Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’آخری پرواز ہوگی‘: ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں جان سے جانے والے افراد کے اہلِ خانہ غم سے نڈھال

ریاض ایئر پورٹ پر حملے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی، دو بنگلہ دیشی اور امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
اس واقعے کے بعد اہلِ خانہ اور دوستوں نے اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تعزیتی پیغامات، نمازِ جنازہ کے اعلانات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں شیئر کیں۔
تقویٰ رضوان
ایکس پر ایک پیغام میں ایک رشتہ دار نے حملے میں جاں بحق ہونے والی سعودی شہری کی شناخت تقویٰ رضوان کے نام سے کی۔
رشتہ دار نے لکھاکہ ’اللہ کی رضا پر راضی ہوتے ہوئے ہم اپنی کزن تقویٰ رضوان کی وفات پر غمزدہ ہیں جو گزشتہ روز ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئیں۔‘
انہوں نے دعا کی کہ ’اللہ تعالیٰ انہیں شہدا میں قبول فرمائے، ان کی مغفرت کرے، ان پر رحم فرمائے، انہیں جنت میں جگہ عطا کرے اور ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے‘
پیغام کے اختتام پر انہوں نے لکھا کہ ’بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
لمیس سعد الطھانی
عبداللہ احمد العسیری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں حملے میں جان سے جانی والی ایک اور سعودی شہری کی شناخت لمیس سعد الطھانی کے نام سے کی جو ان کی بھانجی کی بیٹی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’لمیس سعد الطھانی کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئیں جبکہ ان کی والدہ ایمان الطھانی کے جسم پر دھماکے کے نتیجے میں زخم آئے جن کا ریاض کے ایک ہسپتال میں علاج جاری ہے۔
عبداللہ احمد العسیری نے لکھا کہ ’بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ میری بھانجی کی بیٹی گزشتہ روز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ہولناک حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ لمیس یونیورسٹی کے آخری سال میں زیرِ تعلیم تھیں جبکہ ان کی والدہ زخموں کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
عبداللہ احمد العسیری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ لمیس سعد الطہانی کی مغفرت فرمائے اور ان کی والدہ ایمان الطہانی کو جلد صحت یابی عطا کرے۔
منیرہ العنزی
غادہ نامی ایک خاتون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی دوست منیرہ العنزی کی نمازِ جنازہ کے انتظامات کا اعلان کیا۔
انہوں نے لکھا کہ ’میری پیاری دوست منیرہ کی نمازِ جنازہ آج نمازِ عصر کے بعد ریاض کی الراجحی مسجد میں ادا کی جائے گی۔‘
مریم ابراہیم سلیمان النملہ
سلیمان النملہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی آنٹی مریم ابراہیم سلیمان النملہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے لکھا کہ ’میری پیاری آنٹی مریم ابراہیم سلیمان النملہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ہولناک اور بزدلانہ دہشت گرد حملے کے نتیجے میں انتقال کر گئیں۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان پر رحم کرے، انہیں شہدا میں قبول فرمائے، جنت میں جگہ عطا کرے اور ہمارے دلوں کو صبر و سکون دے۔‘
سلیمان النملہ کے مطابق مریم ابراہیم سلیمان النملہ کی نمازِ جنازہ پیر کے روز نمازِ عصر کے بعد الراجحی مسجد میں ادا کی جائے گی۔
عزہ رمزی
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں جاں بحق ہونے والی 28 سالہ مصری فلائٹ اٹینڈنٹ عزہ رمزی چند روز بعد شادی کے لیے مصر واپس جانے کی تیاری کر رہی تھیں، مگر قسمت نے انہیں مہلت نہ دی۔
سعودی فضائی کمپنی فلائی ناس میں ملازمت کرنے والی غزہ رمزی حملے کے وقت ایئرپورٹ پر ڈیوٹی انجام دے رہی تھیں۔ حملے میں وہ شدید زخمی ہوئیں اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔
العربیہ کے مطابق مصر کی کمشنری البحیرہ میں واقعے کی خبر ملتے ہی فضا سگوار ہوگئی۔ ایک رشتے دار نے بتایا کہ ’عزہ رمزی نے ملازمت چھوڑنے کے بعد اپنے آبائی علاقے میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا۔‘
عزہ رمزی کے کزن احمد لبیب کا نے بتایا کہ ’وہ لا گریجویٹ تھیں، اپنے شعبے میں جانے کے بجائے جب ایوی ایشن میں ملازمت کی آفر ملی تو اسے قبول کر لیا۔‘
اپنے گھروالوں کو اس بات سے مطلع کر دیا تھا کہ یہ ان کی آخری پرواز ہوگی اس کے بعد وہ سالانہ چھٹیوں پر گھر آئیں گی اور ملازمت چھوڑ دیں گی۔
مصری فلائٹ اٹینڈنٹ کی میت مصر روانہ کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
امریکی شہری بھی حملے میں جان سے گیا
حملے میں ہلاک ہونے والے امریکی شہری کی شناخت تاحال عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی گئی۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک امریکی شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکہ سعودی عرب پر دہشت گرد حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ان حملوں میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آج کیا جانے والا حملہ بھی شامل ہے جس میں متعدد بے گناہ افراد، بشمول ایک امریکی شہری، جاں بحق ہوئے۔‘
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ’یہ قابلِ مذمت حملے بے گناہ شہریوں کی زندگیوں کے لیے واضح بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ ہم سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور جاں بحق افراد اور ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔‘

شیئر: