پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں بدلنا ہوگا: صدر زرداری
جمعرات 22 اکتوبر 2026 17:24
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے جمعرات کو لاہور میں منعقدہ ریئل اسٹیٹ نمائش کے دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔ نمائش میں دونوں ممالک کے پراپرٹی ڈویلپرز اور سرمایہ کار شریک ہیں۔
تین روزہ سعودی پاکستان ریئل اسٹیٹ نمائش جمعے تک جاری رہے گی۔ اس میں سعودی کمپنیاں مکہ اور مدینہ میں اپنے رہائشی اور دیگر تعمیراتی منصوبے پیش کر رہی ہیں۔
ایوانِ صدر کے مطابق نمائش میں شریک کمپنیاں پاکستان میں ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔
یہ نمائش سعودی عرب کی جانب سے جنوری میں غیر ملکیوں کے لیے جائیداد کی ملکیت سے متعلق قواعد میں نرمی کے بعد منعقد ہو رہی ہے، جس سے پاکستانی خریداروں کے لیے بھی وہاں جائیداد خریدنے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
تاہم اس ضمن میں جائیداد کے محل وقوع اور نوعیت سے متعلق پابندیاں لاگو ہوں گی۔ دوسری جانب پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی سرمایہ کاری میں اضافے کا خواہاں ہے۔
ایوانِ صدر کے سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر زرداری نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری، سرمایہ کاری میں اضافے اور دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند کاروباری مواقع میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
’صدر نے کہا کہ سعودی عرب نے مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔‘ انہوں نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو قریب لانے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور زور دیا کہ پاکستان میں غیر ملکی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جائیں۔
ایوانِ صدر کے مطابق، لاہور کے لیک سٹی میں منعقدہ نمائش میں سعودی ریئل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کے شعبوں سے وابستہ کمپنیوں نے شرکت کی۔
ان میں صفا انویسٹمنٹ، نالج اکنامک سٹی، سمو انویسٹمنٹ، المجیدیہ، اولو ریئل اسٹیٹ، الدیار العربیہ، بن داؤد انویسٹمنٹ اور انٹرنیشنل گیٹ انویسٹمنٹ شامل ہیں۔
سعودی۔پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود اور کونسل کے نائب چیئرمین عبدالعزیز الاشرفی بھی نمائش میں شریک ہیں۔
دورۂ لاہور کے دوران صدر آصف علی زرداری کو شریک کمپنیوں کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب طویل عرصے سے قائم مالیاتی اور سکیورٹی تعلقات کے ساتھ ساتھ تجارتی روابط کو بھی وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دونوں ممالک کی کاروباری کمپنیوں نے 2024 میں مجموعی طور پر 2 ارب 80 کروڑ ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا اعلان کیا تھا۔
