فیشن کی دنیا میں اکثر لباس صرف زیبائش کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے لیکن دنیا کے امیر ترین افراد میں شمارے ہونے والے انڈین تاجر مکیش امبانی کی اہلیہ نیتا امبانی نے گزشتہ چند برسوں میں اپنی ساڑھیوں کے انتخاب سے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک لباس ثقافت، تاریخ، دستکاری اور قومی ورثے کی نمائندگی بھی کر سکتا ہے۔
ریلائنس فاؤنڈیشن اور ’سودیش‘ کے اقدام کے تحت انڈین ہینڈلوم اور دستکاروں کی سرپرستی کرنے والی نیتا امبانی جہاں بھی جاتی ہیں، ان کا لباس کسی نہ کسی قدیم ہندوستانی فن کی کہانی سناتا نظر آتا ہے۔
حال ہی میں اپنے ممبئی کے گھر میں منعقد ہونے والی ایک مذہبی رسم کے دوران نیتا امبانی نے ہاتھی دانت اور شیمپین رنگ کی ایک دلکش جامدانی ساڑھی زیب تن کی، جس نے فیشن کے حلقوں میں غیرمعمولی توجہ حاصل کی۔
مزید پڑھیں
فیشن میگزن ووگ انڈیا کے مطابق اس ساڑھی کی سب سے نمایاں خصوصیت اس پر بنائے گئے بھگوان کرشن کے اپلیکی نقش تھے۔ اس میں ہندو دیوتا کرشن کے دونوں جانب گائیں اور ناریل کے درخت دکھائے گئے ہیں، جنہیں سونے اور چاندی کے دھاگوں سے نہایت باریکی سے ابھارا گیا ہے۔ گلابی، نیلے، سبز اور سفید رنگ کی نفیس موتیوں کی کڑھائی نے ان نقشوں کو مزید جاذبِ نظر بنا دیا، جبکہ ساڑھی کے کنارے پر سنہری پھولدار بیل اور ہلکے آڑوئی رنگ کی لہردار بارڈر اس کے حسن میں اضافہ کر رہی تھی۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اس ساڑھی کو معروف ساڑھی ڈریپر پوجا دھنورے نے روایتی ’سیدھا پلو‘ انداز میں سجایا، جو خاص طور پر گجرات اور راجستھان میں مقبول ہے۔ نیتا امبانی نے اس کے ساتھ شیمپین رنگ کا بلاؤز پہنا جس پر زری اور گوٹا پٹی کی نفیس کڑھائی کی گئی تھی۔ ہیروں کا تہہ دار ہار، ڈائمنڈ چوڑیاں، انگوٹھی، کانوں کے بندے، سرخ بندی، کاجل آلود آنکھیں اور تازہ پھولوں سے سجا جوڑا ان کی شخصیت کو کلاسیکی ہندوستانی انداز عطا کر رہا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ نیتا امبانی نے کسی قدیم ہندوستانی دستکاری کو عالمی سطح پر نمایاں کیا ہو۔
رواں سال نیویارک میں منعقد ہونے والے ٹائم100 اجلاس میں انہوں نے مغربی بنگال کے ضلع نادیہ کے شہر پھولیا کے معروف بُنکر اور پدم شری اعزاز یافتہ بیرن کمار باسک کی تیار کردہ سودیش کی جامدانی ساڑھی پہن کر ہندوستانی ہینڈلوم کی نمائندگی کی۔

اس کی بنائی میں پورے 24 ماہ صرف ہوئے۔ جبکہ دو کاریگروں نے اس پر کام کیا۔ اس کے بعد اس پر مزید کام کے لیے پانچ ماہ مزید لگے۔
اسی طرح گجرات کے گیر جنگل کے دورے میں انہوں نے طراح ترون تہلیانی کی بنائی ہوئی جاماور ساڑھی کا انتخاب کیا، جبکہ امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں اے اے پی آئی ہیومنٹیرین ایوارڈ وصول کرتے وقت انہوں نے سودیش کی کانجی ورم ریشمی ساڑھی پہنی، جس پر تنجاور آرٹ سے متاثر ہاتھ سے بنائی گئی مصوری تھی۔ اس ساڑھی کی تخلیق قومی ایوارڈ یافتہ دستکار بی کرشن مورتی نے کی تھی اور اس میں مور، چکرم اور خالص سونے کی زری سے بنے روایتی نقوش نمایاں تھے۔
کانجی ورم ساڑھی کی تاریخ تقریباً چار سو برسوں پر محیط ہے اور اس کا تعلق انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے مقدس شہر کانچی پورم سے ہے، جہاں ریشم بُننے کی روایت صدیوں سے جاری ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہاں کے بُنکر مہارشی مارکنڈیہ کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں ہندو دیوتاؤں کا عظیم بُنکر تصور کیا جاتا ہے۔ کانجی ورم ساڑھی کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کا باڈی، بارڈر اور پلو الگ الگ نہیں جوڑے جاتے بلکہ ایک ہی وقت میں کھڈی پر ’کورَوائی‘ اور ’پیٹنی‘ تکنیک کے ذریعے بُنے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ساڑھیاں اپنی مضبوطی، چمک اور پائیداری کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔
اسی طرح جامدانی بھی ہندوستان کی قدیم ترین ہینڈلوم روایات میں شمار ہوتی ہے۔ یہ نہایت باریک ململ کے کپڑے پر ہاتھ سے بُنی جاتی ہے اور ہر نقش الگ الگ دھاگے کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ ایک اعلیٰ معیار کی جامدانی ساڑھی تیار کرنے میں کئی ہفتے بلکہ بعض اوقات کئی مہینے لگ جاتے ہیں۔ مغربی بنگال کے نادیہ اور بردوان اضلاع آج بھی جامدانی بُنائی کے اہم مراکز مانے جاتے ہیں۔













