دُکی سے اغوا مزدوروں میں ایک قتل، 11 تاحال لاپتہ، 8 قریبی رشتہ دار شامل’پورے گاؤں میں پریشانی ہے‘
بدھ 7 اکتوبر 2026 16:29
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
’باسط کے اغوا ہونے کے ایک دو روز بعد اُن کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی لیکن وہ اپنے نومولود بچے کو آج تک دیکھ نہیں سکے۔ جب ان کا بیٹا پیدا ہوا تو باسط اغوا کاروں کی قید میں تھے۔ ان کی اہلیہ شدید صدمے میں ہیں۔
یہ کہنا ہے صادق آباد کے رہائشی وسیم احمد کا جن کے خاندان کے آٹھ افراد بلوچستان کے ضلع دُکی سے اغوا ہونے والے 12 مزدوروں میں شامل ہیں۔
یہ مزدور 25 ستمبر کی شب دُکی کی تحصیل نانا صاحب زیارت کے علاقے پلڑی میں ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملے کے بعد اغوا کیے گئے تھے۔
پولیس کے مطابق اغوا ہونے والے مزدوروں میں سے ایک شاہد کو اتوار کے روز قتل کر دیا گیا جبکہ باقی 11 تاحال لاپتہ ہیں۔
دُکی پولیس کے مطابق شاہد کا تعلق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے تھا اور ان کی نعش دُکی سے متصل ضلع کوہلو کے علاقے نرہن سے ملی۔
قانونی کارروائی کے بعد نعش ان کے آبائی علاقے رحیم یار خان بھیج دی گئی۔ لواحقین کے مطابق شاہد کا بیٹا بھی اغوا کاروں کی تحویل میں ہے۔
پولیس کے مطابق 12 مغوی مزدوروں میں سے 10 کا تعلق پنجاب، ایک کا خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان جبکہ ایک کا دُکی سے ہے۔
مغویوں کے رشتہ دار وسیم احمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے 10 مزدوروں میں سے آٹھ صادق آباد کے ایک ہی گاؤں بستی مٹھل خان کے رہنے والے اور آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں جبکہ دو کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔
وسیم احمد کے مطابق ’ان کے چچا زاد بھائی باسط بھی انہی مغوی مزدوروں میں شامل ہیں۔ باسط کے اغوا کے ایک دو روز بعد ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، لیکن وہ اپنے بچے کا چہرہ دیکھنے کے لیے بھی موجود نہیں تھے۔ ان کی اہلیہ کے لیے یہ وقت بہت مشکل ہے۔‘
’ان کے خاندان کے آٹھ افراد ایک ہی گاؤں سے ہیں اور گذشتہ قریباً تین برس سے دُکی میں سڑک تعمیر کرنے والی ایک کمپنی کے ساتھ مزدوری کر رہے تھے۔‘
وسیم احمد کہتے ہیں کہ ’اس دوران انہیں کبھی کوئی دھمکی نہیں ملی۔ اگر ہمیں پہلے سے کوئی خطرہ معلوم ہوتا تو ہم انہیں وہاں جانے سے روک دیتے۔‘
پولیس کے مطابق 25 ستمبر کی شب 30 سے 40 نامعلوم مسلح افراد نے دُکی کی تحصیل نانا صاحب زیارت کے علاقے پلڑی میں واقع تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا تھا۔
’حملے میں کمپنی کا ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا جبکہ مسلح افراد کمپنی کی چار گاڑیوں کو نذر ِآتش کرنے کے بعد 12 مزدوروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔‘
وسیم احمد کے مطابق مغویوں میں ان کے چچا سکندر بھی شامل ہیں جو اپنے گھر کے واحد کفیل ہیں اور ان کے تین بچے ہیں جن کی عمریں پانچ برس سے کم ہیں۔
ان کے مطابق مغوی مزدوروں میں نعمان اور شمن علی سگے بھائی ہیں جبکہ آفتاب اور نعیم بھی شادی شدہ اور بچوں والے ہیں۔
’اس وقت ہمارے پورے گاؤں میں پریشانی ہے۔ چھوٹے بڑے سب مساجد میں اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں ۔ بچے انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے بابا کب گھر واپس آئیں گے۔‘
وسیم احمد کا کہنا ہے کہ مغوی مزدوروں کے خاندانوں نے ان کی بازیابی کے لیے صادق آباد اور رحیم یار خان میں احتجاج بھی کیا ہے۔
’اغوا کاروں نے خاندانوں سے براہِ راست رابطہ نہیں کیا بلکہ انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں کمپنی کے مالک کو اپنے مطالبات پورے کرنے کے لیے چند دن کی مہلت دی گئی تھی۔‘
ان کے مطابق ویڈیو میں مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں مزدوروں کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
’اغوا کاروں نے اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے ہمارے ایک مزدور کو قتل کر دیا ہے اور اب ہمیں ڈر ہے کہ باقی مزدوروں کو بھی نقصان پہنچایا جائے گا۔‘
وسیم احمد نے کہا کہ ایک مزدور کے قتل کے بعد کمپنی انتظامیہ نے خاندانوں سے رابطہ کر کے مغویوں کی بازیابی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ’اتنے دن ہو گئے ہیں، گھر میں پریشانی کی وجہ سے کوئی چین سے سو نہیں سکا۔‘
وسیم احمد کے بقول مغوی مزدور انتہائی غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے گھر سے دُور مزدوری کر رہے تھے۔
’یہ روزانہ دیہاڑی پر کام کرتے ہیں اور انہی کی مزدوری سے ان کے گھروں کا چولہا جلتا ہے۔ ہم اغوا کاروں سے انسانی بنیادوں پر اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کو رہا کر دیں۔‘
دُکی پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ’باقی 11 مغوی مزدوروں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔‘
