کسی نے فلسطین کا پرچم اٹھا رکھا تھا، کسی نے فلسطینی قومی ٹیم کی جرسی پہن رکھی تھی، کسی کے ہاتھ میں سرخ کارڈ تھا، تو کسی کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پلے کارڈ جس پر لکھا تھا 'گیم اوور اسرائیل'۔
جلتی ہوئی مشعلیں، بلند ہوتے نعرے، فلسطینی پرچموں کی لہراتی قطاریں اور غزہ کے حق میں لگنے والے بینرز، یہ کسی عام فٹبال میچ سے پہلے کا منظر نہیں تھا۔
سٹیڈیم کے قریب پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، لیکن احتجاج پُرامن تھا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ غزہ میں جاری جنگ کے باعث وہ اسرائیل کی ورلڈ کپ کوالیفائنگ مقابلوں میں شرکت کی مخالفت کرتے ہیں۔
کچھ مظاہرین تو میچ شروع ہونے کے بعد بھی سٹیڈیم کے باہر ڈٹے رہے۔
میچ سے قبل اوسلو میں فلسطین کے حامی مظاہرین نے مارچ کیا۔ (فوٹو: روئٹرز)
دوسری طرف سٹیڈیم کے اندر تقریباً تئیس ہزار تماشائی موجود تھے۔ سکیورٹی خدشات کے باعث کئی نشستیں خالی رکھی گئی تھیں، خاص طور پر وہ حصے جو اسرائیلی شائقین کے قریب تھے۔
میچ سے قبل اسرائیل کا قومی ترانہ بجنا شروع ہوا، پورا سٹیڈیم بلند آواز میں ہوٹنگ کرنے لگا۔ تماشائیوں نے فلسطینی پرچم بلند کر دیے۔ سٹینڈز میں ایک بڑا بینر نمودار ہوا، جس پر لکھا تھا 'بچوں کو جینے دو۔' کئی شائقین نے احتجاجاً سرخ کارڈ بھی ہوا میں بلند کیے۔
میچ شروع ہوا تو ماحول پہلے ہی غیر معمولی تھا، مگر چند ہی لمحوں بعد ایک اور منظر سامنے آیا، جب 'فری غزہ' ٹی شرٹ پہنے ایک شخص میدان میں داخل ہو گیا اور کھیل کو مختصر وقت کے لیے روکنا پڑا۔
میچ کے دوران بڑی تعداد میں سٹیڈیم میں فلسطینی جھنڈے لہرائے گئے۔ (فوٹو: گیٹی ایمجز)
اس کے بعد جب کھیل دوبارہ شروع ہوا، توجہ صرف ایک نام پر جا ٹھہری اور وہ تھے ارلنگ ہالینڈ۔
ابتدا اگرچہ ان کے لیے اچھی نہ تھی۔ اسرائیلی گول کیپر نے ان کی پنالٹی روک لی، اور دوبارہ لیے گئے پنالٹی کک پر بھی انہیں گول نہ کرنے دیا۔ ایسا لگا جیسے شاید یہ ہالینڈ کا دن نہیں۔
مگر پھر میچ کا رخ بدل گیا۔ 18ویں منٹ میں ناروے کے ایک خطرناک موو کے دوران اسرائیلی فارورڈ عنان خلیلی سے فٹبال اپنے ہی گول میں چلی گئی۔
صرف نو منٹ بعد ہالینڈ نے شاندار انداز میں اپنا پہلا گول سکور کر دیا۔ اس کے صرف ایک منٹ بعد اسرائیل کے گول کیپر کی کلیئرنس اپنے ہی دفاعی کھلاڑی ایدان نخمیاش سے ٹکرا کر دوبارہ اسرائیل کے جال میں جا پہنچی۔ اور ایسے دو گول اسرائیل نے خود اپنے خلاف کر دیے تھے۔
دوسرے ہاف میں پھر سٹیج مکمل طور پر ہالینڈ کے نام رہا۔ 63ویں منٹ میں انہوں نے ہیڈر کے ذریعے اپنا دوسرا گول کیا، جو ناروے کی قومی ٹیم کے لیے ان کے 50 بین الاقوامی گولز کا تاریخی سنگِ میل بھی تھا۔
صرف نو منٹ بعد تقریباً اسی طرز کا ایک اور موو بنا، اور ہالینڈ نے ایک بار پھر فٹبال جال میں پہنچا کر اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کر دی۔
اس طرح ناروے نے اسرائیل کو 5-0 سے شکست دی۔
ان پانچ گولز میں سے تین ارلنگ ہالینڈ کے تھے، جبکہ دو اسرائیل نے اپنے ہی خلاف کیے تھے۔
سٹیڈیم میں ناروے کے شائقین خوشی سے گانے گا رہے تھے، لیکن اس رات فٹبال کے ساتھ ساتھ ایک اور موضوع بھی مسلسل زیرِ بحث رہا۔
ناروے اور اسرائیل کے درمیان 2026 فیفا ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچ کے ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی آمدن غزہ میں انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے حوالے کی گئی۔ (فوٹو: گیٹی ایمجز)
میچ کے بعد ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا کہ اس مقابلے سے حاصل ہونے والی آمدن اور اپنی جانب سے شامل کی گئی اضافی رقم ملا کر 15 لاکھ ناروے کرون غزہ میں انسانی امداد فراہم کرنے والی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کو عطیہ کیے جائیں گے۔