انڈیا میں ’ہر کال، ایپ اور گھر میں اے آئی‘، مکیش امبانی کا منصوبہ کیا ہے؟
کمپنی نے ’جیو کال ایجنٹ‘ نامی ایک اے آئی اسسٹنٹ متعارف کروایا (فوٹو: سی این این)
انڈیا کے معروف صنعت کار مکیش امبانی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں ایک بڑا منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز اے آئی کو فون کالز، موبائل ایپس اور گھروں کا لازمی حصہ بنانے جا رہی ہے۔
’ٹیک کرنچ‘ کے مطابق ’ریلائنس‘ کے سالانہ شیئر ہولڈرز اجلاس میں کمپنی نے ’جیو کال ایجنٹ‘ نامی ایک اے آئی اسسٹنٹ متعارف کروایا، جو فون کال کے دوران گفتگو کو سن کر اسے تحریری شکل دے سکے گا، اس کا خلاصہ تیار کرے گا اور صارف کی طرف سے مختلف کام جیسے ٹیکسی بک کرنا، کھانا آرڈر کرنا اور ریزرویشن کروانا بھی انجام دے سکے گا۔
یہ سروس ’ہیلو جیو‘ کہنے پر فعال ہوگی اور اسے رواں سال کے آخر تک جیو کے 50 کروڑ سے زائد صارفین کے لیے متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔
کمپنی نے اپنی مقبول ’مائی جیو‘ ایپ کا اے آئی ورژن بھی پیش کیا ہے، جس کے ذریعے صارفین عام زبان میں ہدایات دے کر ای سم ایکٹیویٹ کرنے، رومنگ پلان منتخب کرنے اور دیگر موبائل خدمات حاصل کر سکیں گے۔
اس کے علاوہ ’ٹیلی فریم‘ نامی سمارٹ ہوم ڈیوائس بھی متعارف کرائی گئی ہے، جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے موسم کی معلومات، روزمرہ شیڈول اور گھریلو یاد دہانیوں کو خودکار انداز میں صارف تک پہنچائے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 69 سالہ مکیش امبانی نے کہا کہ ’انڈیا کو صرف بیرونِ ملک تیار ہونے والی اے آئی ٹیکنالوجی کا صارف نہیں بلکہ اس کا تخلیق کار اور عالمی رہنما بننا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں اے آئی کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔‘
’ریلائنس‘ پہلے ہی ’گوگل‘، ’میٹا‘ اور ’این ویڈیا‘ جیسی عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر چکی ہے، جبکہ کمپنی نے رواں سال اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے 110 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا تھا۔
’ریلائنس‘ نے صحت، تعلیم، زراعت اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بھی نئی اے آئی سروسز متعارف کروائی ہیں، جن میں ’جیو ہیلتھ آئی کیو‘، ’جیو لرن آئی کیو‘، ’جیو کرشی آئی کیو‘ اور ’اے آئی ویاپار‘ شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ تمام سروسز انڈیا کی مختلف زبانوں میں دستیاب ہوں گی۔

دوسری جانب ریلائنس نے جیو پلیٹ فارمز کے متوقع آئی پی او کی تیاریوں میں بھی اہم پیش رفت کی ہے۔ کمپنی کے بورڈ نے ابتدائی عوامی پیشکش کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 27 کروڑ تک نئے شیئرز جاری کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم اے آئی سروسز کے پھیلاؤ کے ساتھ ڈیٹا پرائیویسی اور صارفین کی معلومات کے استعمال سے متعلق سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ’تمام خدمات صارف کی اجازت سے کام کریں گی، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حاصل کردہ ڈیٹا اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہوگا یا نہیں۔‘
ماہرین کے مطابق ’انڈیا میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں تیزی سے اے آئی میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور ریلائنس، ٹاٹا، انفوسس اور اڈانی گروپ اس دوڑ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔‘
ریلائنس کے لیے یہ منصوبے خاص طور پر اہم ہیں کیونکہ کمپنی جیو کی ممکنہ اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ کی تیاری کر رہی ہے اور مستقبل میں ترقی کے نئے مواقع تلاش کر رہی ہے۔
