Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مصنوعی ذہانت کے دور میں ایرو سپیس صنعت کو نوجوان انجینئرز کی تلاش

گزشتہ دس برسوں میں برطانیہ کی ایرو سپیس صنعت میں 31 فیصد اضافہ ہوا مگر اس رفتار سے نئے انجینئرز تیار نہیں ہو سکے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
برطانیہ کے شہر فارنبرو میں جاری بین الاقوامی ایئر شو میں رضاکار کے طور پر خدمات انجام دینے والے 17 سالہ طالب علم حسن بٹ کے لیے طیاروں کو فضا میں پرواز کرتے دیکھنے سے زیادہ دلچسپ کوئی منظر نہیں تھا۔ ان کے مطابق بچپن سے ہی آسمان پر اڑتے طیارے دیکھ کر یہ جاننے کا شوق پیدا ہوا کہ آخر کون سے سائنسی اصول انہیں ہوا میں برقرار رکھتے ہیں۔
خبررساں ادارےت روئٹرز کے مطابق حسن بٹ نے ایئر شو میں آنے والے افراد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر بچہ جب آسمان کی طرف دیکھتا ہے اور طیارے کو اڑتے ہوئے دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے۔‘ ان کا خواب ہے کہ وہ ایرو سپیس اور انجینئرنگ کے شعبے میں تعلیم حاصل کریں اور مستقبل میں میزائل ٹیکنالوجی پر کام کریں۔
ایئر شو کے مختلف ہالوں میں ایرو اسپیس کمپنیوں، دفاعی اداروں اور بھرتی مہمات کے درجنوں سٹالز نوجوانوں، خصوصاً جنریشن زیڈ اور جنریشن الفا کو اس شعبے کی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اگرچہ حسن بٹ جیسے نوجوان اس صنعت کے لیے موزوں امیدوار سمجھے جاتے ہیں تاہم صنعت سے وابستہ اداروں اور کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ایسے نوجوانوں کی تعداد ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
روئٹرز کے مطابق برطانیہ کی ایرو اسپیس اور دفاعی صنعت کو ہر سال تقریباً 10 ہزار ماہر انجینئرز کی کمی کا سامنا ہے۔ صنعت کے نمائندوں کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ شعبے بڑی تعداد میں باصلاحیت انجینئرز کو اپنی جانب کھینچ رہے ہیں۔
رائل ایروناٹیکل سوسائٹی کی مارچ میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں لائسنس یافتہ ایرو سپیس انجینئرز میں سے نصف سے زیادہ کی عمر 50 برس سے زائد ہے جبکہ 30 برس سے کم عمر انجینئرز کا تناسب 10 فیصد سے بھی کم ہے۔
دوسری جانب صنعتی تنظیم اے ڈی ایس  کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں برطانیہ کی ایرو سپیس صنعت میں 31 فیصد اضافہ ہوا مگر اس رفتار سے نئے انجینئرز تیار نہیں ہو سکے۔
اے ڈی ایس کے چیف ایگزیکٹو کیون کریون نے کہا کہ ایرو سپیس صنعت کئی برسوں سے ہنر مند افرادی قوت کی کمی کا سامنا کر رہی ہے، حالانکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہ شعبہ مسلسل ترقی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق فلائنگ ٹیکسی، ماحول دوست فضائی ٹیکنالوجی اور پائیدار ہوابازی جیسے نئے شعبے نوجوان انجینئرز کو اس صنعت کی جانب متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

برطانیہ کی ایرو اسپیس اور دفاعی صنعت کو ہر سال تقریباً 10 ہزار ماہر انجینئرز کی کمی کا سامنا ہے۔(فوٹو: اے ایف پی)

آرڈرز کی بھرمار، انجینئرز کی کمی
ایرو سپیس صنعت اس وقت طیاروں کے آرڈرز کے ریکارڈ بیک لاگ کا سامنا کر رہی ہے۔ دنیا کی بڑی کمپنیوں، جن میں بوئنگ اور ایئربس شامل ہیں، پروازی جہازوں کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر دوسری طرف ان کے تجربہ کار انجینئر تیزی سے ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ رہے ہیں۔
چند برس قبل لاگت میں کمی کے لیے کئی کمپنیوں نے وہ اپرنٹس شپ پروگرام ختم کر دیے تھے جو نوجوانوں کو طویل مدتی کیریئر کے لیے تیار کرتے تھے۔ اب ان کی جگہ ابتدائی سطح کی ملازمتوں اور گریجویٹ پروگراموں نے لے لی ہے جن کی تشہیر اس ہفتے فارنبرو ایئر شو میں مختلف سٹالز کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
ایئر شو میں نوجوانوں کی دلچسپی بڑھانے کے لیے انجن تیار کرنے کی عملی سرگرمیاں اور ہالی ووڈ فلم’ ٹاپ گن‘ سے مشابہ فضائی کرتب بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔

ایرو سپیس صنعت اس وقت طیاروں کے آرڈرز کے ریکارڈ بیک لاگ کا سامنا کر رہی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ٹیکنالوجی کمپنیاں زیادہ پرکشش
ماہرین کے مطابق ایرو سپیس صنعت کو ایسے شعبوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے جن میں انجینئرنگ کی اسی نوعیت کی مہارت درکار ہوتی ہے مگر وہاں ملازمت حاصل کرنا نسبتاً آسان ہے اور تنخواہیں بھی زیادہ ہیں، خصوصاً ٹیکنالوجی کمپنیوں میں۔
مشاورتی ادارے دی لنڈکوسٹ گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر جیرالڈ لنڈکوسٹ کے مطابق اگر کوئی انجینئر ایم آئی ٹی، پرڈیو یا کسی اور ممتاز ادارے سے فارغ التحصیل ہوتا ہے تو اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں رہتا کہ وہ بوئنگ یا ایئربس میں ملازمت کرے یا پھر اینتھروپک اور اوپن اے آئی جیسی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کا رخ کرے۔

گزشتہ سال ایرو سپیس، دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں نے برطانوی معیشت میں 46.8 ارب پاؤنڈ (62.4 ارب ڈالر) کا اضافہ کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

دفاعی سرمایہ کاری سے نوجوانوں کو راغب کرنے کی کوشش
برطانوی حکومت کو امید ہے کہ یوکرین جنگ کے تناظر میں دفاعی شعبے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری نوجوانوں کے لیے اس صنعت کی کشش میں اضافہ کرے گی۔ حکومت اس وقت بی اے ای سسٹمز کے تیار کردہ برونٹانیکس جیسے بغیر پائلٹ ڈرونز کی تیاری پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
اے ڈی ایس کے مطابق گزشتہ سال ایرو سپیس، دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں نے برطانوی معیشت میں 46.8 ارب پاؤنڈ (62.4 ارب ڈالر) کا اضافہ کیا۔
ایئر شو میں شریک ایک اور 17 سالہ طالبہ مولی ہیڈن بھی حسن بٹ کی طرح اس شعبے میں کیریئر بنانے کی خواہش رکھتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ صرف ایئر شو منعقد کرنا کافی نہیں بلکہ سکولوں اور کالجوں میں بھی نوجوانوں، خصوصاً لڑکیوں کو اس شعبے میں موجود مواقع سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
مولی ہیڈن کے بقول، ’نوجوانوں کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ ایرو سپیس اور دفاعی صنعت میں ہر ایک کے لیے روزگار کے مواقع موجود ہیں اور وہ بھی اس شعبے میں اپنا مستقبل بنا سکتے ہیں۔‘

شیئر: