Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہم اُن کے لیے سب کچھ تھے‘، شاہ خالد ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں ہلاک ہونے والے بنگلہ دیشی شہری کا خاندان غم سے نڈھال

شاہد احمد 10 اکتوبر کو ریاض میں ٹرانزٹ پر تھے کہ حوثیوں کا میزائل وہاں آ گرا اور وہ جان سے چلے گئے (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر شاہد احمد اپنی پرواز کا انتظار کر رہے تھے اور ویڈیو کال پر اپنے نو سالہ بیٹے سے بات کر رہے تھے جب اچانک اُن کی کال منقطع ہو گئی تو انہوں نے وائس میسیج بھیجا کہ وہ جدہ پہنچ کر دوبارہ فون کریں گے۔ لیکن وہ کبھی فون نہ کر سکے۔ کچھ ہی دیر بعد حوثیوں کے میزائل حملے میں اُن کی جان چلی گئی۔
بنگلہ دیش کے شمالی علاقے بوگورا سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ شاہد احمد پیشے کے لحاظ سے پلمبر تھے۔ وہ اپنے گھر والوں سے ملاقات کے بعد دوبارہ سعودی عرب میں اپنی کام کی جگہ پر واپس جا رہے تھے۔
10 اکتوبر کو وہ ریاض میں ٹرانزٹ پر تھے کہ حوثیوں کا میزائل وہاں آ گرا۔
جس وقت اُن کی جدہ پہنچنے کی امید تھی، اُن کی اہلیہ کوہِ نور اختر کاکولی نے انہیں فون کیا، لیکن موبائل بند تھا۔ انہیں لگا کہ شاید وہ سو رہے ہوں گے۔
انہیں حملے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔
کورہِ نور اختر کاکولی نے بتایا کہ ’اگلی صبح میں نے انہیں دوبارہ فون کرنا شروع کیا، لیکن پھر بھی ان کے موبائل پر گھنٹی نہیں جا رہی تھی۔ اِس کے بعد میں نے ٹی وی پر ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے کی خبر دیکھی۔ میں نے اپنے کچھ رشتہ داروں سے کہا کہ وہ اُن کا پتا لگائیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ‘اتوار کی دوپہر تقریباً دو بجے کچھ سرکاری اہلکار ہمارے گھر آئے اور یہ خبر دی۔ مجھے تب یہ پتا چلا کہ میرے شوہر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔‘
شاہد احمد سعودی دارالحکومت پر ہفتے کے روز ہونے والے میزائل حملے میں جاں بحق ہونے والے 13 افراد میں شامل تھے۔ اِس حملے میں شاہد احمد سمیت دو بنگلہ دیشی شہری جان سے گئے۔ دوسرے بنگلہ دیشی شہری  37سالہ نصراللہ بدر تھے، جو پیشے کے لحاظ سے اُستاد اور امام تھے اور عمرے کے لیے آنے والے زائرین کے ایک گروپ کی قیادت کر رہے تھے۔
حملے میں 300 سے زائد دیگر افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں بنگلہ دیش کے 24 شہری شامل ہیں۔ ریاض میں بنگلہ دیشی سفارت خانے کے مطابق، متاثرین میں زیادہ تر تارکینِ وطن مزدور یا زائرین تھے۔
شاہد احمد نے سوگواروں میں اہلیہ اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔ اُن کے بڑے بیٹے کوثر کی عمر نو سال اور چھوٹے بیٹے عبداللہ کی عمر تین سال ہے۔
ان کی اہلیہ نے کہا کہ ‘میں اور ہمارے دونوں بیٹے ہی ان کی کل کائنات تھے۔ وہ اپنی آمدن کا زیادہ تر حصہ خاندان کی ضروریات پوری کرنے اور ہماری خوش حالی زندگی کے لیے بھیج دیا کرتے تھے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ‘اُن کے تمام خواب ہمارے بیٹوں کے گرد گھومتے تھے۔ اُن کی خواہش تھی کہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو اِس قابل بنائیں کہ وہ سرکاری افسر بن کر ملک کی خدمت کرے۔ اب مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اُن کے والد کی مدد کے بغیر میں دونوں بچوں کی پرورش کیسے کروں گی۔‘

ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں بنگلہ دیش کے 24 شہری بھی شامل ہیں (فوٹو: روئٹرز)

شاہد احمد کو ابتدائی طور پر 29 اکتوبر کو سعودی عرب واپس جانا تھا، لیکن انہوں نے اپنا سفر پہلے کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں خدشہ تھا کہ حوثیوں کے حملوں میں شدت آ سکتی ہے اور بعد میں پروازیں منسوخ ہونے کے باعث اُن کے لیے دوبارہ کام پر پہنچنا ممکن نہیں رہے گا۔
شاہد احمد کی اہلیہ کے مطابق، وہ ملازمت سے محروم ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے، کیونکہ وہ مزید سات ماہ بعد ہمیشہ کے لیے وطن واپس آنے کی تیاری کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمارا منصوبہ تھا کہ میں عمرہ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب جاؤں گی اور ہم دونوں ایک ساتھ وطن واپس آئیں گے۔‘
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سب میرے لیے انتہائی دل توڑ دینے والا ہے۔ اُن کی سالگرہ 11 اکتوبر کو ہوتی ہے، لیکن وہ اِس سے ایک دن پہلے ہی وفات پا گئے۔ 23 اکتوبر کو ہماری اپنی شادی کی 13 ویں سالگرہ منانے کا بھی منصوبہ تھا۔ اب بس یادیں ہی رہ گئی ہیں۔‘

شیئر: