Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چاند پر انسانوں کا مستقل گھر؟ ناسا نے ’مون بیس‘ منصوبے کا روڈ میپ پیش کر دیا

ناسا نے چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے منصوبے ’مون بیس‘ کے لیے ایک خصوصی ویب سائٹ متعارف کرائی ہے۔(فوٹو: ناسا)
امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے منصوبے ’مون بیس‘ کے لیے ایک خصوصی ویب سائٹ متعارف کرائی ہے، جس میں چاند کے جنوبی قطب کے قریب مستقبل میں قائم کیے جانے والے قمری مرکز کی تفصیلات اور ترقی کے مراحل بیان کیے گئے ہیں۔
ناسا کے مطابق ’مون بیس‘ آرٹیمس پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد چاند پر انسانوں کی پہلی مستقل موجودگی قائم کرنا، سائنسی تحقیق کو فروغ دینا اور مستقبل میں مریخ تک انسانی مشنز کے لیے ضروری ٹیکنالوجی اور تجربات حاصل کرنا ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ قمری مرکز چاند کے جنوبی قطب کے قریب قائم کیا جائے گا، جہاں دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ دیر تک سورج کی روشنی دستیاب رہتی ہے اور پانی کی برف کے ذخائر موجود ہونے کے امکانات ہیں۔
ناسا کی ویب سائٹ کے مطابق منصوبے پر مرحلہ وار کام کیا جائے گا۔
پہلا مرحلہ 2029 تک جاری رہے گا، جس کے دوران چاند کے جنوبی قطب کا جائزہ لینے، نئی ٹیکنالوجیز آزمانے اور مستقبل کی انسانی موجودگی کے لیے تیاری کی غرض سے 25 تک مشنز اور 21 لینڈنگز کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
اس مرحلے میں خودکار اور انسانی نگرانی میں کام کرنے والے روورز، ’مون فال‘ نامی ڈرونز، مواصلاتی اور مشاہداتی سیٹلائٹس اور قمری رات کے سخت ماحول میں کام کرنے والی ٹیکنالوجیز کا تجربہ کیا جائے گا۔
ناسا کے مطابق ابتدائی مرحلے میں توانائی، مواصلات، نیویگیشن اور ریڈیو آئسوٹوپ ہیٹر یونٹس سمیت مختلف نظاموں کی آزمائش بھی کی جائے گی۔

 


منصوبے کا دوسرا مرحلہ 2029 سے 2032 تک جاری رہے گا، جس میں نیم مستقل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ دی جائے گی۔(فوٹو: ناسا)

ناسا کے مطابق اس عرصے کے دوران 24 لینڈنگز کے ذریعے 60 ٹن تک سامان چاند پر منتقل کیا جائے گا۔
اس مرحلے میں شمسی توانائی کے نظام، ابتدائی جوہری توانائی کے یونٹس، جدید روورز اور ابتدائی رہائشی ڈھانچے نصب کیے جائیں گے۔

 مستقل انسانی موجودگی کا ہدف

2032 کے بعد شروع ہونے والے تیسرے مرحلے میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے ہدف کو عملی شکل دی جائے گی۔
ناسا کے مطابق اس دوران خلابازوں کی باقاعدہ آمد و رفت، رہائشی ماڈیولز کی توسیع اور سالانہ بنیادوں پر 38 ٹن سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ قمری مرکز مسلسل فعال رہ سکے۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق سپیس ایکس کا اسٹارشپ راکٹ اس پروگرام کا اہم حصہ ہوگا۔(فوٹو: ناسا)

بلومبرگ کے مطابق ناسا آئندہ سات برسوں میں چاند کی سطح پر مستقل اڈے کی تعمیر کے لیے تقریباً 20 ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ 
 میڈیا رپورٹس کے مطابق سپیس ایکس کا اسٹارشپ راکٹ اس پروگرام کا اہم حصہ ہوگا اور 2026 میں تین بغیر عملے کے مشنز بھی روانہ کیے جائیں گے۔

 چاند کا جنوبی قطب کیوں اہم ہے؟

ناسا کے مطابق چاند کا جنوبی قطب سائنسی اعتبار سے انتہائی اہم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں موجود برف مستقبل میں پینے کے پانی، آکسیجن اور راکٹ ایندھن کی تیاری میں مدد دے سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چاند پر مستقل انسانی موجودگی قائم کرنے میں کامیابی ملتی ہے تو یہ مستقبل میں مریخ اور نظامِ شمسی کے دیگر حصوں تک انسانی رسائی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔

شیئر: