Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

3.2 ارب ڈالر کا آئی پی او دو گھنٹے میں مکمل، امبانی کے ’جیو‘ نے انڈیا میں انٹرنیٹ کا نقشہ کیسے بدلا؟

جیو پلیٹ فارمز کو میٹا، گوگل اور بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی حمایت حاصل ہے۔(فوٹو:رائٹرز)
انڈیا کے ارب پتی مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کے ٹیلی کام اور ڈیجیٹل کاروبار ’جیو پلیٹ فارمز‘ کا 3.2 ارب ڈالر کا آئی پی او بدھ کو بولیاں شروع ہونے کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل سبسکرائب ہو گیا۔
یہ انڈیا کی تاریخ کی سب سے بڑی شیئرز کی فروخت اور ریلائنس انڈسٹریز کی دو دہائیوں میں پہلی آئی پی او پیشکش ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، جیو کی آئی پی او پیشکش کو ایسے وقت میں غیر معمولی دلچسپی ملی ہے جب سرمایہ کار مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں کے کاروباری امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
جیو پلیٹ فارمز کو میٹا، گوگل اور بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی حمایت حاصل ہے۔ کمپنی کے ٹیلی کام کاروبار کے صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے زیادہ ہے، جس کے باعث یہ انڈیا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی اور ایک ملک میں صارفین کی تعداد کے لحاظ سے چین موبائل کے بعد دنیا کی دوسری بڑی ٹیلی کام آپریٹر ہے۔
انڈیا میں بڑے آئی پی اوز عموماً پہلے روز سست آغاز کرتے ہیں اور ادارہ جاتی سرمایہ کار اکثر بولیاں جمع کرانے کے لیے آخری وقت تک انتظار کرتے ہیں۔
حالیہ بڑے آئی پی اوز میں نیشنل سٹاک ایکسچینج کی پیشکش پہلے روز صرف 42 فیصد سبسکرائب ہوئی تھی، جبکہ ہنڈائی موٹر انڈیا کے آئی پی او میں یہ شرح 18 فیصد رہی تھی۔
سٹاک ایکسچینج کے اعداد و شمار کے مطابق، بدھ کو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے اپنے لیے مختص حصص کے مقابلے میں 3.25 گنا زیادہ بولیاں جمع کرائیں۔ اس کے برعکس خوردہ سرمایہ کاروں کی جانب سے اپنے کوٹے کے مقابلے میں اب تک صرف 0.22 گنا حصص کے لیے بولیاں موصول ہوئی تھیں۔
آئی پی او کا تقریباً ایک تہائی حصہ خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

جیو پلیٹ فارمز کی مالیت آئی پی او کے ذریعے 108.3 ارب ڈالر تک لگائی جا رہی ہے۔(فوٹو:رائٹرز)

فڈنٹ ایسٹ مینجمنٹ کے بانی ایشوریا دادھیچ نے کہا کہ انڈیا میں بڑے آئی پی اوز عموماً آخری دنوں میں مکمل سبسکرائب ہوتے ہیں، اس لیے جیو کے حصص کے لیے اتنی تیزی سے بولیاں آنا حیران کن ہے۔
ان کے مطابق، جیو نے ٹیلی کام مارکیٹ کا منظرنامہ بدل دیا ہے اور کمپنی کی مالیت مناسب ہونے کے ساتھ اس کے کاروباری امکانات بھی مضبوط ہیں۔
جیو پلیٹ فارمز کی مالیت آئی پی او کے ذریعے 108.3 ارب ڈالر تک لگائی جا رہی ہے۔
کمپنی کے حصص کی سٹاک مارکیٹ میں تجارت 28 اکتوبر سے شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس کے باوجود جیو کی متوقع مالیت حریف کمپنی انڈین ایئرٹیل سے کم ہے، جس کی مالیت بدھ کو 123.38 ارب ڈالر تھی۔
جیو نے رواں ہفتے عالمی اور انڈین سرمایہ کاروں کو 853 ملین ڈالر مالیت کے حصص مختص کیے، جن میں ابوظبی انویسٹمنٹ اتھارٹی اور بلیک راک بھی شامل ہیں۔

رائٹرز کے مطابق، ان سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصص کی طلب 25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔(فوٹو:رائٹرز)

روئٹرز کے مطابق، ان سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصص کی طلب 25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔
آئی پی او میں فی حصص قیمت 1,065 سے 1,119 انڈین روپے مقرر کی گئی ہے اور یہ پیشکش جمعے کو بند ہوگی۔ خوردہ سرمایہ کاروں کے علاوہ ریلائنس کے ملازمین اور موجودہ شیئر ہولڈرز بھی اس میں حصص خرید سکتے ہیں۔
 جیو نے ٹیلی کام مارکیٹ کیسے بدلی؟
جیو کا ٹیلی کام کاروبار 2016 میں اس حکمت عملی کے تحت شروع کیا گیا کہ انٹرنیٹ انتہائی کم قیمت پر دستیاب ہو تو انڈین صارفین اس کا زیادہ استعمال کریں گے۔
مکیش امبانی کے بیٹے آکاش امبانی کی قیادت میں کمپنی نے سستے ڈیٹا اور مفت وائس کالز کی پیشکش کے ذریعے تیزی سے مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھایا اور انڈین ایئرٹیل اور ووڈافون آئیڈیا جیسے حریفوں کو سخت مقابلہ دیا۔

جیو کی آمدنی کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ ٹیلی کام کاروبار سے حاصل ہوتا ہے۔(فوٹو:رائٹرز)

جیو کی آمدنی کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ ٹیلی کام کاروبار سے حاصل ہوتا ہے۔ مارچ میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران کمپنی نے تقریباً 15.5 ارب ڈالر آمدنی حاصل کی، جبکہ اس کا منافع تقریباً 3.2 ارب ڈالر رہا۔
مکیش امبانی نے 2019 میں جیو کو پانچ سال کے اندر سٹاک مارکیٹ میں فہرست کرانے کا وعدہ کیا تھا، تاہم یہ منصوبہ تاخیر کا شکار رہا۔ 2025 میں بھی آئی پی او مؤخر کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
روئٹرز کے مطابق، رواں سال مارچ میں ایران جنگ کے باعث سرمایہ کاروں کی دلچسپی متاثر ہونے کے بعد آئی پی او کا منصوبہ آگے بڑھا دیا گیا تھا۔ اب جیو نے پیشکش کے لیے ہندوؤں کے تہواروں کے موسم کا انتخاب کیا ہے، جسے انڈیا میں خریداری کے لیے مبارک سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ ہفتوں میں سٹاک مارکیٹ کی سرگرمیاں نسبتاً سست رہی ہیں۔
صنعت سے وابستہ ایک شخص نے روئٹرز کو بتایا کہ ریلائنس نے رواں ماہ اپنے چار لاکھ سے زائد ملازمین کو تنخواہیں معمول سے تقریباً 15 دن پہلے ادا کیں۔ کمپنی نے حالیہ ہفتوں میں آئی پی او میں دلچسپی رکھنے والوں کو شیئر اکاؤنٹس کھلوانے میں بھی مدد دی۔ ریلائنس نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

شیئر: