اور بعد ازاں اس کی برہنہ لاش پڑوس کے ایک خالی گھر میں لٹکی ہوئی ملی۔
مری کے تھانہ پھگواڑی کی تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے اور شک کی بنیاد پر درجنوں افراد کو حراست میں لیا تاہم تین ماہ پر محیط اس طویل تفتیش میں 60 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کے باوجود پولیس کے ہاتھ کوئی ٹھوس سراغ نہ لگ سکا۔
دوسری جانب، ایک پُرامن علاقے میں ہونے والے اس قتل پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور پولیس پر ملزمان کی فوری گرفتاری  کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیا۔ 
تحقیقات کا نئے سرے سے آغاز
ایس ایچ او مری (کلڈنہ) نے اویس اکرم نے نئے سرے سے شواہد کی جانچ پڑتال شروع کی اور مقتول کے قریبی حلقوں پر توجہ مرکوز کی۔
تحقیقات کا رخ مڑتے ہی شک کا گھیرا معیز کے اپنے ہی گھر تک محدود ہو گیا، جہاں پولیس نے مقتول کی چچا زاد کزن سمیت دو خواتین کو شاملِ تفتیش کیا۔
پولیس نے جب ملزمہ کے موبائل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی تو یہ انکشاف ہوا کہ وقوعہ کے ارد گرد وہ مخصوص نمبروں پر درجنوں کالز کے ذریعے مسلسل رابطے میں تھی۔
موبائل فون کے اس ریکارڈ نے ملزمہ کے گرد شک کا گھیرا مزید تنگ کر دیا اور تفتیش میں ایک بڑا بریک تھرو حاصل ہوا۔
دورانِ تفتیش ملزمہ نے پہلے حیلے بہانے کیے، لیکن پولیس کی تفتیش کے سامنے اسے اعترافِ جرم کرنا پڑا کہ وہ اس قتل میں ملوث ہے۔
’محلے کا حجام ہی مرکزی ملزم‘

ابتدا میں  60 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کے باوجود پولیس کے ہاتھ کوئی ٹھوس سراغ نہ لگ سکا: فائل فوٹو اے پی 

ملزمہ کے انکشافات کے بعد محلے کے ایک حجام محمد آصف عرف ماسٹر  کا نام سامنے آیا، جس کا تعلق جھنگ سے تھا۔
یہ حجام تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں بھی حراست میں لیا گیا تھا، مگر ٹھوس ثبوت نہ ہونے کے باعث اسے رہا کر دیا گیا تھا۔ پولیس کو تکنیکی ذرائع سے معلوم ہوا کہ ملزم 'ایمرجنسی' کا بہانہ بنا کر مری سے روپوش ہو کر اپنے آبائی علاقے جھنگ فرار ہو چکا ہے۔
ملزم نے وہاں گرفتاری سے بچنے کے لیے نئی دکان بھی کھول لی تھی، تاہم مری پولیس نے سی سی ڈی اور جھنگ پولیس کے ساتھ مل کر جھنگ میں چھاپہ مار کر اسے گرفتار کیا دورانِ تفتیش ملزم نے نہ صرف اپنا جرم قبول کیا بلکہ یہ انکشاف بھی کیا کہ اس قتل میں ایک اور ملزم بھی شامل تھا۔
جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام  کشمیر سے تعلق رکھنے والے اس ملزم کو گرفتار کیا، جبکہ اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک اور ملزم کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جو بالواسطہ طور پر اس جرم میں معاونت کا مرتکب پایا گیا ہے۔
معیز کو قتل کرنے کی وجہ کیا بنی؟
اردو نیوز کو پولیس کے اعلیٰ تفتیشی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ معیز کے قتل کی بنیادی وجہ یہ سامنے آئی کہ اسے اپنی کزن اور ایک حجام کے مبینہ تعلقات کا علم ہو گیا تھا۔ جب معیز نے اس بات کا ذکر اپنی کزن سے کیا تو لڑکی نے اسے راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔
منصوبے کے تحت معیز کو ایک سنسان گھر میں بلایا گیا، جہاں لڑکی نے مبینہ طور پر حجام اور اس کے ایک ساتھی کی مدد سے اس کے سر پر وار کر کے اسے قتل کر دیا، جبکہ اسے جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
پولیس کی اعلیٰ سطح کی تفتیش میں ایک اور اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ معیز کے قتل میں خود اس کے اپنے ہی گھر کی چیزیں استعمال کی گئیں۔
ملزمان نے کیس کو الجھانے اور پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ ایک ’اندھا قتل‘ ثابت ہو سکے۔ جس چادر سے معیز کو لٹکایا گیا تھا، وہ بھی اس کے اپنے ہی گھر سے لائی گئی تھی۔
ڈی پی او مری ڈاکٹر رضا تنویر سپرا نے بدھ کو پریس کانفرنس میں چاروں ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ مری پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس تھا جسے حل کرنے میں سی سی ڈی کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔
 
 

شیئر: