ریاض ایئرپورٹ پر حملہ جنگی جرم، فیصلہ کن جواب دیا جائے گا: ترکی المالکی
اتوار 11 اکتوبر 2026 3:37
کنگ خالد انٹرینشنل ایئرپورٹ پر بزدلانہ دہشت گرد حملہ کیا گیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
یمن میں قانونی حکومت کی خودمختاری کی حمایت کرنے والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ اتحادی فورسز ریاض ایئرپورٹ پر کیے جانے والے دہشت گرد حملے کا روایتی بین الاقوامی قانون کے مطابق فیصلہ کن جواب دیں گی۔
ایس پی اے کے مطابق ترجمان نے کہا کہ سنیچر 10 اکتوبر کو حوثی ملیشیا کی جانب سے کنگ خالد انٹرینشنل ایئرپورٹ کے پیسنجر ٹرمینل پر بزدلانہ دہشت گرد حملہ کیا گیا جس کے نتیجے شہری، مسافر اور ایئرپورٹ کا عملہ ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان نے اسے روایتی بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ایک مکمل جنگی جرم قرار دیا جو تمام اصولوں، اقدار اور اخلاقیات کے منافی ہے۔
اتحادی فورسز کی کمان روایتی بین الاقوامی قانون کے مطابق اس دہشت گرد حملے کا فیصلہ کن جواب دے گی۔
یاد رہے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سنیچر کی سہ پہر ہونے والے 12 افراد جان سے گئے جبکہ 309 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اتوار کی صبح بیان میں کہا کہ مرنے والوں میں چار سعودی، دو بنگلہ دیشی، امریکہ، اردن، شام، سوڈان، فلسطین اور مصر کا ایک ایک شہری شامل ہے۔
309 زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ انہیں مختلف ہسپتالوں میں ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ریاض ایئر پورٹ پر حملے کے چند گھنٹے بعد دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اتحادی فورسز کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ میں بتایا دمام ایئر پورٹ کے قریب ایک پروجیکٹائل گرا ہے۔