روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کا عبوری حکم دینے سے انکار

نئی دہلی۔۔۔سپریم کورٹ نے ہند میں روہنگیاپناہ گزینوں کو میانمار واپس بھیجنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف درخواست پر  سماعت کے بعد حکومت کوئی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کردیا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا ، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے روہنگیا پناہ گزین سلیم اللہ اور محمد شاکر کی درخواست پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت کوکوئی عبوری حکم دینے سے انکار کیا تاہم عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت کو ایک تفصیلی رپورٹ دینے کا حکم دیا ۔ درخواست دہندگان کی طرف سے مشہور وکیل پرشانت بھوشن نے گزشتہ روز بنچ کے سامنے یہ معاملہ پیش کیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ حکومت نے ہندوستان میں پناہ لئے ہوئے تقریباً 40ہزار روہنگیا مسلمانوں کو ان کے ملک واپس بھیجنے کا فیصلہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کے خلاف ورزی ہے۔لہذا اس معاملے کی فوری سماعت کی جانی چاہئے۔ عدالت نے ان کے دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت کیلئے پیرکی تاریخ مقررکی تھی۔ دونوں روہنگیاپناہ گزینوں نے درخواست میں کہا کہ میانمار میں ان کے خلاف تشدد ہورہا ہے اور انہیں واپس بھیجنے کا فیصلہ مختلف بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

شیئر: