Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپیس ایکس کے ناکارہ راکٹ کا چاند سے ٹکر، گرد و غبار کے بادل کا مشاہدہ

سپیس ایکس کے ایک ناکارہ راکٹ کا حصہ بدھ کی صبح تیز رفتاری سے چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔(فوٹو:رائٹرز )
امریکی خلائی کمپنی سپیس ایکس کے ایک ناکارہ راکٹ کا حصہ بدھ کی صبح تیز رفتاری سے چاند کی سطح سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں گرد و غبار کا ایک بڑا بادل اٹھا۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ واقعہ چاند پر قدرتی شہابیوں، بے قابو خلائی جہازوں اور انسانی ساختہ خلائی ملبے کے ٹکرانے کی طویل تاریخ میں ایک اور اضافہ ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ تقریباً سکول بس کے برابر حجم رکھنے والا حصہ ’فالکن 9‘ راکٹ کا دوسرا مرحلہ تھا، جس نے جنوری 2025 میں ’فائر فلائی ایرو سپیس‘ کے قمری لینڈر کو چاند کی جانب روانہ کیا تھا۔
 مشن مکمل ہونے کے بعد یہ حصہ خلا میں بے قابو حالت میں گردش کرتا رہا اور بالآخر چاند سے جا ٹکرایا۔
راکٹ کا تقریباً چار ٹن وزنی حصہ بدھ کو امریکی وقت کے مطابق صبح 2 بج کر 35 منٹ (0635 جی ایم ٹی) پر تقریباً 8 ہزار 690 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند سے ٹکرایا۔
چاند کے گرد گردش کرنے والے کسی خلائی جہاز کی پوزیشن ایسی نہیں تھی کہ وہ تصادم کی قریب سے تصاویر لے سکتا، تاہم چلی میں واقع یورپی جنوبی رصدگاہ کی ’لارج ٹیلی سکوپ‘ نے تصادم کے بعد پیدا ہونے والی روشنی کا مشاہدہ کیا۔
رصدگاہ کے ترجمان نے روئٹرز کو بتایا کہ ٹیلی سکوپ نے تصادم کے بعد پانچ سے دس منٹ تک گرد و غبار کے بادل میں سوڈیم اور لیتھیم گیس کی موجودگی کے شواہد ریکارڈ کیے۔
ماہرین کے مطابق سورج کی روشنی اور گرد و غبار کے بادل کے باہمی تعامل سے انہیں اس کی ساخت کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئیں۔ 
ابتدائی مشاہدات کے مطابق سوڈیم غالباً چاند کی مٹی سے خارج ہوا، جبکہ لیتھیم کے آثار ممکنہ طور پر راکٹ کے حصے سے آئے، تاہم حتمی تجزیہ ابھی باقی ہے۔

تصادم چاند کے اس حصے میں ہوا جہاں روشنی اور سائے کی حد آپس میں ملتی ہے۔(فوٹو:رائٹرز )

تصادم چاند کے اس حصے میں ہوا جہاں روشنی اور سائے کی حد آپس میں ملتی ہے۔ اس مقام پر اٹھنے والا گرد و غبار کچھ دیر کے لیے سورج کی روشنی سے روشن ہوا، تاہم زمین سے اسے آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں تھا۔
مشاہداتی ٹیم کے سربراہ ماہرِ فلکیات کارل شمٹ نے کہا کہ یہ ابتدائی تجزیہ ہے اور مشاہدات مکمل نہیں تھے، تاہم حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے چاند کی سطح اور تصادم کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
عام طور پر راکٹ کا دوسرا مرحلہ اپنا کام مکمل کرنے کے بعد زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل جاتا ہے یا سمندر میں گر جاتا ہے، تاہم اس قمری مشن کے لیے زیادہ زور درکار تھا، جس کے باعث راکٹ کا یہ حصہ خلا میں ہی رہ گیا اور ہزاروں دیگر خلائی ملبے کے ساتھ گردش کرتا رہا۔
بعد ازاں ماہرینِ فلکیات نے معلوم کیا کہ ایندھن ختم ہونے کے باعث بے قابو ہونے والا یہ راکٹ ایسے مدار پر آ گیا تھا جو بالآخر اسے چاند تک لے گیا۔

ماہرین کا اندازہ تھا کہ راکٹ کا حصہ چاند کے مغربی کنارے پر واقع ’آئن سٹائن کریٹر‘ کے قریب گرے گا۔(فوٹو:رائٹرز )

سپیس ایکس نے کہا کہ یہ تصادم غیر ارادی تھا۔ 
ماہرین کا اندازہ تھا کہ راکٹ کا حصہ چاند کے مغربی کنارے پر واقع ’آئن سٹائن کریٹر‘ کے قریب گرے گا، تاہم یہ علاقہ زمین سے واضح طور پر دکھائی نہیں دیتا۔
سپیس ایکس میں ناسا سائنس اور ڈریگن پروگرامز کی ڈائریکٹر جولیانا شیمین کے مطابق سورج کی سرگرمی اور کششِ ثقل کے مشترکہ اثرات نے اس راکٹ کے حصے کا راستہ تبدیل کیا اور وہ چاند سے جا ٹکرایا۔
فلکیاتی سافٹ ویئر ’پروجیکٹ پلوٹو‘ کے خالق بل گرے، جنہوں نے سب سے پہلے اس تصادم کی پیش گوئی کی تھی، کا کہنا ہے کہ جنوری تک انہیں یقین ہو گیا تھا کہ راکٹ چاند سے ٹکرائے گا، جبکہ اپریل میں انہوں نے اس بارے میں باقاعدہ پیش گوئی جاری کی۔ 
ان کے مطابق اس تصادم سے کسی انسان کو کوئی خطرہ نہیں تھا، تاہم یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلا میں چھوڑے گئے راکٹوں اور دیگر ملبے کو ٹھکانے لگانے کے طریقہ کار پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
چاند سے خلائی ملبے کے ٹکرانے کے واقعات کم ہوتے ہیں، تاہم اس سے پہلے مارچ 2022 میں چین کے راکٹ کا ایک حصہ بھی چاند سے ٹکرایا تھا۔

ناسا اور سپیس ایکس مستقبل میں ایسے تصادم سے بچنے کے طریقوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔(فوٹو:رائٹرز )

2009 میں ناسا نے جان بوجھ کر ایک راکٹ کا حصہ چاند سے ٹکرایا تھا تاکہ اٹھنے والے گرد و غبار کا مطالعہ کیا جا سکے، جس سے چاند کی مٹی میں پانی کی برف کے آثار ملنے میں مدد ملی۔
حالیہ برسوں میں کئی قمری مشن بھی لینڈنگ کے دوران ناکام رہے ہیں، جن میں روس کا ’لونا-25‘، انڈیا کا ’چندریان-2‘ اور اسرائیل کا ’بیریشیٹ‘ مشن شامل ہیں۔
روئٹرز کے مطابق ناسا اور سپیس ایکس مستقبل میں ایسے تصادم سے بچنے کے طریقوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ 
ناسا اپنے اربوں ڈالر مالیت کے ’آرٹیمس‘ پروگرام کے تحت اس دہائی کے آخر تک چاند پر ایک اڈہ قائم کرنے اور وہاں باقاعدگی سے خلا باز بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 
اسی لیے وہ نہیں چاہتا کہ خلا میں موجود بے قابو ملبہ مستقبل کے قمری مشنز یا چاند پر قائم کیے جانے والے انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ بنے۔

شیئر: