بلوچستان: ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو کا اغوا، بازیابی کے لیے کوششیں
اتوار 20 ستمبر 2026 20:01
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
صوبائی حکومت نے تاحال اس واقعے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔( فائل فوٹو)
بلوچستان کے ضلع خاران سے ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو کو نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا ہے۔
صوبائی حکومت نے تاحال اس واقعے کی باضابطہ تصدیق یا اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے بھی رابطے کے باوجود اس بابت کوئی جواب نہیں دیا۔
تاہم صوبائی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار اور خاران میں تعینات ایک سرکاری افسر نے اردو نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈپٹی کمشنر کے اغوا کی تصدیق کی اور بتایا کہ واقعہ خاران سے تقریباً 35 سے 40 کلومیٹر پہلے نوشکی خاران شاہراہ پر پولیس تھانہ پتکن کی حدود میں برشونکی کے مقام پر پیش آیا۔
سرکاری عہدے دار کے مطابق منیر احمد سومرو اتوار کے روز کوئٹہ سے خاران کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ راستے میں انہیں اطلاع ملی کہ خاران سے پہلے نوشکی خاران شاہراہ پر نامعلوم افراد نے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
خاران میں تعینات سرکاری افسر نے بتایا ناکہ بندی کی اطلاع ملنے پر ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو نے خاران جانے کی بجائے اپنی گاڑی واپس کوئٹہ کی جانب موڑ لی۔
تاہم گاڑی اور موٹرسائیکلوں پر سوار تقریباً دو درجن مسلح شدت پسندوں نے ان کی گاڑی کا تعاقب کیا اور انہیں روک کر گاڑی اور گن مین سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے ساتھ موجود سول انتظامیہ اور پولیس کے بعض اہلکاروں سے بھی رابطہ نہیں ہو رہا جس وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں بھی مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے ہیں تاہم سرکاری افسر نے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ صرف ایک محافظ محمد یوسف کے اغوا کی تصدیق کی ہے۔
منیر احمد سومرو کا تعلق بلوچستان کے نصیرآباد ڈویژن سے بتایا جاتا ہے۔ وہ گزشتہ تقریباً دو برس سے ڈپٹی کمشنر خاران کے عہدے پر تعینات ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر سمیت دونوں مغویوں کی بازیابی کے لیے مقامی سطح پر قبائلی عمائدین کے ذریعے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
پتکن نوشکی اور خاران کے درمیان واقع علاقہ بتایا جاتا ہے جو پارود اور لجے کے پہاڑی سلسلوں کے قریب واقع ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کو ان دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کی طرف لے جایا گیا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے بلوچ شدت پسند تنظیموں کا گڑھ بتایا جاتا ہے۔
وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی 5 ستمبر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شورپارود کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پہاڑی سلسلے میں 1970 کی دہائی میں قائم ہونے کے بعد سے کالعدم تنظیموں کے کیمپ کبھی ختم نہیں ہوئے۔ انہوں نے ایسے پہاڑی علاقوں سے مقامی آبادی کو نکال کر آپریشن کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
خاران بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب کی جانب تقریباً 280 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ رخشان ڈویژن کا صدر مقام بھی ہے۔ اس کی سرحدیں نوشکی، چاغی، واشک اور قلات سمیت کئی اضلاع سے ملتی ہیں۔
یہ ضلع شورش اور بدامنی سے متاثرہ صوبے کے حساس اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ رواں برس جنوری میں بھی خاران شہر پر ایک بڑا حملہ ہوا تھا جس میں پولیس سٹیشن اور کئی بینکوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اگست میں نامعلوم مسلح افراد شہر میں داخل ہو کر تھانوں کو آگ دی تھی۔
بلوچستان میں ضلعی انتظامیہ کے افسران کو نشانہ بنانے کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔ اگست 2024 میں ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر حسین بلوچ کو مستونگ کے قریب مسلح افراد کی جانب سے ناکہ بندی کے دوران نہ روکنے پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا جبکہ مئی 2025 میں ضلع سوراب میں شدت پسندوں کے حملے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی ہلاک ہوئے تھے۔
اسی طرح جون 2025 میں کیچ کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی کو اغوا کیا گیا جس کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی اور تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
اگست 2025 میں زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل باقئی کو ان کے بیٹے سمیت اغوا کیا گیا تھا بیٹا بعد میں بازیاب ہو گیا مگر اسسٹنٹ کمشنر کی صورتحال کے بارے میں متضاد اطلاعات رہیں۔
اسی طرح جنوری 2026 میں نوشکی کے ڈپٹی کمشنر محمد حسین ہزارہ اور سسٹنٹ کمشنر ماریہ شمون کو بھی مربوط حملوں کے دوران کالعدم بی ایل اے کی جانب سے اغوا کیا گیا تھا تاہم انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔
خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کے اغوا کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔
