Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی محققین نے بڑھتی عمر اور دماغی امراض پر تحقیق کے لیے اہم خلائی مشن کا آغاز کر دیا

یہ پروگرام امریکہ کی نیشنل سٹیم سیل فاؤنڈیشن اور ایکسیوم سپیس کے ساتھ بین الاقوامی سائنسی شراکت داری کے تحت چلا یا جا رہا ہے (فوٹو: سعودی سپیس ایجنسی)
سعودی عرب نے سعودی سپیس ایجنسی اور کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کاسٹ) کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے اپنی نوعیت کے پہلے بائیولوجیکل نمونے خلا میں بھیج دیے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ نمونے ناسا کے تعاون سے انٹرنیشنل سپیس سٹیشن جانے والے بائیو گریویٹی 1 مشن کا حصہ ہیں جو سپیس ایکس کے ذریعے بھیجے گئے ہیں۔ یہ تاریخی قدم مسلسل تین مشنز کے ذریعے الزائمر اور ملٹیپل سکلیروسس جیسی بیماریوں کے خلاف سائنسی کوششوں کی حمایت کرنے والے ایک طویل مدتی تحقیقی پروگرام کا حصہ ہے۔
یہ کامیابی مائیکرو گریویٹی کی تحقیق میں مملکت کے کردار کو مضبوط کرتی ہے اور صحت و لائف سائنسز کی تحقیق میں سپیس سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھاتی ہے۔
یہ مشن اس پروگرام کے پہلے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے جس میں صحت مند عطیہ دہندگان کے انسانی نمونے خلا میں بھیجے جا رہے ہیں تاکہ بعد کے مراحل کے لیے ایک سائنسی بنیاد قائم کی جا سکے اور مائیکرو گریویٹی کی خاص خصوصیات کو استعمال کرتے ہوئے عمر رسیدہ ہونے اور اعصابی بیماریوں سے جڑی خلیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا جا سکے۔
کاسٹ کی طرف سے تیار کیے گئے ان بائیولوجیکل تجربات میں دو تجربے ایس ایس اے 1 اور ایس ایس اے 2 شامل ہیں۔
یہ پروگرام امریکہ کی نیشنل سٹیم سیل فاؤنڈیشن اور ایکسیوم سپیس کے ساتھ بین الاقوامی سائنسی شراکت داری کے تحت چلا یا جا رہا ہے جس میں ناسا کا تعاون اور سعودی سپیس ایجنسی و کاسٹ کی قومی سائنسی شرکت شامل ہے جو ملکی صلاحیتوں کو عالمی تحقیقی برادری سے جوڑتی ہے۔

سعودی سپیس ایجنسی اور کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے بائیولوجیکل نمونے خلا میں بھیج گئے ہیں (فوٹو: کاسٹ)

سعودی سپیس ایجنسی میں مائیکرو گریویٹی ریسرچ کی جنرل سپروائزر اور سعودی خلا باز ریانہ برناوی نے کہا کہ ’ان نمونوں کا بھیجا جانا انسانی صحت کی خدمت کے لیے خلائی ماحول کو استعمال کرنے کی سمت میں ایک اہم سائنسی قدم ہے اور یہ ترقی یافتہ تحقیق میں حصہ لینے کے لیے ملکی صلاحیتوں کی بڑھتی ہوئی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔ بائیو گریویٹی پروگرام کے ذریعے ہمارا مقصد مدار میں حاصل ہونے والے علم کو تحقیقی مواقع میں بدلنا ہے جو بیماریوں کے بارے میں ہماری سمجھ کو گہرا کریں اور مستقبل کے علاج کی تیاری میں مدد دیں۔‘
کاسٹ میں بائیو سائنس کے پروفیسر اور اس پروجیکٹ کے اہم سائنسدان پروفیسر عماد گیلوزی نے کہا کہ یہ مشن محققین کو ایسے ماحول میں بیماریوں کے ماڈلز کا تجربہ کرنے کے قابل بناتا ہے جسے زمین پر نہیں بنایا جا سکتا اور یونیورسٹی کی ان دریافتوں میں شراکت کو مضبوط کرتا ہے جو مملکت اور دنیا بھر کے مریضوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔

یہ پروگرام تین آپس میں جڑے ہوئے تحقیقی مشنز پر محیط ہے (فوٹو: سعودی سپیس ایجنسی)

نیشنل سٹیم سیل فاؤنڈیشن کی سائنسی مشیر اور ایکسیوم سپیس میں بائیو مینوفیکچرنگ اینڈ بائیوٹیکنالوجی کی گلوبل ہیڈ ڈاکٹر پنار میسچی نے کہا کہ ’میں اس مشن کے بارے میں بہت پرجوش ہوں کیونکہ این ایس سی ایف کی ٹیم پہلی بار مائیکرو گریویٹی میں ’برین آرگنوائڈ ولیج’ کے تصور کو پرکھے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہی ڈش میں متعدد سيل لائنز کو ملا کر آبادی کی سطح پر مطالعہ ممکن ہوتا ہے۔ اس مشن میں سعودی سپیس ایجنسی اور کاسٹ کے تعاون سے سعودی عرب کے نمونے شامل کیے گئے ہیں۔
یہ پروگرام تین آپس میں جڑے ہوئے تحقیقی مشنز پر محیط ہے جس میں پہلا مشن صحت مند نمونوں کا مطالعہ کرتا ہے، دوسرا مشن الزائمر اور ملٹیپل سکلیروسس کے مریضوں کے ماڈلز کا مطالعہ کرے گا اور تیسرا علاج کے ردعمل پر توجہ دے گا اور مائیکرو گریویٹی میں ممکنہ دواؤں کی نشاندہی کرے گا۔
بائیو گریویٹی پروگرام سعودی سپیس ایجنسی کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد مائیکرو گریویٹی تحقیق اور لائف سائنسز میں قومی صلاحیتوں کو بنانا، بین الاقوامی سائنسی شراکت داریوں کو بڑھانا اور انسانوں کی صحت کے لیے سپیس سائنس کا استعمال کرنا ہے جو سعودی وژن 2030 کے مطابق معلومات پر مبنی معیشت، جدت اور زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

 

شیئر: