Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلسطینی مصنفہ کو نکالنے پر 180 رائٹرز کا بائیکاٹ، آسٹریلیا کا ادبی فیسٹیول منسوخ

مصنفین کے بائیکاٹ کے بعد بورڈ کے ارکان بھی مستعفی ہو گئے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
آسٹریلیا کے رائٹرز فیسٹیول میں فلسطینی مصنفہ کو شرکت سے روکے جانے پر تنازع کھڑا ہو گیا جس کے بعد ایونٹ کو کینسل کر دیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایونٹ میں فلسطینی نژاد آسٹریلوی مصنفہ نے بھی شریک ہونا تھا تاہم ان کو روکے جانے پر 180 مصنفین نے ایونٹ کا بائیکاٹ کر دیا اور ڈائریکٹر نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا کہ وہ فلسطینی مصنفہ کی آواز دبانے کی حصہ دار نہیں بن سکتیں۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ بونڈائی بیچ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد مظاہروں اور نعروں پر پابندی لگانا آزادی اظہار رائے کے لیے خطرناک ہے۔
ہولو کاسٹ میں زندہ بچ جانے والے ایک یہودی کی بیٹی لاؤز ایڈلر نے منگل کے روز کہا کہ وہ فروری میں ہونے والے ایڈیلیڈ رائٹرز ویک میں اپنے کردار سے دستبردار ہو رہی ہیں۔
یہ اقدام ایونٹ کے بورڈ کی جانب سے ایک فلسطینی نژاد آسٹریلوی کے دعوت نامے کو روکنے کے بعد سامنے آیا۔
ناول نگار اور ماہر تعلیم رندا عبدالفتاح کا کہنا ہے کہ ان پر پابندی ’فلسطین مخالف نسل پرستی اور سنسرشپ‘ کا ایک واضح عمل ہے۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البنانیز نے منگل کو اعلان کیا کہ 22 جنوری کے دن کو قومی سوگ کے طور پر منایا جائے گا اور اس روز ان 15 افراد کو یاد کیا جائے گا جو پچھلے مہینے بونڈائی میں ہونے والی یہودیوں کی تقریب پر فائرنگ کے نتیجے میں جان سے گزر گئے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے افراد مبینہ طور پر داعش سے متاثر تھے جس کے بعد اینٹی سیمٹیزم سے نمٹنے کے مطالبات زور پکڑ گئے تھے جس پر حکومت کی جانب سے نفرت انگیز تقریروں پر پابندی مزید سخت کی گئی۔

15 دسمبر کو بونڈائی بیچ پر ہونے والے حملے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

ایڈیلیڈ فیسٹیول بورڈ کا کہنا ہے کہ عبدالفتاح کے دعوت نامے کو معطل کرنے کا فیصلہ پچھلے ہفتے ہوا تھا وار اس بنیاد پر کیا گیا کہ یہ ثقافتی لحاظ سے زیادہ حساس نہیں ہو گا کیونکہ یہ بونڈائی بیچ کے واقعے کے فوراً بعد کیا گیا اور ایسا اس کمیونٹی کے احترام میں کیا گیا جس کو اس واقعے سے بہت تکلیف پہنچی تھی۔
بورڈ کے بیان کے مطابق ’ایسا ہونے کے بجائے فیصلے سے مزید تقسیم سامنے آئی جس کے لیے ہم دلی طور پر معذرت خواہ ہیں۔‘
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اب ایونٹ کو آگے نہیں بڑھایا جائے گا اور بورڈ کے باقی ارکان استعفے دے دیں گے۔
آسٹریلوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن، برطانوی مصنفہ زیدی سمتھ، آسٹریلوی منصف کیتھی لیٹ، پلٹیزر پرائز ونر امریکی پرسیول ایوریٹ اور سابق یونانی وزیر خزانہ یانس وروفاکیس ان مصفین میں شامل ہیں جنہوں نے واضح کیا کہ ’وہ اب ملک کے جنوبی حصے میں ہونے والے فیسٹیول میں دکھائی نہیں دیں گے۔‘

بورڈ کے ارکان نے واقعے پر معذرت بھی طلب کی ہے (فوٹو: ایڈیلیڈ رائٹرز)

فیسٹیول کے بورڈ نے عبدالفتاح سے اس انداز پر معذرت بھی طلب کی ہے جس طرح ان کو مطلع کیا گیا تھا۔
بیان کے مطابق ’اس کا شناخت یا اختلاف رائے سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد تیزی سے چھڑنے والی اس قومی بحث سے ہے جو اظہار رائے کی آزادی کی وسعت سے متعلق ہے۔‘
عبدالفتاح نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ معذرت قبول نہیں کرتیں کیونکہ ان کا بونڈائی بیچ حملے کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں اور نہ وہی وہ کسی فلسطینی نے کیا تھا۔
لاؤز ایڈلر نے اس سے قبل نے دی گارڈین میں لکھا تھا کہ ’رندا عبدالفتاح کا دعوت نامہ معطل کرنے کا بورڈ کا اقدام آزادی اظہار رائے کو مزید کمزور کرے گا اور ایک کم آزاد ملک کو ظاہر کرے گا جہاں لابنگ اور سیاسی دباؤ کے تحت یہ طے ہوتا ہے کہ کون بولے گا کون نہیں؟‘

شیئر: