Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خلا انسانی ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے: سعودی سپیس ایجنسی کے سربراہ

سعودی عرب 2026 میں سپیس ڈیبریز کانفرنس کی میزبانی بھی کرے گا۔ (فوٹو: ایس پی اے)
حکام اور ماہرین کے مطابق سعودی عرب اپنے سپیس کے شعبے کو ترقی دینے کی کوششیں تیز کر رہا ہے جو کہ وژن 2030 کے تحت ایک متنوع اور علم پر مبنی معیشت بنانے کے وسیع منصوبوں کا حصہ ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں خلا کو بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی کی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، اور بین الاقوامی تعاون کے محرک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پالیسی ساز کہتے ہیں کہ یہ اب مواصلات اور نیوی گیشن سے لے کر موسمیاتی نگرانی اور آفات کے انتظام تک کئی خدمات کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
سعودی سپیس ایجنسی کے سی ای او محمد التمیمی کا کہنا ہے کہ سپیس ٹیکنالوجیز روزمرہ زندگی اور قومی ترقی کی ترجیحات سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’خلا انسانی ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے‘۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مواصلات، زمین کی نگرانی اور نیوی گیشن میں جدتیں زراعت، لوجسٹکس اور شہری منصوبہ بندی جیسے شعبوں کو مدد فراہم کرتی ہیں۔
التمیمی نے مزید کہا کہ نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت سٹارٹ اپس اور بین الاقوامی شراکت داری کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے کیونکہ سعودی عرب صرف امپورٹڈ ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی صلاحیتیں اور وسائل استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں کئی ادارتی اصلاحات دیکھنے میں آئیں۔ 2018 میں سعودی سپیس ایجنسی کے قیام، ریگولیٹری ذمہ داریوں کی کمیونیکیشنز کو منتقلی، سپیس اور ٹیکنالوجی کمیشن اور سپریم سپیس کونسل کے قیام جس کی صدارت ولی عہد محمد بن سلمان کر رہے ہیں، نے اس شعبے کے لیے گورننس اور حکمت عملی قائم کرنے میں مدد دی ہے۔

سعودی عرب نے عالمی پروگراموں میں اپنی شرکت کو بھی بڑھایا ہے۔ ان میں ناسا کے ساتھ ہونے والے معاہدے موسمیاتی اور خلا کے موسمی حالات سے متعلق مشنز میں تعاون شامل ہیں جبکہ تحقیقی مراکز اور سپیس کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری تربیت، مشترکہ تجربات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی حمایت کرتی ہے۔
ملکی سطح پر سیٹلائٹ کی تیاری، زمین کی نگرانی کے پلیٹ فارمز اور سمارٹ سٹی اور ماحولیاتی منصوبوں سے متعلق ڈیٹا خدمات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ملکیت نیو سپیس گروپ متوقع طور پر وسائل پیدا کرنے اور بین الاقوامی شراکت داروں کو متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
نوجوانوں کے پروگرام اور تعلیمی منصوبے اس حکمت عملی میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ مقابلے، اکیڈیمک تحقیقاتی منصوبے اور خلانوردی کی تربیت کے مواقع طلبہ کو سائنس اور انجینیئرنگ کے شعبوں میں کیریئر اپنانے کی ترغیب دینے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔
سنہ 2023 میں سعودی خلا نورد ریانہ برناوی اور علی القرنی نے انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کے لیے ایکسیوم ٹو مشن میں حصہ لیا جہاں انہوں نے سائنسی اور عوامی آگاہی سے متعلق سرگرمیاں انجام دیں۔

نیشنل انڈیکیٹرز کے مطابق سعودی خلا کی معیشت کی قیمت 2024 میں تقریباً  آٹھ اعشاریہ سات ارب ڈالر تھی اور توقع ہے کہ یہ 2035 تک مسلسل بڑھتی رہے گی جس میں سیٹلائٹ کی تیاری اور بعد کے شعبے جیسے ڈیٹا اینالٹکس اور نیوی گیشن دونوں میں توسیع متوقع ہے۔
حکام نے پائیداری کو بھی ایک ترجیح کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ نئے ضوابط کا مقصد محفوظ اور ذمہ دارانہ خلائی سرگرمی کو یقینی بنانا ہے جبکہ سعودی عرب 2026 میں سپیس ڈیبریز کانفرنس کی میزبانی بھی کرے گا۔
پالیسی سازوں کے لیے خلائی شعبہ اعزاز حاصل کرنے سے زیادہ عملی نتائج سے متعلق ہے۔ بہتر خدمات، مضبوط قومی صلاحیتیں اور ایک ایسے صنعت میں قدم جمانا جس کی توقع ہے کہ اگلے دہائی میں تیزی سے آگے بڑھے گی۔

شیئر: