’اُس جیسا کوئی نہیں‘، ایک لبنانی کوچ نے ایرلنگ ہالینڈ کو کس طرح عالمی فٹبال سٹار بنایا
’اُس جیسا کوئی نہیں‘، ایک لبنانی کوچ نے ایرلنگ ہالینڈ کو کس طرح عالمی فٹبال سٹار بنایا
جمعرات 16 جولائی 2026 9:34
ہالینڈ کا کھیل میں تیزی سے ابھرنا انہیں دنیا کے بڑے ناموں میں شامل کر چکا ہے (فوٹو: انسٹاگرام)
ایرلنگ براوٹ ہالینڈ، 25 سالہ نارویجین فٹبال سٹار، امریکہ سے وطن واپس لوٹے تو اُن کے ساتھ سات ورلڈ کپ گولز، ایک کھلونا ریکون، دو کھلونا گلہریاں، ایک کاؤبوائے ہیٹ اور مزید عالمی شہرت تھی، جو انہوں نے غیر معمولی گول کرنے کی صلاحیت، بے پناہ جسمانی طاقت اور شاندار رفتار کے باعث حاصل کی تھی، حالانکہ ناروے کو کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
ہالینڈ کا کھیل میں تیزی سے ابھرنا انہیں دنیا کے بڑے ناموں میں شامل کر چکا ہے، اور اس میں مشرقِ وسطیٰ کی بھی کچھ مدد شامل ہے۔ ہالینڈ صرف 19 برس کے تھے جب اُن کی ملاقات آن لائن لبنانی کوچ جان حداد سے ہوئی۔
حداد نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ہالینڈ کو ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا جسے میں ظاہر نہیں کروں گا، لیکن اُس نے اچھے طریقے سے قابو پایا جو میں نے تیار کیا تھا۔ یہ طریقہ زیادہ تر سپورٹس میڈیسن ماہرین کے طریقوں سے مختلف ہے۔ میں بایومیکانکس اور موومنٹ تھراپی میں مہارت رکھتا ہوں۔‘
مانچسٹر سٹی کے سٹرائیکر، جنہیں ناروے کی تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی سمجھا جاتا ہے، نے اپنے آبائی کلب برائن کی اکیڈمی سے پروفیشنل کیریئر شروع کیا، پھر 2019 میں ریڈ بل سالزبرگ گئے جہاں انہوں نے آسٹریا بنڈس لیگا اور کپ جیتا۔ 2020 میں وہ جرمنی کے بورسیا ڈورٹمنڈ میں شامل ہوئے۔
کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران اُن کی کوچنگ آن لائن ہی ممکن تھی۔ حداد نے کہا کہ ’ہم نے اُس وقت تربیت اور تھراپی شروع کی۔ میں نے اُسے برسوں بعد دوبارہ دیکھا۔ وہ جرمنی میں تھا جب ہم نے آن لائن سیشنز شروع کیے، اور یہ آن لائن تربیت ہمارے 80 فیصد سیشنز پر مشتمل تھی۔‘
حداد کے مطابق ہالینڈ غیر معمولی طور پر پرعزم اور پروفیشنل تھے۔ وہ ہر دن اپنی تربیت کو ترجیح دیتے اور خود کو بہتر بنانے کے لیے محنت کرتے۔ حتیٰ کہ چھٹی کے دن بھی وہ ٹریننگ کرتے۔
ہالینڈ نے 2019 فیفا انڈر-20 ورلڈ کپ میں گولڈن بوٹ جیت کر عالمی سطح پر دھماکہ کیا، جہاں انہوں نے ایک میچ میں 9 گولز کا ریکارڈ بنایا۔ سینیئر ٹیم کے لیے اسی سال ڈیبیو کے بعد انہوں نے 53 میچوں میں 60 گولز کر کے ناروے کے آل ٹائم ٹاپ سکورر کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ تاریخ کے صرف چھٹے کھلاڑی ہیں جنہوں نے 46 میچوں میں 50 انٹرنیشنل گولز مکمل کیے۔
بچپن میں بھی اُن کی صلاحیتیں نمایاں تھیں۔ وہ ہینڈ بال، گالف اور ایتھلیٹکس میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ پانچ سال کی عمر میں انہوں نے سٹینڈنگ لانگ جمپ میں 1.63 میٹر چھلانگ لگا کر عالمی ریکارڈ بنایا۔
195 سینٹی میٹر قد اور 36.7 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ ہالینڈ اپنی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ حداد کے مطابق وہ طاقت، لچک اور جلدی ریکوری پر مسلسل کام کرتے ہیں، روایتی فٹبال ڈرلز کو ہائی انٹینسٹی ٹریننگ اور فنکشنل موومنٹس کے ساتھ ملاتے ہیں، جبکہ نیند اور غذائیت کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔
ہالینڈ کے والد الفی لیڈز یونائیٹڈ کے لیے کھیلتے تھے اور والدہ گری-مریتا براوٹ ناروے کی ہیپٹاتھلون چیمپئن تھیں۔ مگر حداد کے نزدیک ہالینڈ کی اصل کشش اُن کی مقناطیسی اور سادہ شخصیت ہے جس نے دنیا بھر کے مداحوں کو اُن کا دیوانہ بنا دیا۔
سوشل میڈیا پر اُن کی غیر معمولی صلاحیتوں کے دعوے گردش کرتے ہیں، جیسے کہ وہ روزانہ چھ ہزار کیلوریز کھاتے ہیں۔ حداد نے ان دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
حداد نے ہالینڈ کو دوسرے کلائنٹس سے موازنہ کرنے سے گریز کیا (فوٹو: اے ایف پی)
ہالینڈ چند ہفتوں میں ہی سوشل میڈیا کا طوفان بن گئے، کھیل کے آئیکون اور سماجی مظہر دونوں۔ لوگ اُن کی طاقت کا راز جاننے اور اُن کی روزمرہ زندگی کی جھلک پانے کے خواہشمند تھے۔
شکست کا سامنا کرنے پر ہالینڈ کا رویہ کیسا ہوتا ہے؟ حداد نے کہا کہ ’کسی کو ہار پسند نہیں۔ اُس کی مضبوط شخصیت اُسے شکست کو قبول کرنے میں مدد دیتی ہے، حالانکہ اُس کی بڑی امیدیں تھیں۔ آخرکار یہ ایک متحد ٹیم ہے۔ ابھی یہ کہنا جلدی ہوگا کہ وہ اس جھٹکے سے کیسے نکلیں گے۔‘
حداد نے ہالینڈ کو دوسرے کلائنٹس سے موازنہ کرنے سے گریز کیا، مگر آخر میں وہی کہا جو لاکھوں مداح پہلے سے مانتے ہیں، ’اُس جیسا کوئی نہیں ہے۔‘